One verse a day keeps the Satan away.
Al-Risala, March 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
۷ دسمبر ۲۰۰۲ کے ٹائمس آف انڈیا کے صفحہ ۱۴ پر ایک رپورٹ دیکھی۔ یہ رپورٹ ایک انٹرنیشنل سیمینار کے بارہ میں تھی جو پچھلے دن (۶دسمبر) کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں ہوا تھا۔ افتتاح صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبد الکلام نے کیا تھا۔ مجھے بھی تاکید کے ساتھ اس سیمینار میں بلایا گیا تھا۔ اُس کے مطبوعہ پروگرام میں میرا نام بھی دوسرے اسپیکروں کے ساتھ شامل کر دیا گیا تھا۔ مگر بعض وجوہ سے میں اُس میں شریک نہ ہوسکا۔ اس سیمینار کا اہتمام پوناکے ایک ادارہ ورلڈ فاؤنڈیشن آن ریورینس فار آل لائف (World Foundation on Reverence for All Life) کی طرف سے کیا گیا اس فاؤنڈیشن کے پریزیڈنٹ مسٹر باہری بی۔ آر ملہوترا (Bahri B. R. Malhotra) ہیں ۔ دعوت نامہ مورخہ ۴ دسمبر ۲۰۰۲ کے علاوہ اُن کے کئی ٹیلیفون بھی آئے۔ مگر میں خواہش کے باوجود اُس میں شرکت نہ کرسکا (6111485-20-91-.:Tel)۔
اس انٹرنیشنل سیمینار کی جو مختصر رپورٹ ٹائمس آف انڈیا (۷ دسمبر) میں یونیورسل ہارمنی کے عنوان سے چھپی ہے اُس کو یہاں صفحہ کے نیچے نقل کیا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وسیع پیمانہ پر انٹرنیشنل سیمینار کا اہتمام کرنے کے باوجود، مقررین پیس اور ہارمنی کا کوئی قابل عمل فارمولا پیش نہ کر سکے۔ رپورٹ کے مطابق ، صدر جمہوریہ نے اپنے خطبہ میں کہا کہ مذہب کو روحانیت کا درجہ دینا چاہئے ، اسی سے عالمی اتحاد پیدا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس موضوع پر یہ کوئی واضح بات نہیں۔
صدر صاحب غالباً مذہب کو کلچر یا رسومات کے مجموعہ کے معنی میں لے رہے ہیں۔ حالانکہ مذہب اپنی اصل کے اعتبار سے روحانیت ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہی اسلام کی روح بھی ہے۔ موجودہ زمانہ کے لوگوں نے رسوم و ظواہر کا اہتمام اتنا زیادہ کیا کہ مذہب کی اصل روح اوجھل ہو کر رہ گئی۔ انڈین ایرلائنز کی فلائٹ کے ذریعہ دہلی سے حیدر آباد پہنچا۔ ابھی ہم جہاز کے اندر ہی تھے کہ میرے پاس کے ایک مسافر کی جیب میں رکھے ہوئے موبائل ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فلائٹ حیدر آباد پہنچ چکی ہے۔ میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن کی ترقی نے اُس چیز کو گویا ایک عینی مشاہدہ بنا دیا ہے جس کو پہلے زمانے میں صرف غیبی ایمان کے طور پر ماننا پڑتا تھا۔ یعنی فاصلہ کے باوجود دو شخصوں کے درمیان رابطہ قائم ہونا۔ میرا اپنا حال یہ ہے کہ جب میں ایک شخص کو موبائل ٹیلی فون کے ذریعہ دور کے ایک شخص سے بات کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس حقیقت کا ایک امکانی مظاہرہ کیا جا رہا ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان وحی یا الہام کے ذریعہ کس طرح ربط قائم ہوتا ہے۔
دوگھنٹہ کی پرواز کے بعد ۷ دسمبر کو صبح ۹ بجے ہمارا جہاز حیدرآباد ایرپورٹ پر اُتر گیا۔ بالکل ہموار (smooth) طور پر طے ہوا۔ ہوائی جہاز کا سفر ہوا کے تابع ہوتا ہے۔ ہوا اگر پرسکون ہے تو سفر بھی پرسکون ہوگا اور ہوا میں اگر اضطراب ہے تو سفر میں بھی اضطراب کی حالت جاری رہے گی۔ انسان ہوائی جہاز بنا سکتا ہے مگر انسان کو ہوا کے اوپر کوئی قدرت نہیں۔ اسی مثال سے جبر و اختیار کے معاملہ کو سمجھا جاسکتاہے۔ ہوا کی مثال انسان کی مجبوری کو بتاتی ہے اور ہوائی جہاز کی مثال انسان کے اس دنیا میں انسان کا معاملہ بین بین کا معاملہ ہے۔ یعنی انسان ایک اعتبار سے مجبور ہے اور دوسرے اعتبار سے با اختیار۔
حیدرآباد ایرپورٹ پر ڈاکٹر شیزان صاحب اور مولا نا عمر عابدین صاحب موجود تھے۔ والوں نے یہاں میرے قیام کا انتظام ٹولپ منوہر ہوٹل میں کیا تھا جو ایرپورٹ سے قریب ہے۔ ایرپورٹ پر ہوٹل کا ایک نمائندہ موجود تھا۔ اُس نے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ہم لوگوں کو ہوٹل میں پہنچایا۔ یہاں میرا قیام ہوٹل کے کمرہ نمبر ۲۱۱ میں تھا۔
ڈاکٹر شیزان صاحب اور مولا نا عمر عابدین صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصلاح اور اسلام کے احیاء نو کا جو کام کرنا ہے وہ تقلیدی انداز میں نہیں آج ہزاروں تحریکیں اس مقصد کے لیے سرگرم ہیں مگر مطلوب نتیجہ برآمد نہیں ہورہا ہے۔ خاص سبب یہی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو وقت کے فکری مستویٰ (intellectual level) پر پیش کیا جائے تاکہ وقت کا کارفرما طبقہ اُس کو اپنا سکے۔ تحریکیں اسلام کو وقت کے فکری مستویٰ پر پیش نہیں کررہی ہیں اس لیے عوامی طبقہ کے کچھ لوگ تو ضرور اُن کے گرد اکٹھا ہو رہے ہیں مگر اعلیٰ طبقہ کے لوگ اُنہیں قابل توجہ نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ جب تک اعلیٰ طبقہ کے لوگ متوجہ نہ ہوں اسلام کی نئی تاریخ بنائی نہیں جاسکتی۔
حیدر آباد ایرپورٹ سے روانہ ہو کر سب سے پہلے منوہر ہوٹل پہنچا۔ یہاں الرسالہ کے کئی قارئین اکٹھا ہوگئے ۔ اُن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ اس مجلس میں میں نے جو باتیں کہیں اُن میں
سے ایک یہ تھی کہ معرفت کس طرح آدمی کو ایک نیا انسان بنا دیتی ہے۔ میں نے کہا کہ ایک انگریزی شاعر نے لکھا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں سب سے عجیب چیز یہ دیکھی کہ مس ٹی جو کچھ کھاتی ہے وہ مس ٹی بن جاتا ہے: