Al-Risala · March 2004

کلام کے آداب

Al-Risala, March 2004, pp. 38–40

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۴۹ میں کچھ اخلاقی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ اخلاقی ہدایات کلام کے آداب سے متعلق ہیں۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:

’’اے ایمان والو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے لقب سے پکارو۔ ‘‘ (الحجرات ۱۱)

قرآن کی اس آیت میں اُس اجتماعی مسئلہ کا ذکر ہے جو اکثر ایک اور دوسرے کے درمیان اختلاف کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اختلاف پیش آتے ہی دوسرے کو غلط اور اپنے کو صحیح سمجھ لیتے ہیں۔ اس نفسیات کے تحت یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کا مذاق اُڑانے وہ اُس کے خلاف تحقیری الفاظ بولتا ہے۔ وہ اُس کی طعنہ زنی کرتا ہے۔ وہ اُس کو بُرے نام سے پکارنے لگتا ہے۔ وہ اُس کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیزیں سماج کے اندر آپس کے تعلقات میں کڑواہٹ پیدا کر دیتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے متنفر ہو جاتے ہیں۔ تعلقات کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک سماجی بگاڑ ہے جس کا بُرا نتیجہ ہر ایک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ لوگ صرف رایوں کے اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کے بارہ میں بُرا گمان قائم نہ کریں۔ اختلاف کے وقت لفظی ریمارک دینے سے مکمل پرہیز کریں۔ اس کے بجائے وہ ایسا کریں کہ جب کسی سے اختلاف پیدا ہو تو سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ اُس پر غور کریں اور پھر اپنی بات کو دلیل کے انداز میں بیان کریں۔ علمی تنقید میں کوئی حرج نہیں مگر ذاتی تنقیص یقینی طور پر بُری چیز ہے اور انسان کی اجتماعی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

اجتماعی زندگی میں لوگوں کا سابقہ ایک دوسرے کے ساتھ جس چیز میں پڑتا ہے وہ زبان ہے۔ زبان کا غلط استعمال آپس میں تلخی پیدا کر دیتا ہے اور زبان کا درست استعمال آپس میں محبت کو بڑھاتا زبان سے آدمی صرف کچھ الفاظ بولتا ہے مگر یہ الفاظ عملی اعتبار سے بڑے بڑے نتائج پیدا کرتے ہیں، اچھے بھی اور بُرے بھی، خواہ خاندانی زندگی ہو یا وسیع تر معنوں میں سماجی زندگی، ہر جگہ زبان کا استعمال بے حد اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ زبان کے استعمال میں بے حد محتاط رہے۔ ڈی کنڈیشننگ کی ضرورت قرآن کی سورہ نمبر ۵۰ میں آخرت کا ایک منظر بتایا گیا ہے۔ حق کے منکرین دوبارہ زندہ ہو کر خدا کے سامنے لائے جائیں گے۔ اُس وقت خدا اُن سے خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا— وَلَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَذَا فَكَشَفْنَا

عنك غطاءك فبصرك اليوم حديد :

"ہر شخص اس طرح آ گیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ سے غفلت میں رہے، پس ہم نے تمہارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا، پس آج تمہاری نگاہ تیز ہے۔ (ق ٢١- ٢٢)

قرآن کی ان آیتوں میں جس معاملہ کا ذکر ہے اُس کو انسانی زبان میں کنڈیشننگ اور ڈی کنڈیشننگ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ آدمی اپنے بچپن میں اور جوانی کی عمر میں ذہنی اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں وہ تجزیہ کرنے اور صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے کے قابل نہیں چنانچہ ہر آدمی اپنے ماحول کے اعتبار سے متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ اسی کو نفسیات کی اصطلاح میں کنڈیشننگ (conditioning) کہتے ہیں۔

اس کنڈیشننگ کی بنا پر آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ چیزوں کو بے آمیز صورت میں دیکھ سکے۔ وہ چیزوں کو ویسا نہیں دیکھتا جیسا کہ وہ ہیں۔ بلکہ وہ چیزوں کو اُس طرح دیکھتا ہے جیسا کہ اُس کا ذہن اُس کو دکھانا چاہتا ہے۔

اس لیے صحیح طرزِ فکر یا آبجیکٹیو تھنکنگ (objectivethinking) کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے ذہن کے اوپر پڑے ہوئے مصنوعی پردوں کو ایک ایک کر کے ہٹا دے۔ خود احتسابی کا یہ عمل ہر آدمی کو لازماً کرنا ہے۔ اس ڈی کنڈیشننگ کے بغیر کوئی آدمی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ وہ حقیقت میں بنے، وہ چیزوں کے بارہ میں بالکل درست رائے قائم کر سکے۔

Printed page