Al-Risala · January 2003

حفاظت کیجئے

Al-Risala, January 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

سفید کپڑے پر کوئی دھبہ لگ جائے تو آدمی فوراً اُس کو دھو کر صاف کرتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اگر فوراً اِس کو صاف نہ کیا تو دھبہ نہیں مٹے گا اور اس کا کپڑا مستقل طور پر داغ دار ہو جائے گا۔

ایسا ہی کچھ معاملہ آدمی کے ذہن کا ہے۔ سماج میں رہتے ہوئے بار بار آدمی کے ذہن میں کوئی نہ کوئی بری بات آتی رہتی ہے۔ مثلاً انتقام کا جذبہ، حسد کا جذبہ، دشمنی کا جذبہ، شکایت کا جذبہ، نفرت کا اس قسم کے جذبات اور احساسات بار بار ہر مرد اور ہر عورت کے ذہن میں صبح وشام آتے وہ آدمی کو منفی احساسات میں مبتلا کرتے رہتے ہیں۔

ایسا ہر تجربہ گو یا ایک قسم کا نفسیاتی دھبہ ہے۔ وہ آدمی کے نفسیاتی وجود کو داغ دار کرنے کا ایک واقعہ ہے۔ ان نفسیاتی دھبوں کے لیے بھی آدمی کو وہی کرنا ہے جو وہ مادی دھبوں کے لیے کرتا ہر عورت اور مرد کو چاہئے کہ جیسے ہی اس قسم کا کوئی دھبہ اُس کے نفسیاتی وجود پر لگے تو فوراً وہ اس کو اپنے دل ودماغ سے نکال دے۔ وہ کوئی نہ کوئی تو جیہہ کر کے فوراً اپنے آپ کو اس کے زیراثر آنے سے بچا لے ۔ جو مرد یا عورت ایسا نہ کرے اُس کو ایسا نہ کرنے کی یہ بھاری قیمت دینی پڑے گی کہ وہ نفسیاتی دھبہ اُس کے وجود کا مستقل حصہ بن جائے گا۔ وہ اُس کی داخلی شخصیت کو ہمیشہ کے لیے داغ دار کر دے گا۔

جدید نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک زندہ ذہن اور دوسرا خفتہ ذہن۔ فطری نظام کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی بات آدمی کے ذہن میں داخل ہوتی ہے تو پہلے دن وہ اُس کے زندہ ذہن میں رہتی ہے۔ اس کے بعد آدمی جب رات کو سوتا ہے تو نیند کی حالت میں انسانی دماغ کا فطری نظام اس بات کو زندہ ذہن سے نکال کر خفتہ ذہن میں پہنچا اور جب ایسا ہو جائے تو پھر وہ بات آدمی کے پورے وجود کا حصہ بن جاتی ہے۔

ذہن سے نکالنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر عورت اور مرد دوسروں کے بارے میں شکایتوں اور تلخیوں میں جیتے ہر ایک کسی نہ کسی کے خلاف منفی نفسیات کا شکار رہتا ہے۔ مگر عین اسی وقت وہی مرد اور عورت اپنے بیٹا اور اپنی بیٹی کے لیے ہمیشہ مثبت احساسات کا نمونہ بنے رہتے ہیں۔ حالاں کہ ہر مرد و عورت کو اپنے اولاد سے بھی اسی طرح شکایتیں کے تجربے ہوتے ہیں جس طرح دوسروں سے ہوتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ شکایتوں کے باوجود لوگ اپنی اولاد کے معاملہ میں ہمیشہ معتدل بنے رہتے ہیں۔ کہ یہی لوگ دوسروں کے بارہ میں معمولی شکایتوں کو لے کر اُس کے خلاف ہمیشہ کے لیے نفرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اس فرق کا سبب یہ ہے کہ لوگ ان دونوں کے معاملہ میں دو الگ الگ انداز اختیار کرتے اُن کو جب اپنی اولاد کی طرف سے شکایت کا تجربہ ہوتا ہے تو اُسی وقت وہ کوئی نہ کوئی توجیہہ کر کے اُس کو ختم کر دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کے خلاف شکایت کو وہ اپنے ذہن سے فوراً نکال دیتے ہیں۔ کے برعکس جب اُن کو دوسروں سے کوئی شکایت پیش آجائے تو وہ اُس کو اپنے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں۔ وہ اُس کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ وہ لوگوں سے اس کا چرچا کرتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی بہانے ہر روز اُس کو اپنے ذہن میں تازہ کرتے رہتے ہیں۔

اسی فرق کی بنا پر ایسا ہے کہ اپنی اولاد کے خلاف شکایتیں اُن کے وجود کا حصہ نہیں بنتیں، وہ پیدا ہوتے ہی فوراً ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس دوسروں کے خلاف شکایات ہمیشہ کے لیے ان کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں، وہ کسی طرح ختم نہیں ہوتیں۔

یہ ذاتی تجربہ ہر آدمی کو بتاتا ہے کہ اُس کو دوسروں کے معاملہ میں کیسا ہونا چاہیے۔ اُس کو ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کے معاملہ میں ہے۔ جب بھی کسی کے خلاف کوئی منفی احساس پیدا ہو تو وہ فوراً ہی اس کو اپنے ذہن سے نکال دے۔ کسی بھی حال میں وہ اُس کو اپنے ذہن کا مستقل حصہ نہ بننے دے۔

Printed page