Al-Risala · February 2003

It is now closed down because of labour problem.

Al-Risala, February 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ صورت حال سارے ملک میں ہے۔ پچھلے ۴۰ سال سے پورے ملک میں یہ مسئلہ ہے۔ لوگ اقتصادی عمل کی معکوس ترقی کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ وجہ غیر فطری لیبر قوانین میں ہے۔ ان قوانین نے لوگوں کو آخری حد تک حقوق شناس (right-conscious) بنا دیا ہے۔

نہرو اور ان کے ساتھیوں نے آزادی کے بعد ہندوستان میں سوشلسٹ اکانومی کے اصول کو

اس کے تحت ایک طرف اقتصادی عمل میں سرکاری لوگوں کو غیر معمولی اختیارات دے دئے دوسری طرف لیبر حقوق کے نام پر بے شمار قانون اور ضابطے بنائے گئے۔ یہ مارکسی فلسفہ کے زیر اثر تھا۔ مارکسی فلسفہ کے مطابق، اقتصادی نزاعات میں نام نہاد سرمایہ دار طبقہ ہمیشہ ناحق پر ہوتا ہے اور مزدور طبقہ ہمیشہ حق پر۔ سرمایہ دار ہمیشہ ظالم ہوتا ہے اور مزدور ہمیشہ مظلوم۔ اس بے بنیاد نظریہ نے پورے ملک کی اقتصادیات کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

چند ہندوؤں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ میرا مشن ہندو۔ مسلم کے درمیان میل ملاپ پیدا میں ایک پختہ مسلمان ہوں اور اسلام کو کامل صداقت سمجھتا ہوں۔ مگر سماجی اور قومی زندگی میں معتدل تعلقات کی فضا ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے میں جس طرح مسلمانوں کے جلسوں میں جاتا ہوں اسی طرح دوسرے مذہبوں کے جلسہ میں بھی جاتا ہوں۔ لیکن زرد صحافت نے اس کو شوشہ میرے خلاف جھوٹی باتیں چھاپ کر پھیلائی گئیں۔ حتیٰ کہ کچھ جاہل قسم کے لوگوں نے یہ اعلان کر دیا کہ میں خدا نخواستہ سلمان رشدی جیسا ہو چکا ہوں اور میرے ساتھ اس کا جیسا سلوک کیا جانا اس پر ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ گھبرائیے نہیں، یہ بھارت ہے یہاں کوئی خمینی نہیں، آپ انڈیا میں محفوظ ہیں:

Do not fear. It is India. Here is no Khomeini. You are safe in India. یہ سن کر مجھے سخت جھٹکا لگا۔ موجودہ زمانہ میں ایک مسلمان ایک غیر مسلم ملک میں زیادہ محفوظ مگر وہ مسلم ملک میں محفوظ نہیں۔ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ جب کہ اسلام میں کامل آزادی ہے۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ اس کی بنیاد پر آپ اسلام کے بارے میں رائے قائم نہ کریں۔ مسلمانوں کا فعل ہے، یہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ پھر میں نے قرآن کی ایک آیت سنائی۔ اس کو سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ میں نے کہا کہ انڈیا کی حکومت نے سلمان رشدی کو ویزا دیا ہے اس پر کچھ مسلمان شور کر رہے ہیں کہ سلمان رشدی کو یہاں نہ آنے دو۔

مگر اس قسم کی صورت حال قدیم مدینہ میں پیدا ہوئی۔ اس وقت عرب میں مشرک تھے جو اسلام

کے دشمن بن گئے تھے۔ وہ اسلام پر حملے کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ مشرکین نے مدینہ آنا چاہا۔ بعض مسلمانوں کو اختلاف ہوا۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتری کہ اگر مشرکین میں سے کوئی تمہارے یہاں آنا چاہے تو اس کو آنے دو... (التوبہ ۶)

یکم مارچ کی دوپہر کو میری تقریر تھی۔ مجھ کو پیس اور ہارمنی کا موضوع دیا گیا تھا۔ انگریزی میں ایک تقریر کی۔ اس میں قرآن اور حدیث کے حوالہ سے بتایا کہ اسلام امن اور محبت اور انسانیت کا مذہب ہے۔ خدا نے جو مذہب عالم کا ئنات میں قائم کیا ہے اُسی کو اس نے قرآن کی صورت میں بھیجا ہے۔

Peaceful co-existence is the only religion for both man and the universe. یکم مارچ کو جلسہ گاہ سے نکل کر رہائش گاہ کی طرف جانا تھا۔ کار لا کر کھڑی کی گئی۔ میرے پاؤں میں جوتا نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ میں پیدل جاؤں گا۔ اور کار چھوڑ کر رہائش گاہ کی طرف پیدل روانہ ہوا۔ راستہ میں سنگریزے تھے۔ مگر مجھے ان سنگریزوں میں ایک قسم کا نیچرل ٹچ (لمس فطری) محسوس ہو رہا تھا۔ چنانچہ میں ننگے پاؤں اس پر چلتا رہا۔ ایک ساتھی نے کہا کہ آپ ان سنگریزوں پر ننگے پاؤں چل رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ نیچرل کارپٹ ہے اور مصنوعی کارپٹ سے زیادہ بہتر ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سنگریزے مجھے پھول جیسے معلوم ہوتے ہیں: These stones are like flowers. یہ بات میں نے نیچر کی حیثیت سے کہی تھی، نہ کہ آشرم کی نسبت سے۔ اب کوئی خوش عقیدہ آدمی اس کو آشرم سے جوڑ دے تو وہ کہے گا کہ دیکھو، فلاں مسلم مولانا اس آشرم میں آئے تھے۔ کو یہاں کے سنگریزے تک پھول کے روپ میں دکھائی دیے۔ میرا خیال ہے کہ بزرگوں کے بارے میں کرامات قصے اسی طرح بنے ہیں۔

بزرگوں کی کرامات کی جو طلسماتی کہانیاں مسلمانوں میں مشہور ہیں، ٹھیک اُسی قسم کی کہانیاں ہندوؤں میں بھی مزید اضافہ کے ساتھ مشہور ہیں۔ مسلمان ان کہانیوں کو اپنے بزرگوں کی عظمت کی

دلیل سمجھتے ہیں۔ اگر یہ دلیل صحیح ہو تو اسی دلیل سے انہیں ہندوؤں کے اکابر کو بھی طلسماتی شخصیت کا حامل ماننا چاہئے۔ ذاتی طور پر میں دونوں ہی طرح کے قصوں کو بے اصل سمجھتا ہوں۔ اگر وہ فرضی ہیں تب تو ان کا بے اصل ہونا واضح ہے۔ تاہم اگر وہ بالفرض درست ہوں تب بھی وہ کسی شخص کی عظمت کا

شانتی گری آشرم کا رقبہ بہت بڑا ہے۔ دور دور تک درخت اور سبزہ کا ماحول ہے۔ یہاں انسانوں کی آوازیں بہت کم سنائی دیتی ہیں، البتہ چڑیوں کی آوازیں اکثر کانوں میں آتی ہیں۔ میں نے سوچا کہ دہلی میں لاؤڈ اسپیکر سے بلند ہونے والی انسانی آواز مجھے سخت ناپسند ہوتی ہے۔ چڑیوں کی آوازیں کیوں مجھ کو پسند ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ انسانوں کی آواز میں سرکشی کا لہجہ ہوتا ہے جب کہ چڑیاں ہمیشہ خدا کی حمد کے نغمے گاتی ہیں۔

شانتی گری آشرم کے گرو کی عمر ابھی ۷۲ سال ہے۔ مگر وہ کافی کمزور ہو گئے ہیں۔ تر اپنے بستر پر لیٹے ہوئے رہتے ہیں۔ وہ جلسہ گاہ میں آئے تو وہاں بھی تھوڑی دیر سہارا لے کر بیٹھنے کے بعد لیٹ گئے ۔ وہ دو آدمیوں کا سہارا لے کر مشکل سے چلتے ہیں۔ میں ان کے مخصوص کمرہ میں اُن سے ملا تو وہ اس وقت فرش پر اپنے بستر کے اوپر لیٹے ہوئے تھے۔ اسی لیٹے ہوئے حالت میں انہوں نے مجھے ایک نارنگی پیش کی۔ میں اس وقت ان کے قریب کھڑا ہوا تھا۔ نارنگی لینے کے لیے قدرتی طور پر مجھے کچھ جھکنا پڑا۔

ایک فوٹوگرافر نے اس وقت کی تصویر کھینچ لی۔ بعد کو اس نے تصویر دکھائی تو اس میں سنترا تو دکھائی نہیں دیتا تھا البتہ یہ نظر آتا تھا کہ میں گرو جی کے سامنے جھکا ہوا ہوں۔ میں نے فوٹوگرافر سے کہا کہ اس تصویر کو آپ ضائع کر دیجئے۔ ورنہ اگر ہماری’’ زرد صحافت‘‘ نے اس کو پا لیا تو مزید رنگ آمیزی کر کے اس کو چھاپے گی جس کے نیچے لکھا ہوا ہوگا’’ ایک مسلمان عالم ایک ہندو گرو کے آگے جھکا (۶ مئی ۱۹۹۹ کو گرو جی کا انتقال ہو گیا)۔

گرو جی مورتی پوجا کو نہیں مانتے۔ حتیٰ کہ میں نے آشرم کے مختلف حصوں کو دیکھا تو کہیں خود

گرو جی کی بھی کوئی تصویر نہیں ملی۔ پورے آشرم میں کہیں نہ کوئی مورتی ہے اور نہ کوئی تصویر۔ میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب فضل ہے کہ میں اکثر نہایت سچے خواب دیکھتا ہوں۔ بہت سی ایسی چیزوں کے بارہ میں واضح خواب دیکھے ہیں جن کے متعلق مجھے کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ کو معلوم ہوا کہ میرا خواب عین واقع کے مطابق تھا۔ مثال کے طور پر اپنے سفروں کے بارہ میں اکثر میں پیشگی طور پر خواب دیکھ لیتا ہوں ۔ اور عین اسی خواب کے مطابق سفر پیش آتا ہے۔ مثلاً ستمبر ۱۹۹۵ میں فلسطین کے سفر کے بارہ میں مجھے پیشگی طور پر کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ہوائی جہاز میں بیٹھا ہوا ہوں ۔ بعد کو عین ویسا اسی طرح ۲۸ فروری اور یکم مارچ کی درمیانی شب میں میں نے شانتی گری آشرَم میں خواب دیکھا کہ میں دہلی کے انٹرنیشنل ائر پورٹ میںہوں اور ابتدائی مراحل سے گزر کر آخری گیٹ کی طرف بڑھ رہا ہوں۔

میں نے بار بار ایسی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے جہاں ساری کارروائی انگریزی میں ہوئی ایسے مواقع پر زیادہ تر میں اپنی تقریر لکھے ہوئے پیپر کی صورت میں کرتا تھا اور جزئی طور پر انگریزی میں کلام کرتا تھا۔ شانتی گری آشرَم میں لوگ یا تو ملیالم جانتے تھے یا انگریزی۔ اس لیے یہاں پوری مدت میں انگریزی ہی میں بولنا اور گفتگو کرنا پڑا۔ اس موقع پر پہلی بار مجھے اپنی اس استعداد کا تجربہ ہوا کہ میں خدا کے فضل سے انگریزی میں بے تکلف بول سکتا ہوں اور بے تکلف تقریر کر سکتا ہوں۔ تجربہ نے میرے دعوتی جذبہ میں ایک نیا حوصلہ پیدا کر دیا۔

یہاں کانفرنس کی وجہ سے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میں اکٹھے تھے۔ ان سے بڑے پیمانہ پر اندازہ ہوا کہ لوگ عجیب عجیب قسم کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ موسیٰ کی ابتدائی عمر فرعون کے محل میں گزری۔ اس لیے موسیٰ کے بارے میں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ نسل میں پیدا مسیح نے مچھیروں کے درمیان کام کیا اس لیے انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ نچلے طبقہ میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کو اپنے وطن مکہ سے ہجرت کرنا پڑا اس لیے انہوں نے سمجھ لیا کہ

پیغمبر اسلام نے مظلوم اور ناکام حالت میں وفات پائی۔ ضرورت ہے کہ اسلام کے بارے میں ہر قسم کی معلوماتی کتابیں بڑے پیمانہ پر تیار کر کے پھیلائی جائیں۔ اسی کے ساتھ بڑے پیمانہ پر مسلم اور غیر مسلم کا انٹر ایکشن ہو۔ ڈائیلاگ کئے جائیں۔ تعلیمی اداروں میں دونوں گروہ کے لوگ بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کریں۔ تاہم صرف کتابیں چھاپنا کافی نہیں۔ زندگی کی سرگرمیوں میں دونوں کی شرکت ضروری ہے۔

آشرم میں رہنے والے ایک صاحب جو انجینئر ہیں انہوں نے بروکن انگریزی میں کہا ’’ آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئے تاکہ میں اس کو دھودوں۔ ‘‘ میں نے سینہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: Please wash my heart, that's more important. Clothes are washed by water. But the heart is washed by the tears. وہ اس غیر متوقع جواب کو سن کر خاموش ہو گئے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے بعد وہ کیا ایک صاحب جو وہاں موجود تھے انہوں نے میرے اس جواب کی وضاحت پوچھی۔ کہا کہ بعض باتیں متکلم کے صیغہ میں کہی جاتی ہیں مگر وہ غائب کے صیغہ میں مطلوب ہوتی ہیں۔ غالب کا ایک شعر ہے:

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے اسی طرح میر کا شعر ہے:

میر کے دین و مذہب کی کیا پوچھ رہے ہو ان نے تو قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترکِ اسلام کیا یہ اشعار اگر چہ متکلم کے صیغہ میں ہیں مگر وہ غائب کے صیغہ میں مطلوب ہیں۔ اسی اسلوب کی روشنی میں میرے مذکورہ جملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔

یکم مارچ کو شام کے سمیلَن میں تھوڑی دیر کے لیے گیا۔ لوگ بڑی تعداد میں اکٹھے تھے۔ لوگ گارہے تھے اور کچھ لوگ مخصوص باجا بجارہے تھے۔ گانا بجانا میرے ذوق کے مطابق نہیں۔ مصلحت کے تحت اس کو گوارا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک چیز میرے لئے ذاتی طور پر قابل برداشت نہ

وہ یہ کہ پورے وسیع پنڈال میں دھواں پھیلا ہوا تھا۔ پہلے میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ دھواں کیا مگر سیکڑوں قمقموں کے باوجود یہاں بہت کم اجالا تھا۔ اس وقت محسوس ہوا کہ یہ بلب نہیں بلکہ موم موم بتیوں کے جلنے سے پوری فضا میں دھواں پھیلا ہوا تھا۔ یہ ذوق بھی بڑا عجیب ہے۔ تمام مذہبوں میں صرف اسلام ایسا مذہب ہے جس میں ہر چیز فطری ہے۔ اسلام کی عبادت گاہ، اسلام کی مجالس، اسلام کے اجتماعات، ہر ایک میں اسلام کا مقرر کیا ہوا اصول عین فطرت کے اوپر قائم اگرچہ موجودہ زمانہ میں اغیار کے کلچر سے متاثر ہو کر مسلمانوں نے اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ اسلام کا فطری نقشہ آج شاید کسی بھی مسلم ادارہ میں دکھائی نہیں دیتا۔ اگر کہیں عملی اعتبار سے ہے تو نظری اعتبار سے نہیں۔ اور اگر کہیں نظری اعتبار سے ہے تو عملی اعتبار سے نہیں۔

گرو جی کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں معتقدین ہیں۔ اس کا راز کم از کم ایک یہ ہے کہ لوگوں کو ان سے مادی فائدے ملتے ہیں۔ ایک شخص نے گرو جی سے کہا کہ میں اسکوٹر خریدنا چاہتا ہوں ۔ میں نے اس کا پیسہ بھی جمع کر لیا ہے۔ گرو جی نے کہا کہ تم اسکوٹر مت خریدو۔ اس نے خرید لیا۔ ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ مرگیا۔ ایسا ہی واقعہ ایک اور شخص کے ساتھ ہوا۔ اس نے کار کا پیسہ جمع کیا۔ گرو جی کے منع کرنے کے باوجود کار خرید لی۔ وہ بھی روڈ ایکسیڈنٹ میں مر گیا۔ بہت سے لوگوں نے اس طرح کے قصے سنائے ۔ اس سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ گرو جی کو خاص نظر (vision) حاصل ہے۔ چنانچہ وہ جو کہہ دیتے ہیں اس پر لوگ آنکھ بند کر کے عمل کرتے ہیں۔ شانتی گری آشرم کے اس فنکشن کو اٹینڈ کرنے کے لیے جو لوگ دہلی سے گئے تھے ان میں سے دو صاحبان میرے ساتھ اسی جہاز میں تھے۔ مسٹر گوپی ناتھن اور ایک خاتون ڈاکٹر ۔ میرے سفر کا انتظام شانتی گری آشرم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ مگر مذکورہ دونوں صاحبان خود اپنے خرچ پر وہاں گئے تھے۔ دونوں مڈل کلاس کے لوگ تھے۔ مگر انہوں نے ہوائی جہاز سے سفر کیا جب کہ فی کس ہوائی جہاز کا ریٹرن ٹکٹ تقریباً ۳۵ ہزار تھا۔ وہاں کی تقریبات میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ کس جذبہ کے تحت یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرو کے درشن اور آشیرواد کے لیے۔

طرح ہزاروں لوگ صرف درشن اور آشیرواد کے لیے دور دور سے یہاں آئے تھے۔

ٹھیک یہی مزاج خود مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ وہ کچھ لوگوں کو ”بزرگ“ سمجھ اور ان کے لیے لمبے لمبے سفر کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے درشن اور آشیرواد کے بجائے اس کا نام زیارت اور برکت رکھ لیا ہے۔

۱۹۸۰ کے لگ بھگ زمانہ کی بات ہے۔ ایک مسلم بزرگ مدینہ سے دہلی آئے۔ یہاں کی ایک بڑی مسجد میں ان کا قیام تھا۔ یہاں سیکڑوں لوگ اکٹھا ہو گئے۔ عوام کے علاوہ کالج اور مدرسہ کے لوگ بھی شامل تھے۔ کچھ لوگ مجھ کو بھی وہاں لے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ وہاں تقریر ہو رہی ہے مگر لاؤڈ اسپیکر اچھا نہ ہونے کی وجہ سے مقرر کی بات صاف سنائی نہیں دے رہی ہے ۔ علی گڑھ سے آئے تھے۔ ان سے میں نے کہا کہ یہاں اتنے سارے لوگ جمع ہیں۔ ایسے موقع پر اچھے لاؤڈ اسپیکر کا انتظام کرنا چاہئے تھا تا کہ لوگ مقرر کی بات کو صحیح طور پر سن سکیں۔ انہوں نے میری بات کو ایک غیر اہم بات کی طرح نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ ” ہم یہاں تقریر سننے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ ہم تو حضرت کی زیارت کے لیے آئے ہیں“۔

یہ مزاج ہندوؤں کے لئے جتنا بے معنی ہے، مسلمانوں کے لیے بھی اتنا ہی بے معنی ہے۔ حضرت یا کسی گرو کی زیارت اور برکت کا کچھ بھی تعلق مذہب سے نہیں اور نہ اس سے کسی شخص کو کچھ مل پانے کا تعلق تمام تر خدا سے ہے۔ یہ سمجھنا کہ خدا کا عطیہ کسی بزرگ کے واسطے سے ملتا ہے سراسر بے اصل ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

یکم مارچ کی شام کو مغرب کی نماز کے بعد کئی تعلیم یافتہ لوگ میری قیام گاہ پر اکٹھا ہو گئے ۔ ان کی فرمائش پر میں نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں۔ کہا کہ میں پیدائشی طور پر فلسفی جیسا مزاج رکھتا ہوں۔ میں کسی بات کو صرف اس وقت مانتا ہوں جب کہ وہ دلائل وحقائق سے ثابت ہو جائے۔ میں نے کئی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مثلاً میں سنتا تھا کہ آدمی اگر کئی وقت تک کھانا نہ کھائے تو آنکھوں میں دھند آ جاتی ہے اور غشی طاری

ہو جاتی ہے۔ اس بات کو جاننے کے باوجود نے اس کا تجربہ کیا۔

ایک بار جب میں ایک لمبے سفر پر تھا تو دو دن تک مسلسل میں نے کچھ نہیں کھایا۔ وقت میری جیب میں کافی پیسے موجود تھے۔ دو دن کے بعد جب میں میں کافی کمزوری محسوس کرنے لگا تو میں ایک ہوٹل کے اندر کھانے کے لیے داخل ہوگیا۔ اس وقت میری آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہوا چنانچہ میں ایک ایسی کرسی پر بیٹھنے لگا جس پر پہلے سے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میری یہ حالت دیکھ کر لوگوں نے سمجھا کہ خدا نخواستہ میں پئے ہوئے ہوں۔ میں نے کہا کہ مذہب کے ساتھ بھی میرا معاملہ یہی ہے۔

پیدائشی طور پر میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوا۔ گویا میرا آبائی مذہب اسلام تھا۔ میں سن شعور کو پہنچا تو میں نے اسلام کو چھوڑ دیا۔ میں ملحد بن گیا۔ اس کے بعد کئی برس تک میں سچائی کی تلاش میں ادھر ادھر پھرتا رہا۔ بہت سی کتابیں پڑھیں ۔ اس طرح کئی برسوں کے تلاش و مطالعہ کے بعد میں نے شعوری طور پر از سر نو اسلام قبول کیا۔

غالباً ۱۹۴۹ میں میں نے اعظم گڑھ کی جامع مسجد میں ماسٹر عبد الحکیم انصاری کے سامنے کلمہ شہادت ادا کیا۔ وہاں اور بھی کئی مسلمان موجود تھے۔ جب میں نے اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمداً عبده ورسوله کہا تو بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ طرح میں ایک نومسلم ہوں۔ اسلام میری ڈسکوری ہے۔

یہ ایک لمبی گفتگو تھی۔ لوگ بے حد دلچسپی کے ساتھ اس کو سن رہے تھے۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ کچھ نادان لوگ میرے بارے میں کہتے ہیں کہ میں اینٹی مسلم لابی کا ایک آدمی ہوں۔ حتیٰ کہ بعض لوگوں نے میرے خلاف فتویٰ بھی دے دیا ہے۔ مگر اس قسم کی باتیں لغویت کی حد تک بے اصل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ میری نیچر کے خلاف ہے کہ میں صرف مصلحت کے لیے یا کسی کو خوش کرنے کے لیے کوئی بات کہوں یا کروں۔ فطری طور پر میرا یہ مزاج ہے کہ میں صرف وہی بات کہتا ہوں جو عقلی اور منطقی طور پر مجھے درست نظر آئے۔ حتیٰ کہ اگر مجھے ایک بات درست نظر آئے تو میں ساری دنیا کو

نظرانداز کر کے اس کا اعلان کروں گا۔ یہ میرے بس سے باہر ہے کہ کوئی بات صرف اس لیے کہوں کہ لوگ ایسا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے کئی عملی مثالیں دیں۔

میں نے کہا کہ ۱۹۹۰ء میں ایران کے رہنما آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا تو دنیا بھر کے تمام مسلمان اس کی تائید کرنے لگے۔ اس وقت میں نے تنہا یہ اعلان کیا کہ یہ فتویٰ غلط اسلام کی تعلیم کے مطابق، ہمیں قلم کا جواب قلم سے دینا ہے۔ قلم کا جواب گولی سے دینا ایک غیر اسلامی بات ہے۔ یہ اسلام کی توہین ہے کہ اس کی طرف ایسا نظریہ منسوب کیا جائے۔ اسی طرح انڈیا کے تقریباً تمام ہندو کامن سول کوڈ کے حامی ہیں۔ مگر میں نے اس کے خلاف تفصیلی مقالہ لکھا اور اس کو ملک کے بہت سے اخبارات اور میگزین میں چھپوایا۔ اس کو کتاب کی صورت میں بھی مختلف زبانوں میں چھپوایا۔ جلسوں میں اس موضوع پر تقریریں کیں۔ اسی طرح انڈیا کے تقریباً تمام ہندوسا سیت کی حد تک کنورژن کے خلاف ہیں۔ مگر میں نے ہندو مزاج کے خلاف کنورژن کے مسئلہ پر اخباروں میں بیانات دئے۔ ٹی وی پر اس کے خلاف کہا۔ جلسوں میں اس کے خلاف تقریر کی۔ کنورژن کی حمایت میں میں نے ایک تفصیلی مقالہ لکھا جس کو دوسرے کئی میگزین کے علاوہ خود آر ایس ایس کے انگریزی میگزین پرجنا (Parajna) میں چھپوایا۔ ملاحظہ ہو پرجنا (Parajna) کا شمارہ اپریل۔

میں نے کہا کہ میں کسی ملکی یا غیر ملکی لابی کا ترجمان نہیں۔ البتہ میں سچائی کا ترجمان ہوں۔ عین اپنے مزاج کے مطابق، ہر بات کو دلائل و حقائق کی روشنی میں دیکھتا ہوں۔ اس کا علمی تجزیہ کرتا ہر اعتبار سے اس کا بے لاگ جائزہ لیتا ہوں۔ اور پھر جو بات مجھے حق نظر آتی ہے اس کو لکھتا اور اپنے ضمیر کے خلاف کسی کا حامی یا ترجمان بننا میرے لئے ممکن ہی نہیں۔ کیرلا ایک بے حد سرسبز اور خوبصورت علاقہ ہے۔ شانتی گری آشرم میں کیرلا کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ کیرلا کی اسی خوبصورتی کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ کیرلا خدا کا اپنا ملک ہے: Kerala is God's own country.

مگر ساحلی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی فضا میں رطوبت (moisture) ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں کے پھول میں گویا ایک کانٹا لگا ہوا ہے۔ یہی موجودہ دنیا کی تمام اچھی چیزوں کا حال ہے۔ کامل آرام یا کامل خوشی کسی کو اس دنیا میں نہیں مل سکتی۔ کامل مسرت صرف آخرت ہی میں ممکن ہے۔ ۲ مارچ ۱۹۹۹ کو صبح چار بجے کا وقت ہے۔ میں بستر سے اٹھ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ میرے چاروں طرف کامل سناٹا چھایا ہوا ہے۔ بظاہر اس وسیع دنیا کے تمام لوگ اپنے بستروں پر اتنے میں دور سے چڑیا کی آواز سنائی دی۔ میں نے سوچا کہ اس طرح ایک دن آئے گا جب کہ زمین پر بسنے والے تمام انسان اپنے گھروں میں سکون کی سانس لے رہے ہوں گے کہ اچانک خدا کی آواز آئے گی۔ قیامت کا زلزلہ پوری دنیا کو ہلا دے گا۔ لوگ پکار اٹھیں گے۔ ہوگیا، کیا نجات کی کوئی صورت ہے۔ مگر جب قیامت آجائے گی تو وہ دوبارہ واپس نہ ہو سکے گی۔ کے سرکش اس دن سراپا عجز کی تصویر دکھائی دیں گے۔ آج حقیقت کا اعتراف نہ کرنے والے اس دن اعلان کے ساتھ حقیقت کا اعتراف کریں گے۔ آج جو لوگ دوسروں کا احتساب لینے کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں اس دن انہیں اپنے احتساب کے سوا اور کچھ بھی یاد نہ ہوگا۔ اس دن ہر آدمی مان رہا ہوگا، مگر اب ماننے کا کیا فائدہ۔

۲۸ فروری کی شام کو آ شرم میں کئی مسلم نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک مسٹر محی الدین خاں تھے۔ وہ ٹریونڈرم کے ایک اسکول میں استاد ہیں۔ انہوں نے میری کتاب خاتونِ اسلام انگریزی میں پڑھی ہے۔ انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں مارکسسٹ میں نے پوچھا کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھی آپ مارکس کے نظریہ پر یقین رکھتے انہوں نے کہا کہ ہاں۔ سوویت یونین میں جس چیز کا خاتمہ ہوا ہے وہ مارکسی آئیڈیالوجی نہیں ہے بلکہ روسی کمیونسٹ پارٹی کی غلط پالیسیاں ہیں۔ میں نے کہا کہ مگر ایک بات بالکل واضح وہ یہ کہ مارکس نے تاریخی ناگزیریت کا نظریہ پیش کیا۔ اس نے لکھا کہ خود تاریخ کے ناگزیر عمل کے نتیجہ میں ایسا ہوگا کہ سرمایہ دارانہ نظام ٹوٹ جائے گا اور اس کی جگہ اشتراکی نظام قائم ہوگا۔

سب خود ناگزیر تاریخی قانون کے تحت ہو گا۔ ایسی حالت میں کمیونسٹ فلسفہ کے تحت سرمایہ دارانہ نظام کو ٹوٹنا چاہئے تھا۔ مگر برعکس طور پر خود اشتراکی نظام ٹوٹ گیا۔ یہ واقعہ مارکس کے نظریہ کو غلط ثابت کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ذرا فلاں پروگرام میں جانا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چلے گئے ۔ وہ اردو نہیں جانتے تھے۔ انگریزی زبان میں ہوئی۔

عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیتوں کو غلط نہ ماننے کے لیے بھول جاتے ہیں کہ اس طرح وہ شخصیتوں سے برتر ایک چیز ـــــ قانون فطرت کا انکار کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے بعض مسلم مفکرین کے پرستاروں کا ہے۔ ان مسلم مفکرین کے نظریات مکمل طور پر فیل ہو گئے ۔ مثلاً ریلوے انجن پر قبضہ کرنے کے باوجود ٹرین کا اپنی سابقہ سمت پر چلتے رہنا۔ شخصیتوں کے پرستار مختلف قسم کی بے اصل توجیہیں کر کے کوشش کرتے ہیں کہ ان کی محبوب شخصیت بدستور محفوظ رہے۔

یہاں بڑی تعداد میں لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ ان میں زیادہ تر ہندو تھے۔ تا ہم ان میں مسلمان بھی قابل لحاظ تعداد میں تھے۔ ہر گفتگو کے بعد میں نے محسوس کیا کہ لوگ عام طور پر ذہنی جمود میں مبتلا ہیں ۔ اس کی مشترک وجہ یہ ہے کہ ہر ایک نے کسی نظریہ یا کسی شخصیت کو نو جوانی پھر وہ اس پر جم گیا۔ اب وہ نظر ثانی کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح ہر ایک یہ یقین لئے ہوئے ہے کہ ’’ میرا انتخاب درست تھا‘‘، مگر یہی یقین ہر ایک کے لیے زیادہ بہتر سچائی کو پانے میں رکاوٹ بن گیا۔

ایک نو جوان سردار سکھبیر سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ راجستھان کے رہنے والے ہیں۔ نے کہا کہ سکھ ازم اسلام کے زیادہ نزدیک ہے۔ کیوں کہ یہ کسی دیوی دیوتا، وغیرہ کی پوجا نہیں کرتے۔ یہ کسی دوسرے کے آگے سر نہیں جھکاتے ۔ یہ دونوں اپنے دھارمک گرنتھ قرآن اور گر وگرنتھ صاحب کے حکم کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔ سکھ دھرم کے گرنتھ ( گرو گرنتھ صاحب) میں صرف دھارمک

پریچرس، مہاپریچرس اور صوفی سنتوں (ہندو اور مسلم) کے قول ہی دئے ہیں۔ یہ دونوں دھرم انسانیت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ سکھ گروؤں کے شاگردوں میں ہندو اور مسلم دونوں تھے۔ سب سے پوتر دھارمک استھان امرتسر کے ہر مندر صاحب کا سنگ بنیاد ایک مسلم پیر (پیر میاں میر) نے رکھا تھا۔

ایک صاحب جاپان سے آئے تھے۔ ان کا نام آنند کے نہاری تھا۔ ان سے میں نے کہا کہ جاپانی لوگ پیدائشی طور پر اسپر پھول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل ایسی نہیں ہے۔ امریکن کلچر تیزی سے نئی نسل میں پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان اپنی ترقی کی پیک (peak) پر پہنچنے کے بعد اب نیچے جارہا ہے، روحانی اور اقتصادی ہر اعتبار سے۔ لوگ مقصدیت کا احساس کھوتے جاپان کی نئی نسل اپنی آئیڈینٹی کھو چکی ہے۔

کیرلا میں مائسچر کا سبب یہ ہے کہ یہاں کی زمین کا ایک تہائی حصہ گھنے جنگلوں سے ڈھکا ہوا ہر طرف سبزہ کی کثرت ہے، اس نے یہاں کی فضا کو مرطوب بنادیا ہے۔

کیرلا کے لوگ (اور اسی طرح پورے جنوبی ہند کے لوگ) بے حد صفائی پسند ہیں۔ کے کلچر میں شامل ہے۔ یہاں کے گھر اور راستے بے حد صاف ہوتے ہیں۔ آپ اگر اچانک کسی گھر یا کسی بستی میں جائیں تو آپ اس کو ہمیشہ صاف ستھرا پائیں گے۔ وہ گھروں کے اندر جوتا پہننا پسند نہیں چنانچہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتا اتار دیا جاتا ہے۔ میں نے یہاں کی ایک مجلس میں اس کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر اسلام کی یہ حدیث سنائی: الطہور شطر الایمان ۔ اس کا ترجمہ میں نے اس طرح کیا:

Printed page