Al-Risala · March 2004

ایثار نفس

Al-Risala, March 2004, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۵۹ میں اعلیٰ انسانوں کی صفات بتائی گئی ہیں۔ ان اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ایثار نفس ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے:

"اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں ۔ اگر چہ اُن کے اوپر فاقہ ہو‘ (الحشر ۹) ایثار نفس ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ ایثار نفس کا مطلب ہے، اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا۔ اپنے حق میں کمی کر کے دوسرے کا حق پورا کرنا۔ یہ صفت ایک فرد کے لیے اعلیٰ انسانیت کا مظاہرہ ہے، اور سماجی اعتبار سے وہ سماج کی مجموعی ترقی کا ضامن ہے۔

انسانیت کی مجموعی ترقی کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی صفت ہے۔ جس سماج کے افراد میں یہ مزاج ہو کہ وہ اپنے آپ کو بھلا کر دوسرے کی مدد کریں ۔ وہ اپنی سیٹ کو خالی کر کے دوسرے کو بیٹھنے کی جگہ دیں۔ وہ دوسرے کی خوبی کا اعتراف کر کے اُس کو آگے بڑھائیں تو ایسے سماج میں مجموعی ترقی کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری رہتا ہے۔

جس سماج میں یہ صفت ہو اُس میں آپس کی محبت بڑھے گی۔ لوگ ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے پر تیار رہیں گے۔ سماج کے لوگوں میں حسد اور بغض اور خود غرضی جیسی برائیوں کی جڑ کٹ ایسے سماج میں اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پائیں گے۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی ہوگی۔ ایسا سماج گویا ایک خاندان کی مانند ہوگا جس میں لوگ بھائی بہن کی طرح مل کر رہیں گے۔

ایثار نفس بظاہر ایک قربانی ہے۔ مگر اُسی میں ذاتی فائدہ کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔ دوسروں کے ساتھ ایثار کا معاملہ کرے وہ دوسروں کے دل کو جیت لیتا ہے ، اور جب دلوں کو جیت لیا جائے تو اُس کے بعد کوئی اور چیز جیتنے کے لیے باقی نہیں رہتی۔

Printed page