یک خط
Al-Risala, December 2003, pp. 89–90
By Maulana Wahiduddin Khan
برادر محترم جناب ہارون شیخ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ کل شام کو جناب عبد السلام اکبانی صاحب نے ٹیلی فون پر بتایا کہ آپ کی والدہ کا انتقال انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جنوبی کوریا سے ۱۷ اگست کو آتے ہوئے میں ممبئی کے راستہ سے واپس ہوسکتا تھا۔ اس طرح مجھے آپ کی والدہ محترمہ کی آخری رسوم میں شریک ہونے کی سعادت مل مگر شاید ایسا ہونا مقدر نہ تھا۔
اسلام کی یک عجیب تعلیم دعا ہے۔ دعا کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ کسی کے ساتھ اگر عملی اعتبار سے کوتاہی ہوجائے تو انسان کو چاہئے کہ وہ اُس کے حق میں نیک دعائیں میں دعا کے ساتھ آپ کے جذبات میں شریک ہوتا ہوں۔ اللہ تعالی مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ اُن کے ساتھ ہمارے لیے بھی جنت میں داخلہ کی صورت پیدا فرمائے۔ ماں بلاشبہ ہر مرد وعورت کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ مگر غالباً ماں کی سب سے زیادہ انوکھی اور امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ انسان کے لیے رحمت خداوندی کا ایک عملی تعارف ہے۔ خدا تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہے۔ عام حالات میں یہ ایک نظری عقیدہ ہے مگر ماں کی صورت میں خدا نے اپنی اس صفت کو پیشگی طور پر دکھادیا ہے۔ ماں کی شفقت اور محبت میں ہر بندہ خدا کے لیے اس امید کا سامان موجود ہے کہ اُس کا خدا اُس کے ساتھ ایک طرفہ طور پر رحمت کا معاملہ فرمائے گا، جیسا کہ ماں ہر حال میں اپنی اولاد کے ساتھ ایک طرفہ طور پر رحمت کا معاملہ کرتی ہے۔ ماں کی وفات عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب کہ اس کی اولاد ابھی دنیا میں زندہ رہتی ماں کی وفات کا یہ پہلو اپنے اندر ایک اور اہم نصیحت رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ ماں دنیا سے رخصت ہو کر اپنے پس ماندگان کو بتاتی ہے کہ اسی طرح تمہیں بھی رخصت ہونا ہے۔ ماں اپنی عمر پوری کر کے یہ پیغام دیتی ہے کہ اے زندہ رہنے والو، یاد رکھو کہ تمہارا بھی کاؤنٹ ڈاؤن ہورہا ہے۔
تمہیں بھی ایک دن اپنی موت سے دوچار ہونا ہے۔
یہ یاددہانی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ سوتے ہوئے انسان کو جگانے کے ہم معنی ہے۔ غیر متحرک لوگوں کو حرکت میں لانے کا ذریعہ ہے۔ یہ اس بات کی یاددہانی ہے کہ اے لوگو، اب وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ بھر پور طور پر استعمال کرو، اس سے پہلے کہ اپنے وقت کو استعمال کرنے کا موقع ہی ختم ہو جائے۔
قرآن کے مطابق، موت ہر پیدا ہونے والے کے لیے مقدر ہے۔ موت بلاشبہ ہر انسان کے لیے سب سے بڑا حادثہ ہے۔ مگر خدا نے حیرت انگیز طور پر اس کو ہمارے لیے رحمت کا سبب بنا دیا قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب موت کا تجربہ پیش آئے تو پسماندگان کو چاہئے کہ وہ صبر کا طریقہ صبر کرنے والوں کے لیے عظیم انعام کی بشارت ہے۔
اس طرح کے معاملہ میں صبر کرنا کیوں خدائی انعام کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ صبر دراصل خدا کے فیصلہ پر راضی ہونے کے ہم معنی ہے۔ بلاشبہ کسی بندہ کے لیے یہ سب سے بڑی سعادت ہے کہ خدا اس کے لیے ایک ناپسندیدہ چیز کا فیصلہ کرے اور وہ اُس خدا کی طرف سے سمجھ کر اُس پر دل سے راضی ہو جائے۔ اس قسم کی موت اپنے پسماندگان کے لیے اسی عظیم خدائی انعام کا
یہ بھی خدا کی ایک عجیب رحمت ہے کہ جانے والا تو چلا گیا۔ اُس کو اپنے مقرر وقت پر جانا ہی مگر اس واقعہ میں خدا نے اپنی رحمت سے یہ نا قابل بیان حد تک قیمتی پہلو رکھ دیا کہ پسماندگان اگر اُس کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اُس پر راضی ہو جائیں تو خدا ان کی اس رضامندی کی اس طرح قدر دانی کرے گا کہ جو چیز انہوں نے کھوئی ہے وہ مزید اضافہ کے ساتھ انہیں واپس مل جائے۔ موت کا واقعہ بظاہر ایک حادثہ ہے مگر اس دنیا میں ہر مائنس کے ساتھ پلس موجود ہوتا ہے۔ بلاشبہ موت کا واقعہ اس عام قانون سے مستثنیٰ نہیں۔
نئی دہلی ۲۳ اگست ۲۰۰۳