Al-Risala · March 2004

مشورہ مفید ہے

Al-Risala, March 2004, pp. 36–38

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں جو تعلیمات دی گئی ہیں اُن میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو مشورہ کہا

قرآن میں اہل حق کی صفات میں سے ایک صفت اسی مشورہ کو بتایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: ”اور وہ اپنا کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں“ (الشورٰی ۳۸)

مشورہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی معاملہ میں حل تلاش کرنے کے کام کو اجتماعی بنا دیا جائے۔ سمجھ کے ساتھ دوسروں کی سمجھ کو اُس میں شامل کر لیا جائے۔ مشورہ کا مطلب گویا انفرادی عقل کو اجتماعی عقل بنا دینا ہے۔

مشورہ میں یہ ہوتا ہے کہ کئی آدمی کسی موضوع پر ڈسکشن کرتے ہیں۔ اِس طرح کے ڈسکشن کے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ معاملہ کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ مشورہ اگر کھلے ذہن کے ساتھ کیا جائے اور تنقید اور تعریف کے جذبہ سے بلند ہو کر اِس کو سُنا جائے تو مشورہ کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ مشورہ میں جو فائدے ہیں اُن کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ لوگ تحفظ ذہنی کے ساتھ نہ بولیں بلکہ وہ جو کچھ کہیں کھلے ذہن کے ساتھ کہیں اور سننے والے بھی اِس کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ یہ سب مشورہ کے آداب ہیں۔ جس مشورہ میں ان آداب کو ملحوظ رکھا جائے وہ مشورہ بے حد با برکت بن جاتا ہے۔ مشورہ کو اگر حسن نیت کے ساتھ کیا جائے تو وہ ایک عبادت ہے۔ مشورہ دین اور دنیا دونوں قسم کے فائدوں کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے اصحاب کے ساتھ کھلا مشورہ کرتے تھے اور لوگ کسی پابندی کے بغیر اپنی رائے دیتے تھے۔ ماننے سے پہلے تحقیق قرآن کی سورہ نمبر ۴۹ میں اجتماعی زندگی کے بارہ میں ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کسی بات کو صرف سُن کر نہ مان لیا جائے۔ مذکورہ آیت کا ترجمہ یہ ہے:

”اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے“

لوگ جب مل جل کر رہتے ہیں تو اجتماعی زندگی کے نتیجہ میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

بنیاد پر کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر ایک کی بات دوسرے تک صحیح شکل میں نہیں پہنچتی۔ بات کو پہنچانے والا درمیانی شخص اکثر بات کو بدل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر بات کا ایک بیک گراؤنڈ یا موقع ومحل ہوتا ہے۔ بات کو نقل کرنے والا اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ بیک گراؤنڈ کو بتائے بغیر مجرد شکل میں بات کو بیان کر دیتا اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بات اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کچھ ہوتی ہے اور سننے والے تک پہنچ کر وہ کچھ اور ہو جاتی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سننے والا آدمی غلط رائے قائم کرتا ہے اور غلط اقدام کر ڈالتا ہے، جس کا نتیجہ آخر کار اس صورت میں نکلتا ہے کہ آدمی اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے، حالاں کہ اب وقت اُس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔

یہ مسئلہ ہر سماج میں پیش آتا ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر یہ مزاج بنائے کہ وہ صرف سن کر کسی بات کو نہ مان لے ۔ ماننے سے پہلے وہ ضروری تحقیق کرے۔ اور اگر وہ تحقیق نہیں کر سکتا تو ایسی حالت میں اُس کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ سنی ہوئی بات کو بھلا دے۔ وہ اْس پر نہ کوئی رائے قائم کرے اور نہ اْس کی بنیاد پر کسی اقدام کا منصوبہ بنائے۔

Printed page