Al-Risala · March 2004

اجتماعی احتساب

Al-Risala, March 2004, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں بتایا گیا ہے کہ کسی معاشرہ کی صلاح و فلاح کے لیے کس چیز کی فرمایا و لتكن منكم امة يدعون الى الخير و يامرون بالمعروف و ينهون عن المنکر و اولئک ھم المفلحون ۔

”اور ضرور ہے کہ تم میں ایک گروہ ہو جو نیکی کی طرف بلائے اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔ “ (آل عمران ۱۰۴)

قرآن کی اس آیت میں معاشرہ کی فلاح کے لیے جس اہتمام کا تذکرہ کیا گیا ہے اُس کو اجتماعی احتساب کا نظام کہا جا سکتا ہے۔ یہ اجتماعی احتساب تمام تر ایک غیر سیاسی ادارہ ہے، اُس کا کوئی تعلق حکومت سے نہیں۔ حکومت قائم ہو یا قائم نہ ہو، ہر حال میں اجتماعی احتساب کا یہ کام غیر حکومتی اداروں کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔

ہر سماج میں ایسا ہوتا ہے کہ اُس کے بعض افراد ایسے کام کرتے ہیں جس سے لوگوں کے اندر اشتعال پھیلے اور فساد کی نوبت آ جائے۔ اس کے روک کی تدبیر یہ ہے کہ سماج کے اندر ایسے افراد اور ایسی تنظیمیں ہوں جو ہر ایسے موقع پر حرکت میں آ جائیں۔ وہ بُرائی کرنے والوں کی مذمت کریں۔

سماج کو تیار کریں کہ وہ ایسے افراد کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت نہ کرے ۔ وہ نصیحت اور تذکیر کے تمام ذرائع کو استعمال کر کے برائی میں ملوث ہونے والے افراد کی اصلاح کی مہم چلائیں۔ وہ ایسا ماحول پیدا کریں کہ بُرے افراد کے لیے سماج میں با عزت طور پر رہنا نا ممکن ہو جائے۔

یہی اجتماعی احتساب کا نظام ہے۔ یہی نظام کسی سماج کی فلاح کا ضامن ہے۔ جس سماج میں ایسا ہو کہ سماج کے سر بر آوردہ لوگ بُرے افراد کی مذمت نہ کریں ، وہ ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کے لیے کھڑے نہ ہوں ، ایسا سماج یقینی طور پر فلاح سے محروم رہے گا۔

آیت میں فرمایا کہ : واولئک هم المفلحون (اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں)۔ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ در اصل فطرت کا ایک قانون ہے جس کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی فلاح کا بہت کم تعلق حکومت اور قانون سے ہے۔ اس کا زیادہ تعلق اُن تعمیری سرگرمیوں سے ہے جو غیر حکومتی سطح پر انجام دی جائیں ۔ کسی سماج میں یہ ہونا چاہیے کہ اُس کے افراد دوسروں کے معاملہ میں غیر جانبدار بن کر نہ رہیں۔ وہ اپنی ذاتی فلاح کے ساتھ دوسروں کی فلاح بھی دل سے چاہتے ہوں ۔ جس سماج کے افراد میں یہ اسپرٹ ہو وہاں یہ ہوگا کہ لوگ ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہیں گے ۔ وہ ظالم کے مقابلہ میں مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ وہ کسی دوسرے کو تکلیف میں دیکھیں گے تو وہ اُس پر تڑپ اُٹھیں گے اور اجتماعی زور کے ساتھ اُس کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش وہ یہ چاہیں گے کہ سماج میں برائی دبے اور اچھائی پھیلے۔ اس قسم کا اصلاحی مزاج ہی کسی سماج کی تعمیر و ترقی کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ قرآن کی اس آیت میں در اصل اجتماعی ضمیر کی بات کہی گئی ہے، حکومت واقتدار سے اُس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

Printed page