Al-Risala · March 2004

ٹائم مینجمنٹ

Al-Risala, March 2004, pp. 13–16

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں نماز کا حکم بتایا گیا ہے جو اسلام میں اہم ترین عبادت ہے۔ میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے:

"بے شک نماز مسلمانوں پر فرض ہے اپنے مقرر وقتوں میں" (النساء ۱۰۳)

نماز اسلام کی ایک بنیادی عبادت ہے۔ اُس کا ادا کرنا ہر مسلمان پر ہر روز کے لیے فرض ہے۔ وہ رات اور دن کے درمیان پانچ بار مقررا وقات پر ادا کی جاتی ہے۔ جس طرح نماز کی ادائیگی ضروری ہے اُسی طرح اسی کے اوقات کی پابندی بھی ضروری ہے۔

نماز اصلاً ایک عبادت ہے۔ مگر اُس کی ادائیگی میں اوقات کی پابندی کو شامل کر دیا گیا ہے۔ اِس طرح نماز گویا وقت کی پابندی کا ایک سبق ہے جو ہر دن لازمی طور پر انجام دیا جاتا ہے۔ الفاظ میں یہ کہ نماز عبادت کے ساتھ ٹائم مینجمنٹ (time management) کی ایک لازمی تربیت اِس طرح نمازی کے رات اور دن کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے—(۱) فجر سے لے کر ظہر تک (۲) ظہر سے لے کر عصر تک (۳) عصر سے لے کر مغرب تک (۴) مغرب سے لے کر عشاء تک (۵) عشاء سے لے کر فجر تک۔

انسان کے پاس سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ وقت کے صحیح استعمال کا انجام کامیابی ہے اور وقت کے غلط استعمال کا انجام ناکامی ہے۔ نماز کی صورت میں ٹائم مینجمنٹ کا سبق جو ہر روز دیا جاتا ہے وہ اِس دنیا میں کامیاب زندگی کو یقینی بناتا ہے۔ آدمی اگر اپنے رات اور دن کے اوقات کو اس طرح پانچ خانوں میں تقسیم کر لے اور روزانہ اِس کی پابندی کرے تو وہ اپنی پوری زندگی کو بھر پور طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ اور اِس دنیا میں جو آدمی اپنے ملے ہوئے اوقات کو منظم طور پر اور بھر پور طور پر استعمال کرے اُس کو کوئی بھی چیز اعلیٰ کامیابی تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔

ٹائم مینجمنٹ کا مطلب، دوسرے لفظوں میں لائف مینجمنٹ ہے۔ زندگی کو درست طور پر کیسے گزارا جائے، اِس کا بہت گہرا تعلق اس سے ہے کہ آدمی اپنے اوقات کو کس طرح استعمال کرے۔ آدمی کے اندر وقت کے درست استعمال کا مزاج پیدا ہو جائے وہ اِس کے ساتھ دوسری بہت سی برائیوں سے بچ جائے گا۔ وقت کا صحیح استعمال آدمی کو اس قابل بنائے گا کہ وہ اپنے حاصل شدہ ذرائع کو درست طور پر استعمال کرے۔

مثلاً ٹائم مینجمنٹ کا مزاج آدمی کو سادہ زندگی پر مجبور کر دیتا ہے۔ کیوں کہ سادہ زندگی اختیار نہ

کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک معاملہ میں ضرورت سے زیادہ توجہ دینا، دوسرے معاملہ میں کمی کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اسی طرح تفریح کا مزاج آدمی کو یہ نقصان پہنچاتا ہے کہ اُس کے پاس دوسرے زیادہ ضروری کاموں کے لیے وقت ہی نہ رہے۔ اسی طرح لذیذ کھانوں کا شوق آدمی کے لیے اس نقصان کا سبب بنتا ہے کہ وہ زندگی کے دوسرے ضروری پہلوؤں کے بارہ میں غافل ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹائم مینجمنٹ اپنے اوقات کی درست تقسیم کا دوسرا نام ہے۔ جب آدمی کے اندر صحیح معنوں میں ٹائم مینجمنٹ کا احساس پیدا ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ بہت سی غیر ضروری یا غیر اہم چیزوں سے بچ جائے گا۔ مثلاً فضول خرچی، مصنوعی تکلفات، غیر حقیقی مشاغل، وقتی تفریحات، وغیرہ۔

زندگی میں سادگی کی بے حد اہمیت ہے۔ سادگی با مقصد انسان کا کلچر ہے۔ تا ہم سادگی کے اصول پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جو ٹائم مینجمنٹ کی اہمیت کو سمجھ لے، وہ اپنے اوقات کے بارہ میں پوری طرح حساس ہو جائے۔ ایسا آدمی جب بھی سادگی کے خلاف کوئی کام کرے گا تو اُس کی یہ حساسیت اُس کو فورا روک دے گی۔ وہ محسوس کرے گا کہ وہ سادگی کے خلاف طریقہ استعمال کر کے اپنے آپ کو اس ہلاکت میں ڈال رہا ہے کہ اُس کے پاس زیادہ اہم کاموں کے لیے نہ پیسہ رہے اور نہ وقت۔ صلح بہتر ہے قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں شوہر اور بیوی کے درمیان نزاع کا ذکر ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اس مسئلہ کا حل کس طرح تلاش کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے:

اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے۔ اور حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اُس سے باخبر

قرآن کی اس آیت میں صلح کو بہتر بتایا گیا ہے۔ یہ بات بظاہر خاندانی نزاع کے بارہ میں ہے

مگر اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ صلح ایک اعلیٰ تدبیر ہے جو ہر نزاعی مسئلہ کا واحد کامیاب حل ہے، خواہ وہ نزاعی مسئلہ انفرادی ہو یا اجتماعی، خواہ وہ قومی ہو یا بین الاقوامی۔ جب بھی دو آدمیوں یا دو فریقوں کے درمیان کوئی نزاع پیش آتی ہے تو اس نزاع کو حل تک نہ پہنچنے کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ حرص ہے۔ اس موقع کے لحاظ سے حرص کا مطلب یہ ہے کہ عملاً جو کچھ مل رہا ہے اُس پر راضی نہ ہونا اور اُس سے زیادہ چاہنا۔ یہی حرص یا زیادہ چاہنے کا مزاج نزاع کو ختم نہیں ہونے دیتا۔ وہ آخر کار بڑھ کر باقاعدہ ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے۔

اس کے مقابلہ میں صلح یہ ہے کہ بروقت جو کچھ عملی طور پر مل رہا ہے اُس پر راضی ہو کر معاملہ کو ختم جب ایک شخص صلح کے اس طریقہ کو اختیار کرے تو اپنے آپ نزاع کی حالت ختم ہو جاتی ہے۔ اُس کے بعد یہ نوبت ہی نہیں آتی کہ نزاع بڑھ کر ٹکراؤ بن جائے۔ نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو حرص کا طریقہ ہمیشہ مزید نقصان کا سبب بنتا ہے، اور صلح کا طریقہ کام کے مواقع کھولتا ہے جس کو استعمال کر کے مزید ترقی حاصل کر لی جائے۔

صلح کوئی سادہ بات نہیں۔ صلح کوئی انفعالی روش نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صلح اپنے آپ میں سب سے بڑا عمل ہے۔ صلح بظاہر میدانِ مقابلہ سے واپسی ہے۔ مگر عملاً وہ اقدام کی سب سے بڑی تدبیر جب کوئی فرد یا گروہ صلح کر لے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس نے اپنے لیے ایک ایسا ماحول پالیا جس کے اندر وہ ٹکراؤ میں وقت ضائع کیے بغیر اپنے پورے وقت اور طاقت کو اپنے تعمیری منصوبہ

غیر مصالحانہ طریقہ زندگی کے سفر کو روک دیتا ہے۔ اس کے برعکس مصالحانہ طریقہ زندگی کے سفر کو کے بغیر دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری کر دیتا ہے۔

Printed page