لالچ کا نقصان
Al-Risala, March 2004, pp. 40–41
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۵۹ میں ایک ایسی اخلاقی بُرائی کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی کامیابی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے:
"اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں" (الحشر ٩)
لالچ شح نفس) کیا ہے۔ یہ دراصل دل کی تنگی ہے۔ یہ دل کی تنگی سے پیدا ہونے والی صفت کا دوسرا نام ہے۔ انسانوں میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ تنگ دل اور فراخ دل۔ تنگ دل انسان وہ ہے جو اپنی ذات کے دائرہ میں سوچے ۔ جس کا مقصد صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہو۔ یہی وہ آدمی ہے جو لالچ یا شح نفس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
کوئی شخص جب بھی کوئی فائدہ حاصل کرتا ہے تو وہ سماج کے مجموعی تعاون کی مدد سے حاصل کرتا ایسی حالت میں لالچ یا تنگ دلی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے لیے تو سماج سے لینا چاہتا ہے مگر وہ خود سماج کو دینا نہیں چاہتا۔ اس قسم کی خود غرضی کبھی کسی کے لیے مفید نہیں ہوسکتی، نہ فرد کے لیے اور نہ قوم
اس دنیا میں کامیابی صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو کھلا دل رکھتے ہوں۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جتنا بڑا دل اتنی بڑی کامیابی ۔ بڑے دل والا آدمی اس بات کا حوصلہ رکھتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرے۔ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا کر خوش ہو۔ وہ شکایت کے باوجود دوسروں کے ساتھ بہتر معاملہ کرے۔ وہ معاملات کو بلند سطح سے دیکھے۔ جس آدمی کے اندر یہ اعلیٰ صفات ہوں وہ لوگوں کے درمیان باعزت درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور جو آدمی دوسروں کے درمیان باعزت درجہ حاصل کرلے اُس کی کامیابی کو کوئی روکنے والا نہیں۔