اعراض کا طریقہ
Al-Risala, March 2004, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۷ میں چند اخلاقی نصیحتیں کی گئی ہیں۔ اُن میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ باہمی معاملات میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ قرآن کی مذکورہ آیت کا ترجمہ یہ ہے: درگزر کرو، نیکی کا حکم دو اور نادانوں سے اعراض کرو (الاعراف (۱۹۹)
اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان اختلاف پیدا ایک دوسرے کے درمیان بحث اور تکرار شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر درست طریقہ کیا وہ یہ ہے کہ اگر فریق ثانی سنجیدہ ہو، وہ مسئلہ کو حقیقی طور پر سمجھنا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں دلیل کے ذریعہ اُس کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہیے۔ اور اگر وہ سنجیدہ نہ ہو تو ایسی حالت میں دلیل اور منطق اُس کو متاثر نہ کر سکے گی۔ وہ ہر دلیل کے جواب میں کچھ خود ساختہ الفاظ بول دے گا اور پھر یہ سمجھے گا کہ اُس نے پیش کردہ دلیل کو رد کر دیا ہے۔
اس دوسری صورت میں درست طریقہ یہ ہے کہ اعراض (avoidance) کے اصول پر عمل کیا اعراض کا مقصد دراصل یہ ہے کہ آدمی کو اُس کے ضمیر کے حوالہ کر دیا جائے ۔ عین ممکن ہے کہ جو مقصد دلیل کے ذریعہ پورا نہیں ہوا وہ ضمیر کی خاموش آواز کے ذریعہ پورا ہو جائے۔ عملی نزاع کو ختم کرنے کے لیے بھی سب سے زیادہ موثر ذریعہ اعراض ہے۔ عملی نزاع کے وقت اگر اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے تو نزاع اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو جائے گی۔ اعراض نہ کرنے کا نقصان یہ ہے کہ نزاع بڑھتی رہے، یہاں تک کہ چھوٹی برائی (lesser evil) کی جگہ بڑی برائی (greater evil) کا سامنا کرناپڑے۔
اعراض کوئی سادہ چیز نہیں، وہ ایک اعلیٰ اخلاقی روش ہے۔ وہ ایک اعلیٰ انسانی طریقہ ہے۔ شخص جب اشتعال کی صورت پیش آنے پر بھڑک اُٹھے تو وہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک پست انسان
اس کے برعکس جو آدمی اشتعال کی صورت پیش آنے پر نہ بھڑ کے وہ ایسا کر کے یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ بلند انسانی مرتبہ پر ہے، وہ صحیح معنوں میں اعلیٰ انسان کہے جانے کا مستحق ہے۔ یقین و اعتماد قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ مکہ میں پیدا ہوئے۔ وہاں اُن کی سخت مخالفت ہوئی۔ اس کے بعد وہ ۶۲۲ء میں مکہ سے مدینہ چلے یہ ایک بے حد خطرناک سفر تھا۔ دو ہفتہ کے اس سفر کے دوران ایک بار وہ ایک غار (ثور) میں چھپے ہوئے تھے۔ آپ کے مخالفین جو آپ کی تلاش میں نکلے تھے، وہ تلوار لیے ہوئے غار کے منھ تک پہنچ اُس وقت آپ کے واحد ساتھی ابو بکر صدیق تھے۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ اے خدا کے رسول، وہ تو یہاں بھی پہنچ گئے۔ اس کے بعد قرآن کا بیان یہ ہے ــ اذ يقول لصاحبه لا تحزن ان الله معنا :
جب پیغمبر اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے (التوبہ ۴۰) موجودہ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی ایسی صورت حال میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے یار و مددگار سمجھنے لگتا ہے۔ اس حالت میں اُس کو ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ایسی ذات ہو جس پر وہ یقین کر سکے۔ جو اُس کے عجز کی تلافی بن جائے ۔
خدا کی ذات پر یقین آدمی کو یہی اتھاہ سہارا دیتا ہے۔ خدا تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ خدا پر یقین آدمی کو ایک ایسی ہمت دیتا ہے جو کبھی نہ ٹوٹے۔ خدا کا عقیدہ کسی آدمی کے لیے حوصلہ کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ جس آدمی کو خدا کی ذات پر پورا یقین ہو جائے وہ کسی بھی حال میں بے حوصلہ نہیں وہ کسی بھی حال میں اس احساس سے دوچار نہیں ہوگا کہ اُس کا راستہ بند ہے۔ وہ ہر حال میں آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ زندگی کی آخری منزل تک پہنچنے میں کوئی بھی چیز اُس کے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی۔ خدا کا یہ عقیدہ انسان کی اپنی صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ وہ انسان کے اندر ایک نیا عزم پیدا کر دیتا ہے۔ وہ اس کی داخلی قوتوں کو متحرک کر کے ایک بے حوصلہ انسان کو باحوصلہ انسان بنا دیتا ہے۔