Al-Risala · March 2004

علم سے آغاز

Al-Risala, March 2004, pp. 46–48

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ۵۷۰ء میں مکہ میں پیدا ہوئے ۔ ۶۱۰ء میں آپ پر خدا کی طرف سے پہلی وحی اتری۔ یہ ابتدائی کلام جو خدا کی طرف سے آپ کو ملا وہ یہ تھا:

”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسان کو علق سے۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا“۔ قرآن میں اترا ہوا یہ پہلا کلام الہی بتاتا ہے کہ کسی حقیقی عمل کا آغاز کیا ہے۔ یہ آغاز علم ہے۔ یعنی انسان کو باشعور بنانا۔ انسان کے اندر ذہنی تبدیلی لانا، انسان کے اندر فکری انقلاب پیدا کرنا۔ انسانوں کے درمیان کسی حقیقی تحریک کا آغاز ہے۔ اس دنیا میں وہی انسانی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے جو شعور کی بیداری سے اپنے کام کا آغاز کرے۔

علم طاقت ہے۔ علم اس دنیا میں سب سے بڑا ہتھیار ہے، ایک فرد کے لیے بھی اور پوری انسانیت کے لیے بھی۔ علم کا آغاز مائنڈ سے ہوتا ہے مگر وہ پوری خارجی دنیا کو مسخر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ علم کسی آدمی کی تکمیل ہے۔ علم کے بغیر کوئی انسان ادھورا انسان ہے۔ علم کے بعد وہ مکمل انسان بن جاتا ہے۔ علم سے خالی انسان صرف اپنی ذات کو جانتا ہے۔ علم کے حصول کے بعد آدمی پورے کائنات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ علم کسی ناقص انسان کو ایک کامل انسان بنا دیتا ہے۔ کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا ہے قرآن کی سورہ نمبر ١٠٣ میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو حقیقی تعمیر کے لیے اُس چیز کی ضرورت ہے جس کو ٹائم مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس ٹائم مینجمنٹ کے بغیر کسی کے لیے حقیقی ترقی کو پانا ممکن نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:

” زمانہ گواہ ہے۔ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ سواان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیا اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی“۔

قرآن کی اس سورہ میں زندگی کی ایک اہم حقیقت کے بارہ میں انسان کو آگاہ کیا گیا ہے۔ کہ انسان ہر لمحہ زندگی سے موت کی طرف جا رہا ہے۔ ہر لمحہ انسان کا کاؤنٹ ڈاون ہو رہا ہے۔ فطرت کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس قانون کو دوبارہ الٹی طرف چلایا نہیں جا سکتا۔

مثال کے طور پر ایک شخص کی مقرر عمر اگر 80 سال ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی اُس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا۔ ہر سال اس کی عمر میں ایک سال کی کمی کا اعلان ہے۔ گویا کہ اُس کی عمر کا سفر اس طرح ہو رہا ہے۔ ۸۰، ۷۹، ۷۸، ۷۷، ۷۶، ۷۵، ۷۴، ۷۳، ۷۲، ۷۱، ۷۰ الخ۔ اسی کاؤنٹ ڈاؤن کو قرآن کی مذکورہ سورت میں خسران کہا گیا ہے۔ آدمی ہر لمحہ اپنی موت کی طرف جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی مہلت عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اُس کے حصہ میں جو چیز آئے گی وہ صرف ہلاکت ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے آدمی کو خود عمل کرنا ہے۔ جب کہ ناکامی کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے آپ اس کی طرف بھاگی چلی آ رہی ہے۔

ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے ۔ ایڈیشن کا نام دی سپرچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے : سپرچول میسیج ، فی کاپی -/ 15 روپے ، سالانہ -/ 165 روپے ۔ خط و کتابت کا پتہ ہے :

The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323

Printed page