مشکل میں آسانی
Al-Risala, March 2004, pp. 45–46
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۹۴ میں فطرت کے ایک اٹل قانون کا بیان ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر خاتمہ ایک نئے امکان کو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے کسی بھی حال میں مایوسی کی ضرورت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کا بیان یہ ہے:
”پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے“ (الانشراح ۵-۶) قرآن کی اس آیت میں فطرت کے ایک راز کو کھولا گیا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی اکیلا نہیں آتا۔ وہ اپنا حل بھی اپنے ساتھ لے آتا ہے۔ اس دنیا میں ہرڈس ایڈوانج کے ساتھ ایڈوانج موجود ہے۔ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کے ساتھ پلس پوائنٹ شامل ہے۔ اس دنیا میں ہر نقصان کے ساتھ فائدہ کا ایک امکان چھپا ہوا ہے۔
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں کوئی حالت یکساں طور پر باقی نہ رہے۔ یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ ہر تاریکی اپنے ساتھ روشنی لے آتی ہے۔
لیے آدمی کو چاہیے کہ اُس کو کوئی سیٹ بیک (set back) پیش آئے تو وہ نہ گھبرائے اور نہ وہ مایوس اگر وہ اپنے ہوش و حواس کو برقرار رکھے تو بہت جلد وہ دوبارہ اپنے حق میں ایک نیا امکان پالے گا۔ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کر کے دوبارہ ترقی اور کامیابی کی منزل پر پہنچ جائے گا۔ انسان کا درجہ قرآن کی سورہ نمبر ۹۵ میں انسان کے بارے میں ایک تاریخی قانون کو بتایا گیا ہے۔ شہادتوں کو پیش کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے:
”ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کیے تو ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ “ (التین ۴-۶) قرآن کی ان آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنے امکان (potential) کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مخلوق کا درجہ رکھتا ہے۔ مگر اس امکانی درجہ تک صرف وہ لوگ پہنچیں گے جو اس تخلیقی اسکیم کو شعوری طور پر سمجھیں اور اُس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کر سکیں وہ سارے امکان کے باوجود محرومی کا کیس بن کر رہ جائیں گے۔
اپنے امکان کو واقعہ بنانے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی غور و فکر کے ذریعہ اپنے بارہ میں تخلیق کے نقشہ کو سمجھے۔ پھر وہ اس تخلیقی نقشہ سے کامل رعایت کرتے ہوئے اُس کے مطابق اپنی عملی سرگرمیاں جاری کرے ۔ وہ حق اور ناحق میں فرق کرنا جانے، وہ ناحق سے دور رہتے ہوئے اپنے آپ کو حق کا پابند بنائے ۔ امکان خدا کا عطیہ ہے۔ مگر امکان کو واقعہ بنانا انسان کا ذاتی فعل ہے۔ جو آدمی اپنے ذاتی حصہ کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہو گیا، کوئی دوسری چیز اُس کو انجام سے بچانے والی نہیں۔