Al-Risala · March 2004

اعلیٰ اخلاق

Al-Risala, March 2004, pp. 42–45

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۶۸ میں اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اُس کو انسانیت کا اعلیٰ مرتبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے: "اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو (القلم ۴)

اس آیت میں بظاہر رسول سے خطاب ہے۔ مگر وہ ہر انسان کے لیے ایک عمومی تعلیم ہے۔ انسان کو اعلیٰ انسان بننے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اُس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ بُرائی کرنے والوں کے ساتھ بُرائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے۔ خواہ دوسرے اُس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔

اعلیٰ انسان کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق ہوتا ہے۔ اس قسم کا اخلاق کسی انسان کے بارے میں یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک با اصول انسان ہے۔ ایسا اخلاق اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کی شخصیت حالات کی پیداوار نہیں بلکہ وہ خود اپنے اختیار کردہ اعلیٰ اصول کی پیداوار ہے۔ جس انسان کے اندر اس قسم کا اعلیٰ اخلاق ہو وہی حقیقی انسان ہے اور جس آدمی کے اندر یہ اعلیٰ اخلاق نہ پایا جائے وہ انسان کی صورت میں ایک حیوان ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

اعلیٰ اخلاق کی صفت انسان کو حیوان سے جُدا کرتی ہے۔ حیوان مساویانہ اخلاق کی سطح پر جیتے کوئی اُن کو نہ چھیڑے تو وہ بے ضرر رہیں گے اور اگر کوئی اُن کو چھیڑ دے تو وہ اُس کے لیے ضرر رساں بن جائیں گے۔ اعلیٰ انسانی اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویہ سے بلند ہو کر اپنا رویہ دوسرے لوگ خواہ اُس کے ساتھ اچھے نہ ہوں مگر وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرے۔ ناپ تول میں فرق کرنا قرآن کی سورہ نمبر ۸۳ میں زندگی کی ایک حقیقت کا بیان ہے۔ قرآن میں اس کو تطفیف کے لفظ میں بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی مذکورہ آیت یہ ہے :

" خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں۔ جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں" (التطفیف ۱- ۳)

قرآن کی اس آیت میں ناپ اور تول کی مثال سے ایک سماجی بُرائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس میں اُس کردار کا ذکر ہے جس کا یہ حال ہو کہ اُس کو جب اپنے لیے لینا ہو تو وہ بھر پور طور پر لے۔ جب دوسروں کو دینا ہو تو وہ کمی کر کے دوسروں کو دے۔ یہ تفریق ایک ایسی اخلاقی بُرائی ہے جو آدمی کو تباہی کے سوا کہیں اور نہیں پہنچاتی۔

اس معاملہ کا تعلق زندگی کے تمام پہلوؤں سے ہے۔ مثلاً خود اپنی تعریف سننے کا حریص ہونا مگر دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنے میں بخل کرنا۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خوب ہوشیار ہونا مگر دوسروں کے مفاد کو سمجھنے کے لیے نادان بن جانا۔ معاملات میں اپنے لیے رعایت چاہنا اور دوسروں

کو رعایت دینے کے لیے تیار نہ ہونا۔ اپنی ذات کے معاملہ میں حساس ہونا اور جب معاملہ دوسروں کا ہو تو بے حس بن جانا۔ اپنے لیے انصاف چاہنا اور دوسروں کے ساتھ بے انصافی پر راضی رہنا۔ یہ تو جانتا کہ مجھے کیا پسند ہے، مگر دوسروں کی پسند اور ناپسند کے بارہ میں بے خبر رہنا۔ اپنی عزت خطرہ میں ہو تو اُس کو برداشت نہ کرنا مگر دوسروں کی عزت پر حملہ ہو تو اُس کے بارہ میں بے حس بن جانا، وغیرہ۔ اپنے اور غیر میں اس قسم کا ہر فرق ططفیف ہے۔ جس آدمی کے اندر اس قسم کا مزاج ہو وہ کبھی ترقی کے اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس قسم کا مزاج آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش میں مستقل اور جس آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش رُک جائے اُس کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی ترقی کے اعلیٰ مراحل طے کرنے سے محروم رہے اور آخر کار وہ اسی حال میں مرجائے۔ مشقتوں کے درمیان قرآن کی سورہ نمبر ۹۰ میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ اس قانون کا تعلق تمام انسانوں سے ہے، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، خواہ وہ بظاہر اچھے ہوں یا بُرے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت

"ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے" (البلد ۴)

قرآن کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں انسان کے ساتھ بار بار مشقت حالات پیش آئیں، اِس کو مختلف قسم کی مشکلات سے گزرناپڑے۔ فطرت کا ایک قانون ہے۔ کسی بھی تدبیر کے ذریعہ اس قانون کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ہر انسان کو لازماً اس امتحان سے گزرنا ہے۔ مشقتوں سے باہر اپنے سفر کے لیے کوئی آسان راستہ ممکن نہیں۔ زندگی کو اس نہج پر کیوں بنایا گیا۔ یہ خود انسان کے فائدے کے لیے ہے۔ مشقتیں انسان کو انسان بناتی ہیں۔ مشقتیں انسانی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں۔ مشقتوں کے درمیان انسان کو وہ سبق اور وہ تجربہ حاصل ہوتا ہے جو اس کے ذہنی ارتقاء کے لیے ضروری ہے۔

مشکلات انسان کے ذہن کو جگاتی ہیں۔ مشکلات انسان کو سنجیدہ بناتی ہیں۔ مشکلات انسان کو

حقیقت پسند بنانے کا ذریعہ ہیں۔ مشکلات سے گزرنے کے بعد انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو احتیاط، ضبط نفس، ڈسپلن، احساس ذمہ داری اور اعتراف کہا جاتا ہے۔ جو لوگ مشقت کے کورس سے نہ گزریں وہ سطحی انسان بن کر رہ جائیں گے۔ ایسے لوگ انسانیت کے اعلیٰ درجے تک نہیں

مشقت اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی مصیبت یا برائی نہیں، مشقت انسانی زندگی کے لیے ایک ترقیاتی کورس ہے۔ جو انسان مشقتوں کا تجربہ نہ کرے وہ زندگی کی گہری حقیقتوں سے بے خبر رہے مشقت ایک کورس ہے جو آدمی کو گہری حقیقتوں سے واقف کراتا ہے۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو ظہور میں لاتا ہے۔ وہ کسی آدمی کے لیے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ مشقت زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کے ہم معنی ہے۔ مشقت ہر قسم کی ترقیوں کا زینہ ہے، جہاں مشقت نہیں وہاں ترقی بھی نہیں۔

Printed page