Here the traffic is well-disciplined.
Al-Risala, February 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی سے بالکل مختلف، جہاں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے گویا یہاں ٹریفک کا کوئی
راستہ میں کا جو کے باغات تھے۔ کیرلا میں نقدی اجناس (cash corps) کثرت سے ہیں۔ یہ قدرتی اعتبار سے ایک دولت مند ریاست ہے۔ مگر اس کی نسبت سے بڑی صنعتیں یہاں کم ہیں۔ ۲ مارچ کی سہ پہر کو آشرم سے چل کر ٹریونڈرم ائر پورٹ پہنچا۔ تعمیری اعتبار سے ایک معمولی قسم کا ائر پورٹ نظر آیا۔ ہندوستان ایک دولت مند ملک ہے۔ مگر اس کی دولت چند خاندانوں میں سمٹی نام نہاد سوشلسٹ نظام نے دولت کے اس سمٹا ؤ میں صرف اضافہ کیا ہے۔ کیسا عجیب ہے جان ماتھن (John Mathan) شانتی گری آشرم میں اول سے آخر تک میرے ساتھ رہے۔ وہ میرے مددگار تھے مگر ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔
ایک صاحب جو اس موقع پر یہاں آئے تھے اور اب واپس جارہے تھے، ان سے میں نے پوچھا کہ اتنے لوگ جو یہاں آئے ہیں ان کا مشترک سبب کیا ہے۔ انہوں نے کہا frustration۔
ایک صاحب نے بتایا کہ مجھ پر جن سوار تھا۔ وہ اس مقصد کے لیے یہاں آئے۔ وہ آدمی جرمنی اس کا بھائی جرمنی آیا، اس کے اوپر جن سوار تھا۔ بھائی وہاں آیا اور گرو سے کہا۔ گرو نے یہیں سے دھیان کر کے جن کو ہٹا دیا۔
میرا خیال ہے کہ ہندو گرو اور مسلمان بزرگ دونوں کے یہاں جو بھیڑ ہوتی ہے اُس کا سبب مشترک طور پر ’’برکت‘‘ کا پراسرار تصور ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بزرگ یا گرو کی برکت سے میرا فلاں مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بہت سے لوگ بتاتے ہیں کہ ان کا مسئلہ حل ہو گیا۔ ایسا واقعہ ہمیشہ اتفاقی ہوتا یعنی ایک ہونے والے واقعے کو غلط طور پر کسی گرو یا بزرگ سے منسوب کر دینا۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو سائنس میں لا آف چانس کہا جاتا ہے۔
ٹریونڈرم سے انڈین ائر لائنز کی فلائٹ کے ذریعہ ٹریونڈرم سے بمبئی کے لئے ساڑھے چار بجے روانگی ہوئی ۔ جہاز جب بلند ہو کر فضا میں اُڑنے لگا تو مجھے ایک عجیب خیال آیا۔ جہاز زمین پر کھڑا ہو تو وہ کھڑا رہ سکتا ہے۔ مگر جب اُڑ رہا ہو تو اس کو مسلسل حرکت میں اڑتے رہنا ہے۔ وہ سفر کے دوران کہیں مقام نہیں کر سکتا۔ یہ زمینی سفر اور فضائی سفر کے درمیان فرق کا معاملہ ہے۔ یہی معاملہ زندگی کے سفر کا بھی ہے۔ زندگی کے سفر میں آپ ٹھہر نہیں سکتے۔ اگر ٹھہرے تو اس کے بعد جو چیز آپ کے حصہ میں آئے گی وہ سفر کو کھونا ہوگا، نہ کہ سفر کا جاری رہنا۔
دریا کا پانی نہ کبھی ٹھہرتا ہے اور نہ ایک لمحہ کے لیے پیچھے کی طرف مڑتا ہے۔ وہ مسلسل اور ہر آن اپنی منزل کی طرف اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ یہی کامیابی کا راز ہے۔