Al-Risala · February 2003

کیرلا کا سفر

Al-Risala, February 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

کیرلا میں ٹریونڈرم سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک بڑا آشرم ہے جس کا نام شانتی گری آشرم ہے۔ اس آشرم کے بانی اور گرو کا نام برہما شری کروناکراگرو ہے۔ بوقتِ تحریر ان کی عمر ۷۲ سال تھی۔ یہ آشرم ۱۹۶۸ میں قائم کیا گیا۔ اس آشرم میں ہر سال اس کا سالانہ جلسہ ہوتا ہے۔ اس جلسہ کے منتظمین کی طرف سے مجھے اس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا۔ اس کے مطابق، میں نے کیرلا کا سفر کیا۔ ۲۸ فروری ۱۹۹۹ کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی۔

۲۸ فروری ۱۹۹۹ء کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے دہلی ایرپورٹ پہنچا۔ نیا ایرپورٹ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے۔ میں اُس کے اندر کھڑا ہوا تو اُس کی وسعت میرے ذہن میں صحرائے حیات کی وسعت میں تبدیل ہو گئی۔

میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں انسان گویا ایک عظیم صحرا میں کھڑا ہوا ہے۔ وہ رازِ حیات جاننا چاہتا ہے مگر کوئی درخت یا پہاڑ اُس سے نہیں بولتا۔ کوئی ستارہ یا سیارہ اُس سے ہم کلام نہیں ہوتا۔ خاموش دنیا میں وہ حیران کھڑا ہوا ہے۔ اس کے بعد اس کے سامنے خدا کا پیغمبر آتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کا فرستادہ ہوں اور تم کو خدا کا یہ پیغام دیتا ہوں۔

انسان کے لیے یہ کیسی عجیب راحت ہے۔ عقیدہ کے اعتبار سے یہاں بہت سے پیغمبر آئے مگر ان کی شخصیت اور ان کا پیغام تاریخ کے اندھیروں میں گم ہے۔ یہاں صرف ایک ہی قابلِ یقین پیغمبر ہے اور وہ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہیں۔ ایک متلاشی روح کے لیے یہ بلاشبہ ایک عظیم نعمت ہے۔ ڈاکٹر نُشی کانت چٹو پادھیائے نے لمبی تلاش کے بعد جب پیغمبر اسلام کو پایا تو وہ چیخ اٹھے: What a relief to find after all a truly historical Prophet to believe in. دہلی سے انڈین ائر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہ جہاز بمبئی ہوتے ہوئے ٹریونڈرم

فلائٹ نمبر ۷ ۱۶ کے اندر میں بیٹھا ہوا تھا۔ ابھی جہاز ائیر پورٹ پر کھڑا تھا۔ جہاز کے اندر لوگ آتے اور جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ہر ایک اپنی سیٹ تک پہنچنے کے لیے سرگرم تھا۔ درمیان میں ایک آدمی کا بیگ دوسرے آدمی سے ٹکرا گیا۔ پیچھے والے نے کہا: sorry، دوسرے نے کہا: no problem، اور بات ختم ہو گئی۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا کلچر ہے۔ اس کے برعکس بے پڑھے لکھے لوگوں کا کلچر یہ ہے کہ ایسے موقع پر ایک شخص کہے گا’’ اندھے ہو‘‘ دوسرا بولے گا’’ گدھے ہو‘‘۔ پھر دونوں ایک دوسرے سے لڑنے لگیں گے۔ ہر آدمی کے لیے سب سے پہلی اہم چیز یہ ہے کہ وہ تعلیم مگر عجیب بات ہے کہ ہندوستان میں یہی چیز سب سے کم ہے۔ نئے ہندوستان کی تمام خرابیوں کی جڑ ہماری قوم کا تعلیم میں پچھڑا ہوا ہونا ہے۔

۱۹۴۷ سے پہلے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے مہاتما گاندھی سے کہا کہ آپ پہلے لوگوں کو شکچھا اس کے بعد آزادی لائیے۔ ورنہ آزادی آپ کے لیے بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ نے جواب دیا کہ میرے دیش کے لوگ شکچھت ہیں مگر وہ اگیانی نہیں ہیں۔ لیکن تجربہ نے بتایا کہ شکچھت لوگ ہمیشہ اگیانی ہی ہوتے ہیں۔

جہاز کے اندر ایک صاحب نے اپنی جیب سے سیلولر ٹیلی فون نکالا اور ایک لمحہ میں ربط قائم کر کے باہر کسی سے بات کرنے لگے۔ اس وقت ایک عجیب احساس میرے دل میں پیدا ہوا۔ سامنے پوری جدید دنیا اپنی تمام ترقیوں کے ساتھ گھوم گئی۔ میں نے سوچا کہ یہ تمام ترقیاں زمین کے اندر چھپی ہوئی تھیں۔ غیر معمولی کوشش سے جن لوگوں نے ان امکانات کو باہر نکالا اور ان کو قابلِ استعمال بنایا وہ سب کی سب مغربی قومیں تھیں۔ اس کے بعد قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ وہ دنیا کے تمام مواقع پر قابض ہو گئیں۔ ایک شخص کے الفاظ میں وہ تمام دنیا کا مکھن کھا گئے ۔ مسلمان پچھلے سوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے ان قوموں سے ان کی یہ حیثیت چھیننے کے لیے قربانی کی حد تک جا کر کوشش کر رہے ہیں، مگر وہ صد فی صد نا کام ہیں۔

میں نے سوچا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، قانون فطرت کے تحت ہو رہا ہے۔ وہ ان تمام مادی

ترقیوں کو وجود میں لائے ہیں اس لئے قانون فطرت کے مطابق، وہ طیبات دنیا کے مالک بنے ہوئے قرآن کے مطابق، آخرت میں ایسے لوگوں کو کچھ ملنے والا نہیں ہے (الاحقاف ۲۰)۔ ہمارے نام نہاد انقلابی مفکرین نے یہ چاہا کہ وہ انہیں ان طیبات دنیا سے محروم کر دیں۔ ہونا ممکن نہ تھا۔ مسلمانوں کو کچھ کئے بغیر دونوں دنیا کی طیبات حاصل ہو جائیں اور ان مادی قوموں کو ساری محنت کے باجود دنیا کی طیبات بھی نہ ملیں، ایسا ہونا خود قانون الہی کے تحت ممکن نہ تھا۔ مسلم رہنماؤں کی کوششیں حبط اعمال کا شکار ہو کر رہ گئیں۔

اس معاملہ کی ایک علامتی مثال فلسطین ہے۔ مسلمان سیکڑوں سال سے اس علاقہ پر قابض مگر وہ فلسطین کو وہ مادی ترقی نہ دے سکے جو یہودیوں نے اس کو دی۔ اب یہ کیسے ممکن تھا کہ مسلمانوں کو نفع بخشی کے بغیر سب کچھ مل جائے اور یہودیوں کو نفع بخشی کے باوجود کچھ نہ ملے۔ ۲۸ فروری ۱۹۹۹ کی دوپہر کو جہاز ٹریونڈ رم پہنچا۔ یہاں ٹمپریچر ۳۱ ڈگری سنٹی گریڈ تھا جب کہ ۳۵ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے جہاز کا درجہ حرارت زیرو سے بھی نیچے تھا۔ جو لوگ بلند فکری کے حامل ہوں وہ ہمیشہ ٹھنڈے مزاج کے ہوتے ہیں اور جو پست ذہن ہوں وہ گرم مزاج کے۔ ۲۸ فروری کی دوپہر کو ساڑھے گیارہ بجے جب میں ٹریونڈ رم پہنچا تو یہاں بڑی تعداد میں لوگ ائرپورٹ پر موجود تھے، ڈاکٹر گوپی ناتھن، پروفیسر کریم، وغیرہ۔ ائرپورٹ سے روانہ ہو کر آشرم پہنچا۔ کیرلا بے حد سر سبز ریاست ہے۔ سڑک کے دونوں طرف باغ جیسے مناظر ہیں۔ ماحول میں ۲۰ کلو میٹر کا سفر طے کر کے ہم لوگ آشرم پہنچے۔ سادگی اور امن کا ماحول تھا۔ روحانیت جیسی فضا تھی۔ کیرلا کے لوگ بہت سادہ مزاج ہوتے ہیں۔ ان میں منافقت والی برائی وہ پر امن شہری کی مثال نظر آتے ہیں۔ یہاں کے خوبصورت گسٹ ہاؤس میں مجھے ٹھہرایا گیا چاروں طرف سر سبز ماحول تھا۔ یہاں بہت سے لوگ ملے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، اعلیٰ عہدیدار اور بڑے تاجر سب یکساں طور پر بالکل سادہ نظر آتے تھے۔ تعارف سے پہلے کوئی پہچان نہیں سکتا کہ وہ کوئی بڑے آدمی ہیں۔

آشرم کے گسٹ ہاؤس میں ضیافت کے طور پر سب سے پہلے ناریل کا پانی پیش کیا گیا۔ کا پانی ایک قدرتی مشروب ہے۔ ناریل کا درخت پورا کا پورا ایک عجیب قسم کا قدرتی کارخانہ ہے۔ کی ہر چیز مفید اور کارآمد ہے۔ ناریل کے درخت کی صفات اگر بیان کی جائیں تو پورا سفر نامہ اسی سے بھر جائے ۔ ناریل کے جس خول کے اندر اس کا پانی رہتا ہے اس کی پیکنگ حیرت انگیز حد تک بامعنی کئی تہہ کے اندر یہ پانی ہوتا ہے ۔ اس کے اوپر کا خول نہایت سخت ہوتا ہے۔ وہ بہت مشکل سے ٹوٹتا ہے۔ مگر اس نہایت سخت خول کے سرے پر حیرت انگیز طور پر ایک نرم سوراخ ہوتا ہے جو نہایت آسانی سے کھل جاتا ہے اور اس کے ذریعہ پانی نکال کر پیا جاسکتا ہے۔ یہ سوراخ اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک عاقل اور باشعور ہستی ہے۔ اس سوراخ میں جو حکمت ہے وہ باشعور خالق کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی ۔ موجودہ زمانہ میں مشروبات کے پیک میں عین یہی تکنیک استعمال کی اور اس کے ایک کنارے چھوٹی سی نرم جگہ بنائی جاتی ہے جہاں سے سوراخ کر کے مشروبات کو استعمال کیا جاسکے۔

۲۸ فروری کو ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر میں آشرم کے گسٹ ہاؤس میں بیٹھا ہوں ۔ طرف دور دور تک سبزہ ہی سبزہ دکھائی دے رہا ہے ۔ یہاں نہ شور ہے اور نہ دھواں اور نہ جدید صنعتی زندگی کے اعصاب شکن مسائل ۔ ایک لمحہ کے لئے خیال آیا کہ اس خوبصورت اور پرسکون ماحول میں رہنا کتنا اچھا ہے۔ مگر جلد ہی بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ سوچ درست نہیں۔ اس قسم کے پرسکون ماحول میں آرام کی زندگی گزارنا کوئی بہت اچھی چیز نہیں۔ نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ ذہنی سکون کے مقابلہ میں ذہنی اضطراب زیادہ اعلیٰ حالت ہے۔ ذہنی سکون کی حالت میں رہنا بظاہر بہت اچھا ہے مگر وہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی کی ذہنی ترقی رک جائے ۔ فکری ارتقاء ہمیشہ طوفانی حالات میں ہوتا ہے، نہ کہ پرسکون حالات میں۔

ڈاکٹر گوپی ناتھن نے آشرم کے قریب گھر بنا لیا ہے۔ وہ یہاں ایک پرسکون زندگی گزار رہے میں نے سوچا کہ اگر میں یہاں ایک گھر بنا کر پر سکون زندگی گزار رہا ہوتا تو میں کبھی اس فکری

انقلاب تک نہ پہنچتا جس کا نتیجہ میری زندگی میں الرسالہ مشن کی صورت میں ظاہر ہوا۔ کیرلا کے ایک تعلیم یافتہ ہندو سے میں نے پوچھا کہ کیرلا میں بھی کیا اس طرح کی سیاسی علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے جو پنجاب یا کشمیر یا آسام میں چل رہی ہے۔ انہوں نے فوراً کہا کہ نہیں (Not at all)۔ اس اعتبار سے کیرلا ایک قابل تقلید ریاست ہے۔ دنیا کے جن ملکوں میں سیاسی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں وہ سب کی سب صرف تباہی کی تحریکیں ہیں۔ ایک بڑے ملک کا حصہ رہ کر جو ترقی کی جاسکتی ہے وہ چھوٹا بننے کی صورت میں ممکن نہیں۔ اس طرح چھوٹا ملک بنانے کا واحد فائدہ یہ ہے کہ ایک لیڈر صاحب کو پرائم منسٹر کہا جانے لگے۔

میرا عام تجربہ ہے کہ اسکالر لوگوں میں فکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے جب کہ مذہبی لوگوں میں اس طرح فکری ارتقاء نہیں ہوتا۔ مذہبی طبقہ کے لوگ عام طور پر ذہنی ٹھہراؤ کا شکار رہتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا رہاہوں کہ اس کا سبب کیا ہے، یہاں مجھے اس کا سبب معلوم ہوا۔ وہ یہ کہ سیکولر لوگوں میں مسلسل فری ڈائیلاگ جاری رہتا ہے جب کہ مذہبی لوگوں میں فری ڈائیلاگ کا عمل جاری نہیں ہوتا۔ یہاں بہت سے تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ملاقات ہوئی جو گرو جی کے گہرے طور پر معتقد تھے۔ میں نے ان سے جب بھی کسی مسئلہ پر سوال کرنا چاہاتو گفتگو ایک حد سے آگے جاری نہ رہ سکی۔ مثلاً اس آشرَم میں ۲۴ گھنٹہ کے اندر آٹھ بار عبادت ہوتی ہے۔ یہ عبادت منتر جاپ کی صورت میں مگر کئی لوگوں کو گرو نے اس عبادت سے مستثنیٰ کر دیا ہے۔ میں نے اس استثناء پر سوال کیا تو کوئی اس پر زیادہ گفتگو کے لیے تیار نہیں ہوا۔ ہرایک نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ہر آدمی کا کیس الگ اور گرو جی ہر آدمی کو پہچان کر اس کو ہدایت دے دیتے ہیں۔ اس پر مزید گفتگو کے لیے وہ تیار

اسی طرح میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ گرو جی جب اپنی زبان سے خود یہ نہیں کہتے کہ میں پیغمبر ہوں تو آپ لوگ ان کے بارہ میں ایسے الفاظ کیوں بولتے ہیں۔ مگر کوئی بھی اس سوال پر تفصیلی گفتگو کے لیے تیار نہ ہوا۔

ٹھیک یہی معاملہ مسلمانوں کے یہاں بھی پایا جاتا ہے۔ آپ کسی بھی جماعت یا کسی بھی ادارہ میں جائیے ۔ آپ اگر وہاں ان کی مسلمہ شخصیتوں پر تفصیلی گفتگو کرنا چاہیں تو ایسا ناممکن ہوگا۔ یا تو لوگ بات نہیں کریں گے یا بہت جلد بگڑ جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سنجیدہ گفتگو نا ممکن ہو جائے گی۔ اس کے برعکس آپ سیکولر لوگوں سے بات کیجئے تو وہ کبھی غصہ نہیں ہوں گے۔ ایک صاحب ملے جو یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے اپنا مضمون پولیٹیکل سائنس بتایا۔ نے کہا کہ آپ لوگ سیاسی موضوع کو پولیٹیکل سائنس کہتے ہیں۔ حالانکہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو پالی ٹکس کامضمون کوئی سائنسی مضمون ہی نہیں۔ سائنسی مضمون وہ ہے جو قابل تصدیق (verifiable) ہو ۔ جب کہ پولیٹیکل سائنس میں کوئی بھی نظریہ یا فارمولا قابل تصدیق اس طرح ان سے دیر تک گفتگو ہوئی مگر وہ غصہ نہیں ہوئے اور معتدل طور پر بات کرتے رہے۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ مذہبی طبقہ میں فکری ارتقاء رک جاتا ہے جب کہ سیکولر طبقہ میں فکری ارتقاء کا عمل جاری رہتا ہے۔

یہاں میکسیکو کے ایک نوجوان مسٹر جان میکسیکو سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے میکسیکو میں میڈیٹیشن کے دوران ایک گرو جی کی امیج دیکھی۔ میں ان کو جانتا نہیں تھا۔ پھر میں نے مراقبہ کیا تو ہندوستان کا نقشہ میرے سامنے آ گیا۔ پھر میں پوچھتے پوچھتے اس آشرم تک پہنچا۔ اس قسم کے قصے کثرت سے ہندو گروؤں کے یہاں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ٹھیک اسی قسم کے قصے مسلم بزرگوں کے یہاں بھی پھیلے ہوئے ہیں ۔ مسلمان ہندو گروؤں کے قصوں کو غلط بتاتے ہیں اور اپنے بزرگوں کے قصے کو صحیح سمجھتے ہیں ۔ مگر یہ طریقہ سراسر غیر منطقی ہے۔ آپ یا تو دونوں جگہ کی کہانیوں کو درست بتائیں یا دونوں جگہ کی کہانیوں کو بے بنیاد قرار دیں۔ ایک کو ماننا اور دوسرے کو رد کرنا درست نہیں۔

یہاں اردو سمجھنے والا کوئی نہ تھا۔ اس لیے گفتگو ہمیشہ انگریزی میں ہوتی رہی۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میری زندگی کے تجربات میں سے ایک تلخ تجربہ یہ ہے کہ فطرت سے

انحراف اس دنیا میں سب سے زیادہ مہلک غلطی ہے۔ فطرت سے انحراف کی بدترین سزا ہر ایک کو لازمی طور پر بھگتنا پڑتا ہے، فرد کو بھی اور قوم کو بھی۔

عشاء کا وقت ہوا تو الگ الگ اذانوں کی آوازیں سنائی دیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں کئی یہ آواز لاؤڈ اسپیکر کی تھی اور کافی دور سے آ رہی تھی۔ یہ مسجدیں آشرم کے وسیع علاقہ کے باہر ہیں۔ دور ہونے کی وجہ سے ان کی لاؤڈ اسپیکر پر دی ہوئی اذان صرف رات کو سنائی دیتی ہے، دن کو نہیں۔

ٹریوینڈرم ائرپورٹ سے شانتی گری آشرم آتے ہوئے درمیان کے علاقہ میں مجھے بتایا گیا کہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ تاہم یہاں کوئی ہند و اور مسلم مسئلہ نہیں۔ دونوں ایک ہی زبان کلچرل مشابہت بھی ہے۔ یہاں غیریت کا وہ ذہن نہیں پایا جاتا جو شمالی ہند کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

کے وشونا تھن سے میں نے پوچھا کہ ہندو گروؤں کے یہاں پاؤں پوجا پائی جاتی ہے۔ اس کی اصل کہاں ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے، وہ ویدوں میں یا گیتا میں نہیں ہے۔ وہ اس کی اصل نہ بتا سکے۔ گروورشپ کے رواج نے غالباً فٹ ور شپ (foot worship) پیدا کی ۔ اکثر مذاہب کے موجودہ رواج خود ان کی اپنی کتابوں میں بھی

یکم مارچ 1999 کی صبح کو ساڑھے نو بجے اصل پروگرام شروع ہوا۔ آشرم کی مین بلڈنگ کے سامنے وسیع میدان میں ہزاروں کی تعداد میں عورت اور مرد سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میں ایک گیت گایا گیا جس کو میں سمجھ نہ سکا۔ پھر گرو جی نے ملیالم میں کچھ کہا۔ یہاں ترجمہ کا انتظام نہ تھا، اس کو بھی میں سمجھ نہ سکا۔ یہاں یا تو ملیالم زبان بولی جارہی تھی یا انگریزی۔ اس فنکشن میں گرو جی آکر اسٹیج پر بیٹھے۔ سب سے پہلے ان کے سامنے ہولی فیٹ سونے کا بنا ہوا پیش کیا گیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ خود گرو جی کے پاؤں کی نقل ہے۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا

کہ یہ گرو جی کی فرمائش پر نہیں ہے بلکہ ان کے عقیدت مند لوگ خود اپنے جذبہ کے تحت اس کو پیش کر رہے ہیں۔

میں نے پایا کہ اکثر مذاہب میں جو رسوم ہوتی ہیں ان کے بارے میں سوال کیا جائے تو وہ فوراً معذرت خواہانہ انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ اسلام کے سوا ہر مذہب میں اس قسم کی چیزیں ہیں جو غیر عقلی ہیں اور سائنٹفک دور میں ان کی معنویت لوگوں کے لیے ناقابل فہم ہو گئی ہے۔ میں صرف عقیدہ کی بنا پر نہیں بلکہ ذاتی علم کی بنا پر کہتا ہوں کہ یہ صرف اسلام ہے جو سائنٹفک دور کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ میں نے یہ بات مذکورہ ہندو سے کہی تو وہ خاموش رہے۔

جلسہ گاہ میں اسٹیج پر لوبان وغیرہ جلایا گیا۔ اس سے پورے ہال میں ایک خاص قسم کا دھواں میں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ہندو سے پوچھا کہ اس دھوئیں کا مقصد کیا ہے۔ کہا کہ ماحول کو پاک کرنے کے لیے (to purify the atmosphere)۔ میں نے کہا کہ سائنٹفک دور کا انسان اس کو ایک قسم کا air pollution کہے گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ مادی لوگ ہیں۔ روحانی باتوں کونہیں سمجھتے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مذہب نا قابل فہم ہے اور علم قابل فہم۔ میرے قریب دو تعلیم یافتہ ہندو آپس میں بات کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک کوئلون کا تھا۔ گفتگو کے دوران ایک پیپرمل کا ذکر ہوا۔ دوسرے نے کہا کہ کوئلون کی پیپر مل جو کہ برلا گروپ کی ہے، لیبر پرابلم کی وجہ سے بند ہوگئی:

Printed page