ٹکراؤ سے اعراض
Al-Risala, March 2004, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۲۷ میں قدیم قوم سبا کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ سے اجتماعی زندگی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ اٌس کی متعلقہ آیتیں یہ ہیں:
ملکہ سبا نے کہا کہ اے دربار والو، میری طرف ایک با وقعت خط ڈالا گیا ہے۔ وہ سلیمان کی طرف سے ہے۔ اور وہ ہے شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ تم میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ ملکہ نے کہا کہ اے دربار والو، میرے معاملہ میں مجھے رائے دو۔ میں کسی معاملہ کا فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم لوگ حاضر نہ ہو۔ انہوں نے کہا، ہم لوگ زور آور ہیں اور سخت لڑائی والے ہیں۔ اور فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے۔ پس آپ دیکھ لیں کہ آپ کیا حکم دیتی ہیں۔ ملکہ نے کہا کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اُس کو خراب کر دیتے ہیں اور اُس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور یہی یہ لوگ کریں گے ۔ النمل: ۲۹ - ۳۴) اس آیت میں ملکہ سبا کے حوالہ سے زندگی کا ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اقدام ہمیشہ نتیجہ کو دیکھ کر کرنا چاہئے، نہ کہ محض خواہش کی بنیاد پر۔ کسی کے خلاف اقدام کرنا اگر مثبت نتیجہ پیدا کرنے والا ہو
تو ایسے اقدام کو درست کہا جاسکتا ہے مگر جو اقدام الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (counter productive) ہو، اُس سے بچنا لازمی طور پر ضروری ہے۔
عملی اقدام آئیڈیلزم کے تحت نہیں ہوتا بلکہ پریکٹیکل کے تحت ہوتا ہے۔ اپنا ذاتی معاملہ ہو تو آدمی آئیڈیل بن سکتا ہے مگر اجتماعی معاملہ میں ہر ایک کو پریکٹیکل ہی بننا ہے، خواہ وہ کوئی عام آدمی ہو یا کوئی حکمراں ہو۔