Al-Risala · March 2004

Stress Management اسٹریس مینجمنٹ

Al-Risala, March 2004, pp. 2–7

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی میں بار بار مسائل اور مصائب آتے ہیں۔ ایسا ہر مرد اور عورت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس سے کس طرح کامیابی کے ساتھ نپٹا جائے۔ اس کا جواب قرآن کی سورہ نمبر کی ایک آیت میں اُس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو جن کا حال یہ ہے کہ جب اُن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے

مسائل اور مصائب کے وقت کوئی شخص ذہنی تناؤ کا شکار کیوں ہوتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ وہ اُس کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جس کو نہ ہونا چاہیے تھا۔ آدمی اگر یہ سمجھ لے کہ جو کچھ پیش آیا ہے وہ خود فطرت کے قانون کے تحت پیش آیا ہے تو وہ کبھی ذہنی تناؤ کا شکار نہ ہو۔ مثلاً اگر آندھی اور بارش آئے تو وہ بھی انسان کے لیے مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ مگر آندھی اور بارش کے وقت آدمی ذہنی تناؤ کا شکار نہیں وہ اُس کو فطرت کے قانون کے تحت ہونے والا ایک واقعہ سمجھتا ہے اور معتدل انداز میں اُس کا سامنا کرتا ہے۔

یہی معاملہ زندگی کے مسائل اور مصائب کا بھی ہے۔ یہ چیزیں خالق کے تخلیقی منصوبہ کے تحت پیش آتی ہیں۔ وہ انسان کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کی حیثیت رکھتی آدمی اگر پیش آنے والے مصائب کو اس حیثیت سے لے تو وہ کبھی ذہنی تناؤ کا شکار نہ ہو۔ مصائب یا مسائل کا سامنا کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک، صبر کا طریقہ اور دوسرا، بے صبری کا بے صبری کا طریقہ، دوسرے لفظوں میں، منفی ردِ عمل (negative response) کا طریقہ اس کے برعکس صبر کا طریقہ مثبت رد عمل (positive response) کا طریقہ۔ ذہنی تناؤ ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صبر کا طریقہ آدمی کو ذہنی تناؤ کا شکار ہونے سے بچا لیتا ہے۔

اس دنیا میں ہر آدمی قانونِ خداوندی، بالفاظِ دیگر قانونِ فطرت کے تابع ہے۔ وہ اپنے آغاز میں بھی اسی قانون کے ماتحت ہے اور اپنے آخر میں بھی اسی قانون کے ماتحت۔ ایسی حالت میں حقیقت پسندی کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت جب بھی کسی مسئلہ سے دوچار ہو تو وہ معتدل انداز میں اُس کا سامنا کرے۔ وہ اِس کو اپنے حق میں خیر سمجھ کر اُس کو قبول کرے۔ اِس آیت میں مصیبتوں کا مقصد ابتلاء (ولنبلونکم) بتایا گیا ہے۔ ابتلاء کے معنی امتحان یا آزمائش ہیں۔ انسانی زندگی میں اس قسم کے امتحان کا مقصد یہ ہے کہ اُس کو حوادث کے درمیان تربیت دے کر زیادہ بہتر انسان بنایا جائے۔ حوادث کسی آدمی کے لیے ترقی کا زینہ ہیں۔ ذریعہ آدمی کا ذہن بیدار ہوتا ہے۔ حوادث کے ذریعہ آدمی کے اندر پختگی آتی ہے۔ حوادث آدمی کو متحرک کرنے کا ذریعہ ہیں۔ حوادث آدمی کے لیے زندگی کے سفر میں مہمیز کا کام کرتے ہیں۔ کے بغیر آدمی نامکمل ہے۔ یہ حوادث ہی ہیں جو آدمی کی شخصیت کو مکمل شخصیت بناتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حوادث کا صحیح مقابلہ یہ نہیں ہے کہ اپنے اندر ذہنی عمل کو سپریس کر دیا جائے یا اُس کو دبانے کی کوشش کی جائے۔ بہت سے لوگ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ سگریٹ یا شراب کے ذریعہ اُس کو بھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مخصوص ورزشوں کے ذریعہ اپنے اندر ذہنی عمل کو معطل کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی سے فرار (escape) کا کوئی طریقہ تلاش کرتے ہیں۔ میڈیٹیشن (Meditation) کے ذریعہ اپنے ذہن کو ایک ایسی حالت میں لے جاتے ہیں جس کو ذہنی تخدیر (Intellectual anaesthesia) کہا جاسکتا ہے۔ اس قسم کے تمام طریقے فطرت کے خلاف ہیں اور جو چیز فطرت کے خلاف ہو وہ کبھی انسان کے لیے مفید نہیں ہوسکتی۔ اکثریت پر اقلیت کا غلبہ قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ایک قدیم واقعہ کا ذکر ہے۔ اس کے تحت فطرت کے ایک ابدی قانون کو بتایا گیا ہے، ایک ایسا قانون جو کبھی بدلنے والا نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی مذکورہ آیت کا ایک حصہ یہ ہے:

"کتنے ہی چھوٹے گروہ اللہ کے حکم سے بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے" (البقرہ ۲۴۹)

قرآن کی اس آیت میں چھوٹے گروہ اور بڑے گروہ کے درمیان جس ہونے والے واقعہ کو بتایا گیا ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں، وہ مکمل طور پر ایک فطری واقعہ ہے جو معلوم قانون کے تحت پیش آتا مزید یہ کہ اُس کا تعلق ہر گروہ سے ہے، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ خواہ وہ ایک ملک کا رہنے والا ہو یا کسی دوسرے ملک کا رہنے والا۔ خواہ وہ ایک زمانہ میں رہنے والا ہو یا کسی دوسرے زمانہ میں رہنے والا۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر اتھاہ صلاحیت موجود ہے۔ مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیت سوئی ہوئی ہوتی ہے۔ جو چیز اس صلاحیت کو جگاتی ہے وہ صرف ایک ہے، اور وہ چیلنج ہے، اسی چیلنج کی حالت کو قرآن میں عداوت (الاعراف ۲۴) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چیلنج (یا عداوت) کے حالات آدمی کے اندر سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کو چیلنج والے حالات پیش نہ آئیں اُن کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار نہیں ہوتیں۔ وہ ایک کمتر انسان کی مانند جیتے ہیں اور کمتر انسان کی مانند مر جاتے ہیں۔

چھوٹے گروہ اور بڑے گروہ کے درمیان فرق اسی فطری قانون کی بنا پر پیش آتا ہے۔ میں جب ایک گروہ کم تعداد میں ہو اور دوسرا گروہ زیادہ تعداد میں تو اس فرق کی بنا پر دونوں کو الگ الگ حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ایک کو صبر کی مشقت سے گزرنا پڑتا ہے اور دوسرا صبر کی مشقت سے بچار ہتا ہے۔ چھوٹا گروہ مسلسل طور پر بڑے گروہ کے مقابلہ میں چیلنج کی حالت میں رہتا ہے۔ کی بنا پر چھوٹے گروہ کے لوگوں کی صلاحیتیں مسلسل بیدار ہوتی رہتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ اپنی برتر پوزیشن کی بنا پر چیلنج یا دباؤ کی صورت حال سے بچا ہوا ہوتا ہے۔ اس لیے اُس کی صلاحیتیں زیادہ بیدار نہیں ہوتیں۔

اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ چھوٹے یا کمزور گروہ کی تخلیقیت (creativity) بڑھتی رہتی اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ مسلسل طور پر غیر تخلیقیت (uncreativity) کا شکار ہو جاتا ہے۔

عمل خاموشی کے ساتھ اور مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ ایک گروہ پورے معنوں میں تخلیقی گروہ (creative group) بن جاتا ہے، اور دوسرا گروہ پورے معنوں میں غیر تخلیقی گروہ (uncreative group) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

قرآن کی یہ آیت ایک فطری حقیقت کو بتاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فئہ قلیلہ (غیر محفوظ گروہ) مسلسل اپنی اہلیت کو بڑھاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ تعداد کی قلت کے باوجود اپنی برتر صفات کی بنا پر عملاً غالب حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس فئہ کثیرة (محفوظ گروہ) مسلسل طور پر انحطاط کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ وہ باہمی اتحاد، گہری سوچ اور دور رس عمل جیسی صلاحیتوں سے محروم ہوتا چلا یہاں تک کہ وہ آخر کار اپنی ہی دنیا میں عملاً مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے۔ معاملہ کی کتابت قرآن کے مطابق، درست معاملہ کی بے حد اہمیت ہے۔ درست معاملہ کسی انسان کے حق پرست ہونے کی پہچان ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے:

”اے ایمان والو، جب تم کسی مقرر مدت کے لیے اُدھار کا لین دین کرو تو اِس کو لکھ لیا کرو۔ اور اِس کو لکھے تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ۔ اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے، جیسا اللہ نے اُس کو سکھایا، اسی طرح اُس کو چاہیے کہ لکھ دے۔ اور وہ شخص لکھوائے جس پر حق آتا ہے۔ اور وہ ڈرے اللہ سے جو اِس کا رب ہے اور اِس میں کوئی کمی نہ کرے۔ اگر وہ شخص جس پر حق آتا ہے بے سمجھ ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو چاہئے کہ اُس کا ولی انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ کر لو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تاکہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اُس کو یاد دلا دے۔ اور گواہ انکار نہ کریں جب وہ بلائے جائیں۔ اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کے تعین کے ساتھ اُس کو لکھنے میں کاہلی

یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کا طریقہ ہے اور گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قرین قیاس ہے کہ تم شبہ میں نہ پڑو۔ لیکن اگر کوئی سودا دست بدست ہو جس کا تم آپس میں لین دین کیا کرتے ہو تو تم پر کوئی الزام نہیں کہ تم اُس کو نہ لکھو۔ مگر جب یہ سودا کرو تو گواہ بنا لیا کرو، اور کسی لکھنے والے کو یا گواہ کو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہارے لیے گناہ کی بات ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے ‘‘ (البقرہ ۲۸۲)

یہ آیت قرآن کی سب سے زیادہ لمبی آیت ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ باہمی معاملہ میں کتابت کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ معاملات میں ہمیشہ شکایت اور اختلاف کا امکان رہتا ہے۔ حل یہ ہے کہ معاملہ کے وقت اُس کو باقاعدہ صورت میں لکھ لیا جائے۔ کتابت معاملہ کا ایک ایسا مستند ریکارڈ ہے جو کسی امکانی اختلاف کو طے کرنے کے لیے ایک یقینی ذریعہ ہے۔ معاملہ کو باقاعدہ تحریر میں لانا سماج کے باہمی اختلاف کو ختم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عورت اور مرد کے ذہن کی بناوٹ میں فرق ہے۔ کی بنا پر ایسا ہے کہ مرد کے اندر کسی ایک چیز پر فوکس کرنے کی زیادہ صلاحیت ہے۔ جب کہ عورت کا فوکس پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ امکان ہے کہ ایک عورت کسی معاملہ کو پوری طرح اپنی ذہنی گرفت میں نہ لے سکے۔ اس فرق کے پیش نظر یہ احتیاطی تدبیر بتائی گئی کہ گواہ اگر عورت ہے تو دو عورتوں کو گواہ بنا لو تا کہ ایک عورت دوسری عورت کی تلافی کر سکے۔

آیت کے آخر میں فرمایا کہ: واتقوا اللہ و يعلمکم اللہ (اللہ سے ڈرو اور اللہ تم کو تعلیم اس سے معلوم ہوا کہ علم کا تعلق تقویٰ سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم اور صحت فکر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ آدمی کے پاس اگر علم یا معاملات کا ذخیرہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ درست فکر یا صحیح سوچ کا بھی حامل ہوگا۔

اصل یہ ہے کہ علوم قطعیہ (exact sciences) میں ریاضیات اور تجربات کے ذریعہ حتمیت

پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر جہاں تک علوم ظنی (especulative sciences) کا تعلق ہے، اُن میں اس قسم کی حمیت ممکن نہیں۔ اس دوسری قسم کے علوم میں صحت فکر کے لیے سنجیدگی (sincerity) لازمی طور پر ضروری ہوتی ہے۔ تقویٰ آدمی کے اندر یہی سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ یہ سنجیدگی اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ آدمی کا علم اُس کو بھٹکنے سے بچا لے۔

تقویٰ (خوف خدا) کبروغرور کا قاتل ہے۔ تقویٰ آدمی کے اندر انانیت (egoism) کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ تقویٰ آدمی کو عُجب اور خود پسندی سے بچا لیتا ہے۔ تقویٰ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ بے لاگ طور پر سوچے اور کسی آمیزش کے بغیر اپنی رائے قائم کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تقویٰ کو علم صحیح کا ذریعہ بتایا گیا۔

Printed page