سچائی کی دریافت
Al-Risala, March 2004, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ایک واقعہ کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: اور جب وہ اس کلام کو سنتے
ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اس سبب سے کہ اُن کو حق کا عرفان حاصل ہو گیا (المائدہ ۸۳)۔ ایک اور موقع پر اسی قسم کی بات کہی گئی ہے: ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں اُن کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ اُن کا ایمان بڑھا دیتی ہیں (الانفال ۲) ان آیتوں سے ایک اہم حقیقت واضح ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ سچائی سب سے بڑی طاقت ہے۔ کوئی انسان جب سچائی کو دریافت کرتا ہے تو اُس کی پوری شخصیت ہل جاتی ہے۔ اُس کے اندر ایک ذہنی انقلاب پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ روحانیت کے سمندر میں نہا اٹھتا ہے۔ اُس کو ایک نئی روشنی حاصل ہوتی ہے جو اُس کی اندرونی شخصیت کو آخری حد تک منور کر دیتی ہے۔ سچائی کی دریافت کسی انسان کے لیے سب سے بڑا تجربہ ہے، اس سے زیادہ بڑا تجربہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس آدمی کے پاس سچائی ہو وہ سب سے زیادہ طاقتور انسان وہ ایک تسخیری طاقت کا مالک ہے۔ وہ لوگوں کے دلوں کو جیت سکتا ہے۔ وہ ہتھیار کے بغیر فاتح بن سکتا ہے۔ بظاہر کوئی مادی طاقت نہ رکھتے ہوئے بھی وہ سب سے بڑی طاقت کا مالک ہے۔ پانے والے کے لیے سچائی ایک انقلاب ہے۔ اور سچائی رکھنے والے کے لیے سچائی ایک طاقت کا
کسی شخص کی زندگی میں جو چیز سب سے زیادہ ہلچل پیدا کرنے والی ہے وہ سچائی کی دریافت کسی آدمی کا یہ احساس کہ میں نے سچائی کو اُس کی بے آمیز صورت میں دریافت کر لیا ہے، اؔس کے اندر فکر و خیال کا طوفان برپا کر دیتا ہے۔ اس قسم کا واقعہ کسی آدمی کے پورے اندرونی وجود کو متحرک کر دیتا وہ اُس کو معمولی انسان کے درجہ سے اٹھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔ خدا کا کلام صرف یہ نہیں کرتا کہ وہ انسان کو کچھ باتوں کی خبر دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ انسان کی سوئی ہوئی فطرت کو جگاتا ہے۔ وہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود چراغ کو روشن کر دیتا وہ انسان کے داخلی شعور کو خارجی حقیقت سے جوڑ دیتا ہے۔
انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر معرفت کا احساس رکھ دیا گیا ہے۔ مگر اس خفتہ احساس کو متحرک (activate) کرنے کے لیے خارجی مدد کی ضرورت ہے۔ خدا کا کلام یہی خارجی مدد فراہم کرتا ہے۔ خدا کے کلام سے رہنمائی پانے کے بعد انسان کا حال یہ ہوتا ہے جیسے اندھیرا گھر روشن ہو جائے یا سوکھا ہوا باغ لہلہا اُٹھے۔