Al-Risala · March 2004

دور رس کلام

Al-Risala, March 2004, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں کامیاب کلام کا ذکر کیا گیا ہے۔ پیغمبر سے خطاب کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ بظاہر انکار کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں اُن کو کس طرح اقرار کی روش پر لایا جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے:

"پس تم ان سے اعراض کرو اور اُن کو نصیحت کرو اور اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں تک پہنچنے والی ہو"۔

جب کوئی شخص کسی بات کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو اُس کا یہ انکار سادہ طور پر محض انکار نہیں ہوتا بلکہ اُس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اپنے ذہنی ڈھانچہ کی بنا پر وہ بات اُس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ لمبی مدت تک ایک خاص فکری ماحول میں رہنے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو ایک خاص زاویہ سے دیکھنے لگتا اس لیے وہ چیزوں کو کسی اور زاویہ سے دیکھ نہیں پاتا۔ اکثر حالات میں کسی انسان کا انکار اُس کی فکری مجبوری کی بنا پر ہوتا ہے، نہ کہ دانستہ سرکشی کی بنا پر۔

ایسی حالت میں ضرورت ہوتی ہے کہ صبر آزما کوشش کے ذریعہ اُس کے اندرنئی سوچ لائی اُس کے ذہن کے اوپر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹا دیا جائے۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کی منفی روش کو نظر انداز کرتے ہوئے خیر خواہانہ طور پر اُن کو سمجھا نے بجھا نے کا طریقہ جاری رکھے۔ کے ذہن پر پڑے ہوئے پردوں کو اس طرح ہٹائے کہ سچائی کی بات کسی رکاوٹ کے بغیر اُس کے ذہن تک پہنچ جائے۔ جب ایسا ہوگا تو اُس کے لیے سچائی کا اعتراف اُسی طرح آسان بن جائے گا جس طرح کسی باپ کے لیے اپنے بیٹے کو پہچاننا آسان ہوتا ہے۔

Printed page