قوموں کا عروج و زوال
Al-Risala, March 2004, pp. 25–26
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۱۳ میں بتایا گیا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا قانون کیا ہے۔ کے ایک اُصول پر مبنی ہے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم:
بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اُس کو نہ بدل ڈالیں جو اُن کے میں ہے (الرعد ۱۱)
قرآن کی اس آیت میں ما بقوم سے مراد کسی قوم کی اجتماعی حالت ہے اور ما بانفس سے مراد کسی قوم کی انفرادی حالت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی قوم کی اجتماعی ترقی کا راز یہ ہے کہ اُس کے افراد کے اندر انسانی صفات (human qualities) اعلیٰ درجہ میں موجود ہوں۔ اس کے برعکس کسی قوم کا اجتماعی زوال اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُس کے افراد کے اندر اعلیٰ انسانی صفات باقی نہ فرد کی حالت ہی پر ترقی کا انحصار بھی ہے اور تنزل کا انحصار بھی۔ فطرت کا یہ قانون بتاتا ہے کہ کوئی قوم اگر گراوٹ کا شکار ہو جائے تو اُس کو دوبارہ اُٹھانے کا عمل کہاں سے شروع کرنا چاہئے۔ اس کا واحد کارگر طریقہ یہ ہے کہ افراد کے اندر پھر سے شعوری بیداری لائی جائے۔ افراد کے سیرت و کردار کو بلند کیا جائے۔ افراد کے اندر اتحاد اور انسانیت کی روح کو جگایا جائے۔
قومی اصلاح کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے برعکس اگر قومی اصلاح کے نام پر عمومی تحریک (mass movement) چلائی جائے، جلسوں اور عوامی تقریروں کے ذریعہ بھیڑ کو مخاطب کیا جائے تو ایسے عمل کا کوئی مطلوب نتیجہ ہرگز نکلنے والا نہیں۔ اس قانون کے مطابق ، کسی قوم کی خارجی حالت ہمیشہ
اس کی داخلی حالت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں کسی قوم کے زوال کے وقت اُس کی اصلاح کا آغاز داخلی محنت سے ہوگا، نہ کہ خارجی کارروائیوں سے۔