Al-Risala · March 2004

مصیبت کا سبب

Al-Risala, March 2004, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں شکست اور ناکامی کا سبب کیا ہوتا اس سلسلہ میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ’’اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے ہے، اور بہت سے قصوروں کو وہ معاف کر دیتا ہے‘‘ (الشوریٰ ۳۰) قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ اس قانون کے مطابق، کسی کی دشمنی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ بلکہ یہ خود انسان ہے جو اپنی کوتاہی کی سزا پا رہا ہے۔ ہر مصیبت کا سبب آدمی کے خود اپنے اندر ہوتا ہے، نہ کہ اُس کے باہر۔

اس سے معلوم ہوا کہ جب بھی کوئی آدمی کسی مصیبت یا کسی نقصان سے دوچار ہو تو اُس کو اُس سے نجات پانے کے لیے خود اپنے اندر عمل کرنا چاہیے۔ اُس کو چاہئے کہ وہ اپنی داخلی کمیوں کو تلاش کر کے اُن کی اصلاح کرے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مستقبل کو درست کر سکتا اس کے بجائے جو آدمی یہ کرے کہ وہ اپنی مصیبت کا ذمہ دار دوسروں کو بتا کر اُن کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مصروف ہو جائے، وہ صرف اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔ ایسی کوشش کبھی کسی مثبت نتیجہ تک پہنچنے والی نہیں۔

قرآن کی یہ آیت نتیجہ خیز منصوبہ بندی کے اصول کو بتا رہی ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ آدمی بے نتیجہ کارروائیوں سے اپنے آپ کو بچائے اور صرف نتیجہ خیز سرگرمیوں میں اپنے آپ کو مصروف کردے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کا قانون کبھی کسی کے لیے بدلنے والا نہیں۔ غصہ پی جانا قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں ایک اہم اخلاقی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب ایک آدمی کو دوسرے کے اوپر غصہ آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ غصہ کو پی جائے اور اس کو معاف اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے:

’’اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں‘‘ (الشوریٰ ۳۷)

غصہ ایک غیر فطری حالت ہے۔ جب آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کا دماغ اپنی فطری حالت پر باقی نہیں رہتا۔ وہ معتدل انداز میں سوچنے پر قادر نہیں رہتا۔ غصہ میں مبتلا انسان نہ درست طور پر سوچ پاتا اور نہ درست طور پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر سکتا۔ غصہ کسی آدمی کا اعتدال چھین لیتا ہے۔ وہ اس کو غیر معتدل انسان بنا دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ غصہ کو پی جانا خود اپنے آپ کی حفاظت کرنا ہے۔ غصہ کو پی جانا اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی حقیقت پسندانہ انداز میں سوچے ۔ وہ زیادہ نتیجہ خیز انداز میں اپنی کارروائی کی منصوبہ بندی کرے۔ غصہ کو پی جانا خارجی اعتبار سے ایک اخلاقی سلوک ہے۔ مگر داخلی اعتبار سے وہ اپنی تعمیر کے ہم معنی ہے۔ جب کوئی آدمی غصہ کے حالات میں غصہ نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ اپنی قوت کو منفی رُخ پر جانے سے روکتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو بھر پور طور پر صرف اپنی تعمیر میں لگائے۔ دوسرے کی تخریب میں غیر ضروری طور پر وہ اپنے وسائل کا کوئی حصہ ضائع نہ کرے۔

Printed page