چند تاریخی مثالیں
Al-Risala, December 2003, pp. 84–87
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، قرآن میں ایھا الکافرون کے انداز میں خطاب کی مثال صرف منکرینِ مکہ کے لیے آئی ہے اور وہ بھی تیرہ سال کے پیغمبرانہ اتمام حجت کے بعد۔ منکرینِ مکہ کے سوا کسی اور کو اس مشخص انداز میں خطاب نہیں کیا گیا۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے جب مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو ابتدائی دور میں آپ نے اس طرح خطاب نہیں کیا کہ یا ایہا الکفار۔ بلکہ قرآن میں یہ آیت اتری: یا ایہا الانسان ما غرك ہجرت کے بعد صحیفہ مدینہ کا ایک جملہ یہ تھا : للیہود دینہم وللمسلمین ایسا نہیں ہوا کہ یہ لکھا جائے کہ للکفار دینہم وللمسلمین دینہم فتح مکہ کے بعد عرب کے مشرک قبائل کے وفود رسول اللہ سے گفت وشنید کے لیے مدینہ آئے۔ مگر یہاں بھی خطاب کا انداز یہی تھا : مثلاً یمن کے لوگ مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا کہ : اتاکم اہل الیمن۔ بجائے آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اتاکم کفار الیمن۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اطراف عرب کے حکمرانوں کو دعوتی مکاتیب روانہ کیے تو اُن کا انداز بھی یہی تھا۔ مثلاً آپ نے رومی حکمران کو جو خط لکھا اُس کا پہلا جملہ یہ تھا: من محمد بن عبد الله الى هرقل عظیم الروم۔ اس کے بجائے آپ نے یہ نہیں لکھا کہ الی هرقل کافر الروم۔ حجۃ الوداع کے خطبہ میں آپ نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ان الله بعثنى كافة للناس فآدّوا عنی۔ اس میں بھی آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان الله بعثنى كافة للكفار ۔ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں صحابہ کی فوج ایران میں داخل ہوئی تو روایات کے مطابق، وہاں ایران کے غیر مسلم حکمراں کو خطاب کرتے ہوئے ایک صحابی نے اپنے آنے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا: لنخرج العباد من عبادة العباد الى عبادة الله ۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ یہ کہیں کہ لنخرج الکفار من عبادة الكفار الى عبادة الله۔ اس طرح دورِ اوّل کے مسلمان جب عرب سے نکل کر بیرونی ملکوں میں پھیلے تو کسی بھی ملک میں انہوں نے لوگوں کو کافر یا کفار کے الفاظ سے خطاب نہیں کیا بلکہ ہر قوم کو اُسی لفظ سے خطاب کیا جس لفظ کو اُس نے خود اختیار کر رکھا تھا۔ مثلاً مسیحی کو مسیحی، یہود کو یہود، مجوس کو مجوس، بَودھ کو بَودھ، وغیرہ۔ کافر کا تحقق اُس وقت ہوتا ہے جب کہ متعلقہ شخص کے اوپر کامل اتمام حجت کیا جا چکا ہو اور اس اتمام حجت کا ماڈل صرف ایک ہے۔ اور وہ پیغمبر اسلام کے دور میں مکہ کی تیرہ سالہ دعوتی جدوجہد ہے۔ تیرہ سالہ دعوتی عمل ہمیشہ کے لیے دعوت یا اتمام حجت کے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ اتمامِ حجت
کے بعد بھی متعین طور پر کسی کے کافر ہونے کا اعلان خدا کی طرف سے ہوگا، نہ کہ داعی کی طرف سے۔ قریش کی مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سال پیدائش ۵۷۰ میں ایک بڑا واقعہ ہوا۔ یمن کے عیسائی حاکم ابرہہ نے ایک بڑی فوج کے ساتھ مکہ کی طرف اقدام کیا۔ اُس کا ارادہ تھا کہ وہ کعبہ کو ڈھادے۔ مگر اللہ کی خصوصی مدد کی بنا پر اُسے کامیابی نہیں ملی۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۵ میں اس تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
۶۱۰ء میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو نزولِ قرآن کے اس ابتدائی زمانہ میں قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۶ اتری۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: اس واسطے کہ قریش مانوس ہوئے، جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس۔ تو اُن کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے اُن کو بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے اُن کو امن دیا۔ ۴) اس سورہ میں قریش کو صرف قریش کہا گیا، نہ کہ کفار یا کفار قریش۔
پیغمبر اسلام توحید کے داعی تھے۔ آپ نے مکہ میں اپنی دعوت شروع کی تو مسلسل تیرہ سال تک اسی انداز میں لوگوں کو پکارتے رہے کہ اے قریش کے لوگو، اے انسانو، اے میری قوم۔ دعوتی مہم کی اس پوری مدت میں آپ نے کبھی کافر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ فریق ثانی کی طرف سے ہر قسم کی زیادتیاں کی گئیں۔ لیکن اُن کے لیے آپ کی خیر خواہی کا جذبہ ختم نہیں ہوا۔ اُن کی ایذاؤں پر یک طرفہ صبر کرتے ہوئے آپ نے اپنی پر امن دعوتی جدوجہد جاری رکھی۔ آخر کار تیرہ سال بعد قرآن میں سورہ نمبر ۱۰۹ اتری۔ اس میں پہلی بار خدا کی طرف سے ان الفاظ میں اعلان کیا گیا کہ: قل یا ایہا الكفرون (کہہ دو کہ اے انکار کرنے والو)
اس سے معلوم ہوا کہ کافر (منکر) کا لفظ ایک صفت کو بتاتا ہے، نہ کہ کسی قوم کو۔ اگر کافر سے مراد کوئی قوم ہوتی تو قرآن میں آیت کے الفاظ لایلف قریش کے بجائے لایلف الكفار ہونا چاہئے تھا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ کافر کا لفظ صفت انکار کو بتانے کے لیے ہے، نہ کہ قومی تعلق کو بتانے
مزید یہ کہ اس بات کا تحقق کہ کسی کے اندر صفت انکار ہے یا نہیں، قیاس کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ حقیقی تجربہ کی بنیاد پر ہوگا۔ اور وہ تجربہ یہ ہے کہ پیغمبر کی سطح پر کم از کم تیرہ سال تک اعلیٰ ترین معیار کی دعوتی جدوجہد چلائی جائے۔ اس کے بغیر خود پیغمبر کے زمانہ میں بھی کسی کو کافر کہنا درست نہیں۔ برصغیر ہند میں برٹش حکومت کے زمانہ میں اہل اسلام کے درمیان یک مبتدعانہ رواج ظہور میں آیا جس کو مناظرہ کہا جاتا ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دعوت کے بجائے مناظرہ بازی شروع ہوئی جس نے دونوں فرقوں کے درمیان غیر معتدل فضا پیدا کرنے کا کام کیا۔ مناظر نے ہندو کے خلاف کتاب لکھی اور اُس کو کفر توڑ کے نام سے شائع کیا۔ اس کے بعد ہندو مناظر نے مسلمانوں کے خلاف کتاب لکھی جو کفر توڑ کا بھانڈہ پھوڑ کے نام سے شائع کی گئی۔ اسلام کا طریقہ دعوت ہے نصح (خیر خواہی) اور شفقت اور ایک طرفہ صبر کے اصول پر جاری جب کہ مناظرہ (debate) کا مقصد فریق ثانی کو شکست دینا ہوتا ہے۔ مناظر کا نشانہ فریق ثانی کو ہرانا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس قسم کی زبان بولتا ہے کہ اُن کے اوپر بلڈوزر چلا دو: Bulldoze them all. اس سے دونوں گروہوں کے درمیان نفرت اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے جو طرح طرح کے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔