Al-Risala · March 2004

استحکام کا راز

Al-Risala, March 2004, pp. 26–29

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۱۳ میں اس قانونِ فطرت کو بتایا گیا ہے جس کے تحت اس دنیا میں کسی کو قیام اور استحکام حاصل ہوتا ہے۔ یہ نفع بخشی (giving spirit) ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے: اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے (الرعد۱۷)

اس آیت میں فطرت کی دو مثالوں کے ذریعہ ایک حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ سماجی اور قومی زندگی میں ایک کے مقابلہ میں دوسرے کے لیے قیام اور استحکام کا راز کیا ہے۔ راز صرف ایک ہے اور وہ نفع بخشی ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ جو گروہ دینے والا گروہ (giver group) ہو اس کو دوسروں کے مقابلہ میں جماؤ اور ترقی حاصل ہو اور جو گروہ لینے والا گروہ (taker group) بن جائے وہ دوسروں کے مقابلہ میں مغلوب ہو کر رہ جائے۔

اس قانون کی روشنی میں دیکھا جائے تو محرومی کے وقت مطالبہ کی مہم سراسر بے معنی ہے۔ کہ اس دنیا میں کسی کو مطالبہ سے کچھ نہیں مل سکتا۔ اس دنیا میں جب بھی کسی کو کچھ ملے گا تو وہ صرف دینے کی قیمت پر ملے گا۔ اس معاملہ میں موجودہ دنیا کا قانون ایک لفظ میں یہ ہے۔ جتنا دینا اتنا پانا۔ شکر سے اضافہ قرآن کی سورہ نمبر ۱۴ میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ خدا کے بنائے ہوئے

قانون کے مطابق، اس دنیا میں شکر کرنے سے اضافہ ہوتا ہے۔ یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا

اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے (ابراہیم ۷)

قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ وہ معلوم اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے، فرد کے لیے فرد کی حیثیت سے اور گروہ کے لیے گروہ کی حیثیت سے۔

شکر دراصل اعتراف (acknowledgement) کا نام ہے۔ انسان کی نسبت سے جس چیز کو اعتراف کہا جاتا ہے اُسی کو خدا کی نسبت سے شکر کہا گیا ہے۔ شکریہ ہے کہ خدا نے آدمی کو جو کچھ دیا ہے، دل کی گہرائیوں کے ساتھ وہ اس کا اعتراف کرے۔

یہ شکر یا اعتراف کوئی سادہ چیز نہیں۔ اُس کا رشتہ نہایت گہرائی کے ساتھ آدمی کی نفسیات سے جُڑا ہوا ہے۔ شکر کرنے والے آدمی کے اندر تواضع، حقیقت پسندی، اعترافِ حق ، سنجیدگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساسات اُس کے کردار میں نمایاں ہوتے ہیں جو اُس کو ترقی کی طرف لے

اس کے برعکس معاملہ ناشکری کا ہے۔ ناشکری سے آدمی کے اندر سرکشی، حقیقت سے اعراض، بے اعتنائی، غیرسنجیدگی اور غیر ذمہ داری جیسی پست صفات پیدا ہوتی ہیں۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کی پست صفات پائی جائیں اُس کی ترقی یقینی طور پر رک جائے گی۔ حتی کہ ممکن ہے کہ وہ ملے ہوئے کو بھی کھو دے۔ سبق لینے والے قرآن کی سورہ نمبر ۱۵ میں بعض تاریخی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ واقعات قوموں کے عروج و زوال کی داستان کو بتاتے ہیں۔ ان تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: بے شک اس میں نشانیاں ہیں متوسمین کے لیے (الحجر ۷۵)

عربی زبان میں وسم کے معنیٰ علامت کے ہوتے ہیں۔ تو سم کے معنی ہیں ، کسی چیز کو علامت مثلاً آپ کسی کو دیکھ کر کہیں : تو سمت فيه الخير يا تو سمت فيه الشر۔ یعنی اُس کی ظاہری حالت کو دیکھ کر میں نے اندازہ کیا کہ اُس کے اندر خیر کا مادہ ہے یا یہ کہ اُس کے اندر شر کا مادہ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو اُس کو متوسم کہا جاتا ہے۔

یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی آدمی کو صاحب بصیرت بناتی ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو وہ ہر مشاہدہ اور ہر تجربہ سے سبق لیتے رہیں گے۔ وہ سطور میں بین السطور کو پڑھیں گے۔ واقعات میں اُس کے معنوی پہلوؤں کو دریافت کریں گے۔ وہ کسی چیز کو صرف اُس کے ظاہر (face-value) پر نہ لیں گے۔ بلکہ وہ اُس کی گہرائی تک اُتر کر اُس کی اصل حقیقت کو معلوم کریں گے۔ یہ صلاحیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ محرومی کے واقعہ کو تجربہ میں ڈھال لے۔ معلومات کو سبق بنا سکے۔ وہ حال میں مستقبل کو دیکھ لے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی آدمی کو مفکر (thinker) بناتی ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی آدمی کو مدبر کا درجہ عطا کرتی ہے۔ اس صلاحیت کے بغیر ایک آدمی صرف عالم ہے ، مگر اس صلاحیت کے ساتھ وہ ایک تخلیقی عالم بن جاتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۷ میں بتایا گیا ہے کہ تم اپنی کمائی کو کس طرح اور کن مدوں میں خرچ کرو۔ اس سلسلہ میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں :

اور رشتہ دار کو اُس کا حق دو اور مسکین کو اور مسافر کو اور فضول خرچی نہ کرو۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اسرائیل ، ۲۶-۲۷)

قرآن کی اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے اُس کو دوسرے لفظوں میں منی مینجمنٹ کہا جا سکتا ہے۔ یعنی اپنی کمائی کو حقیقی ضرورت کے مطابق با اصول انداز میں خرچ کرنا اور بے فائدہ کاموں میں اپنا پیسہ خرچ کرنے سے بچنا۔ فضول خرچی کے معاملہ میں قرآن اتنا زیادہ سنجیدہ ہے کہ اُس نے فضول خرچی کو

ایک شیطانی فعل قرار دیا ہے۔

پیسہ کمانا جس طرح ایک کام ہے اسی طرح پیسہ کو خرچ کرنا بھی ایک کام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے پیسے کو درست طور پر خرچ کرے ۔ وہ اپنے پیسہ کو ضائع نہ کرے۔ پیسہ کو درست طور پر خرچ کرنا یہ ہے کہ خرچ کی ضروری مد اور غیر ضروری مد میں فرق کیا جائے ۔ پیسہ کو صرف ضروری مد میں خرچ کیا جائے اور غیر ضروری مدوں میں پیسہ کو خرچ کرنے سے مکمل طور پر پرہیز کیا جائے۔ قرآن کی اس آیت میں فضول خرچی کو تبذیر کہا گیا ہے، یعنی پیسہ کو غیر ذمہ دارانہ طور پر بکھیرنا۔ اس قسم کی روش ایک تباہ کن روش ہے۔ پیسہ کسی کو اس لیے ملتا ہے کہ وہ اس سے اپنی حقیقی ضرورتوں کو پورا کرے اور جو پیسہ اپنی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہو اُس کو سماج کی تعمیری مدوں میں خرچ کرے ۔ خرچ کی صحیح صورت ہے اور اسی میں فرد اور سماج کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ قرآن میں مال کو قیام (النساء ۵) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مال زندگی کی تعمیر کے سلسلہ میں بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مال ہر انسان کے پاس خدا کی ایک امانت ہے۔ جو لوگ مال کو غیر ذمہ دارانہ طور پر خرچ کریں وہ بیک وقت دوسنگین برائیوں میں مبتلا ہیں۔ ایک اعتبار سے وہ ایک مقدس امانت میں خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور دوسرے اعتبار سے وہ خود اپنی ذاتی تعمیر کے معاملہ میں بدترین نا عاقبت اندیشی کا شکار ہیں۔

Printed page