حالات یکساں نہیں رہتے
Al-Risala, March 2004, pp. 9–12
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں ایک صورتِ حال پر تبصرہ ہے۔ پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کو بدر کے
مقابلہ میں اپنے مخالفین پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد اُحد کے مقابلہ میں اُنہیں اپنے مخالفین سے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے:
’’اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو دشمن کو بھی ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ ‘‘ (آل عمران ۱۴۰)
قرآن کی اس آیت میں قوموں کے بارہ میں ایک تاریخی قانون کو بتایا گیا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی قوم ہمیشہ غالب رہے یا ہمیشہ فتح حاصل کرتی رہے۔ اس بنا پر حالات ہمیشہ کسی ایک قوم کے موافق نہیں ہوتے۔ حالات کا فیصلہ کبھی ایک گروہ کے حق میں ہوتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کے حق میں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو چاہئے کہ وہ تاریخ کے فیصلہ کو قبول کریں۔ شکایت اور احتجاج کے بجائے از سر نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسابقت کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں کبھی ایک گروہ کو جیت حاصل ہوتی ہے اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ مقابلہ آرائی کا یہ ماحول قوموں کو مسلسل طور پر بیدار رکھتا ہے۔ اس کی وجہ سے ترقی کا عمل برابر جاری رہتا ہے۔
ایسی حالت میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ ہارنے والے اور جیتنے والے دونوں اپنی ہار اور جیت کو وقتی سمجھیں ۔ نہ ہارنے والا پست ہمت ہو اور نہ جیتنے والا فخر و ناز کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے ۔ معاملہ میں معتدل رویہ پر قائم رہنا گویا قدرت کے فیصلہ کو تسلیم کرنا ہے۔ اس کے برعکس معتدل رویہ سے ہٹنا گویا قدرت کے فیصلہ پر راضی نہ ہونا ہے۔ مگر جو لوگ اس معاملہ میں قدرت کے فیصلہ پر راضی نہ ہوں وہ خود اپناہی نقصان کریں گے، نہ کہ کسی اور کا۔
یہ معاملہ پوری طرح فطرت کے قانون کا معاملہ ہے۔ وہ کسی کے لیے اور کسی کی وجہ سے بدلنے والا نہیں۔ ایسی حالت میں کوئی فریق اگر اس کو قبول نہ کرے تو اُس کا یہ عدم قبول ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ مجھے پھول کے ساتھ کانٹا مطلوب نہیں یا کوئی شخص اس بات پر احتجاجی مہم چلائے
کہ دنیا کے نظام کو اس طرح بدل جانا چاہیے کہ یہاں صرف میرے موافق موسم ہو، اور جو موسم میرے خلاف ہو وہ کبھی زمین پر نہ آئے۔
عالمی نظام کے بارہ میں اس قسم کی شکایت واحتجاج جتنی بے معنی ہے اتنا ہی بے معنی وہ شکایت واحتجاج بھی ہے جو سیاسی تبدیلی یا قوموں کے عروج و زوال پر کی جائے۔ کائنات معرفت کا خزانہ ہے قرآن میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا گیا ہے وہ تدبر اور تفکر ہے۔ قرآن کے مطابق، ہماری گردو پیش کی دنیا حقائق کا خزانہ ہے۔ اُس میں غور و فکر کے ذریعہ آدمی زندگی کی حقیقتوں کو دریافت کر سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی کچھ آیتیں یہ ہیں:
’’ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اُٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا‘‘۔ (آل عمران ۱۹۱)
قرآن کی ان آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے اُس کو سائنس آف ٹرو تھ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ کائنات کے سائنسی مطالعہ کا مقصد صرف ٹیکنکل ترقی نہیں ہے اس سے بڑھ کر اُس کا ایک اور مقصد ہے، اور وہ ہے خالق کی تخلیقات میں خالق کو دریافت کرنا۔ تخلیقات کا گہرا مطالعہ کرکے زندگی کے راز کو معلوم مادی کائنات کی تحقیق کر کے یہ جاننا کہ اُس کے نقشہ کے مطابق ، انسانی ترقی کا قانون کیا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ کائنات میں کوئی خلل نہیں (الملک ۳) اس طرح کائنات کا مطالعہ انسان کے لیے اس میں مددگار ہے کہ وہ اپنی زندگی کی تعمیر و تشکیل بھی کامیابی کے ساتھ انجام دے سکے۔ یہ ہے کہ انسان کے لیے اپنی زندگی میں جو نقشہ مطلوب ہے وہ وہی ہے جو بقیہ کائنات میں بالفعل قائم چنانچہ آدمی جب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ اُس میں ایک طرف خالق کی تجلیات کو پالیتا ہے اور
دوسری طرف اُس کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس کو اپنی زندگی کی کامیاب تعمیرکن خطوط پر کرنا چاہئے۔ خواہش کے خلاف قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں اسی پر زور دیا گیا ہے کہ شوہر اور بیوی میں اگر اختلاف ہو جائے اور وہ ایک دوسرے کو ناپسند کرنے لگیں تو دونوں کو ٹکراؤ کے بجائے موافقت کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے اس سلسلہ میں کہا گیا ہے کہ :
" اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لئے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو " ( النساء ۱۹ )
میاں اور بیوی کے تعلقات میں جب بھی اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہر ایک دوسرے کے ناپسندیدہ پہلو کو مبالغہ آمیز انداز میں دیکھنے لگتا ہے ۔ حالانکہ اسی وقت اُس کے اندر کسی اور اعتبار سے پسندیدہ پہلو موجود ہوتا ہے ۔ مگر غصہ کی وجہ سے دونوں پسندیدہ پہلو کو دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی آدمی صرف برا نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کی زندگی کا کوئی مثبت پہلو ہوتا ہے اور کوئی منفی پہلو۔ اگر منفی پہلو کو نظر انداز کر کے معاملہ کیا جائے تو اس کے زبردست فائدے دونوں فریق کو حاصل ہوں گے۔
ازدواجی زندگی میں جب ایک مرد اور عورت دونوں اپنے آپ کو شامل کرتے ہیں تو یہ دونوں کے لیے سب سے زیادہ قریبی تعلق کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ اس قسم کا قریبی تعلق بے حد مفید ہے۔ مگر اس کے ساتھ اس قسم کے قریبی تعلق میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان فرق کی بنا پر اختلافات پیدا ہو جائیں اور پھر کسی ایک فرق کی بنا پر دونوں ایک دوسرے کو مطلوب سے کم سمجھنے لگیں ۔ مگر یہ سرتا سر نادانی عقلمندی یہ ہے کہ قریبی تعلق کے تعمیری پہلوؤں کو دھیان میں رکھا جائے اور اُن سے بھر پور طور پر فائدہ اٹھایا جائے ۔ جہاں تک ناپسندیدہ پہلوؤں کی بات ہے تو اس معاملہ میں حقیقت پسندانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے اُس کو نظر انداز کر دینا چاہئے ، یہی مرد کو بھی کرنا ہے اور یہی عورت کو بھی۔