دشمن میں دوست
Al-Risala, March 2004, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں فطرت کے جو قوانین بتائے گئے ہیں اُن میں سے ایک قانون یہ ہے کہ کوئی آدمی کبھی کسی کا پیدائشی دشمن نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کی فطرت وہی ہے جو کسی دوسرے آدمی کی۔ اس لیے کسی کو بھی اپنا ابدی دشمن نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس حقیقت کو قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ میں اس طرح بتایا گیا ہے: ’’اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے خدا کی طرف بُلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست (حم السجدہ ۳۳۔
ہر انسان پیدائشی اعتبار سے فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر ویسا ہی ایک انسان ہے جیسا کہ کوئی دوسرا شخص۔ دشمنی جیسی منفی چیزیں انسانی شخصیت کا محض اوپری حصہ ہیں نہ کہ اُس کا داخلی حصہ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی آپ کو اپنا دشمن نظر آئے تو اُس کو اپنا مستقل دشمن نہ بلکہ اُس کی دشمنی کو ایک وقتی حالت سمجھے۔ دشمن کے بارے میں اگر اس قسم کی مثبت سوچ پیدا ہو جائے تو آدمی اس قابل ہو جائے گا کہ وہ تعصب جیسے جذبات سے اوپر اُٹھ کر دشمن کے معاملے میں اپنا رویہ متعین کرے۔ جو آدمی اس طرح غیر جذباتی انداز میں اپنے دشمن سے معاملہ کرے تو وہ یقینی طور پر کامیاب ہوگا۔
دشمن کی منفی کارروائیوں کی پروا کیے بغیر اُس کے ساتھ دوستانہ سلوک کرنا دشمن کو بدل دے گا۔ اُس کی شخصیت کے اوپر دشمنی کی جو اوپری تہ بیٹھ گئی تھی وہ دُھل جائے گی اور پھر جو شخص بظاہر آپ کا دشمن بنا ہوا تھا وہ آپ کا دوست بن جائے گا۔