Al-Risala · February 2003

نصیحت پذیری

Al-Risala, February 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی انسان کو جب حق کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی سوچ ایمانی سوچ بن جاتی ہے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ انسان بن جاتا ہے۔ اسی ایمانی سنجیدگی کا ایک پہلو وہ ہے جس کو نصیحت پذیری کہا جاسکتا ہے۔ قرآن میں اس کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً تذکر (الزمر ۹) اعتبار (المؤمنون ۲۱) تو سم (الحجر ۷۵) ، وغیرہ۔ اسی طرح حدیث میں بھی اسی قسم کے الفاظ وارد مثلاً و صمتي فكرا و نظری عبرةً (مشکوۃ المصابیح یعنی میری خاموشی سوچ کی خاموشی ہو اور میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔

ایمان یا حق کی معرفت بھی بذات خود اسی نوعیت کی ایک چیز ہے۔ ایمانی معرفت کیا ہے۔ یہ ہے کہ آدمی مخلوقات پر غور کر کے خالق کو دریافت کرے۔ وہ دیکھنے والی دنیا کے اندر غیب کی دنیا کو قرآن کے الفاظ میں، وہ آیات (خارجی نشانیوں) کے ذریعہ داخلی حقیقتوں کو جان لے۔ بصارت کے ساتھ بصیرت کی استعداد حاصل کرلے۔

تدبر و تفکر مومن کا عام مزاج ہوتا ہے۔ اُس کا یہ مزاج ہمیشہ اور ہر جگہ قائم رہتا ہے۔ اُس کو دائمی طور پر اللہ کی یاد کرنے والا بنا دیتا ہے۔ وہ ہر دن ایسی باتیں دریافت کرتا رہتا ہے جو اُس کے ایمان و یقین میں اضافہ کرنے والی ہوں۔ دوسرے لوگ ظواہر میں صرف ظواہر کو دیکھتے ہیں، مگر مومن اپنے اس مزاج کی بنا پر ظواہر میں حقائق کو دریافت کر لیتا ہے۔ تدبر اور تفکر کے اس عمل کے لیے کسی تنہائی یا مخصوص مقام کی ضرورت نہیں۔ یہ عمل مومن کے دماغ میں ہر لمحہ جاری رہتا ہے، حتیٰ کہ دنیا کے بھرے ہوئے ہنگاموں میں بھی وہ اُس سے منقطع نہیں ہوتا۔

نصیحت پذیری مومن کی روحانی خوراک ہے۔ مومن کے لیے مادی غذا اگر جسمانی تقویت کا ذریعہ ہے تو عبرت و نصیحت اُس کے لیے روحانی غذا کی حیثیت رکھتی ہے۔ مادی غذا کے بغیر جسم صحت مند نہیں رہ سکتا، اسی طرح فکری غذا کے بغیر روحانیت کا ارتقاء ممکن نہیں۔

Printed page