میرٹھ کا سفر
Al-Risala, April 2004, pp. 13–31
By Maulana Wahiduddin Khan
میرٹھ کے گیان پریشد کی طرف سے ڈاکٹر کے۔ سی گپتا نے پہلے ٹیلی فون پر بات کی۔ پھر ان کا خط مورخہ ۳۰ اگست ۲۰۰۳ ملا۔ اس میں مجھے میرٹھ کے دوروزہ پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی اس پروگرام کا خاص مقصد کمیونل ہارمنی اور ریلیجس انڈراسٹینڈنگ تھا۔ ڈاکٹر کے ۔ سی گپتا میرٹھ کالج میں پولیٹیکل سائنس ڈپارٹمنٹ کے سابق ہیڈ ہیں۔ یہ پروگرام میرٹھ کی گیان پریشد اور میرٹھ کے حلقہ الرسالہ کے تعاون سے کیا گیا ۔
۶ ستمبر ۲۰۰۳ کی صبح کو چھ بجے اس سفر کے لیے بذریعہ روڈ روانگی ہوئی۔ یہ سفر ایک ٹیم کی صورت میں ہوا۔ اس سفر میں میرے ساتھ اور جو افراد شامل تھے ان کے نام یہ ہیں ۔ رجت ملہوترہ، ہارون رشید، پریا ملک، استھی ملہوترہ، نصرت الہی، فریدہ خانم۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ قدیم یونان میں ایک گروہ تھا جس کو مشائین (Travellers) کہا جاتا تھا۔ یہ گویا اسی قسم کا ایک قافلہ ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو میرے ہفتہ وار کلاس میں شریک ہوتے وہ اسلام کو جدید حالات کے پس منظر میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ یہ گویا ذہنی بیداری کا ایک کام ہے۔ یہ سفر گویا ایک قسم کا چلتا پھرتا کلاس تھا۔ کیوں کہ میرا طریقہ ہے کہ میں سفر کے دوران پیش آمدہ حالات اور تجربات کے حوالہ سے گفتگو کرتا رہتا ہوں۔ اس طرح میرا سفر ایک قسم کا فکری سفر بن جاتا ہے۔ گذشتہ کل (۵ ستمبر) کو نیوجرسی سے جناب لئیق احمد نے ٹیلی فون پر بات کی ۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا میں بظاہر خوش حالی ہے مگر یہاں کا ہر انسان تناؤ (stress) کا شکار رہتا ہے۔ اس ذہنی تناؤ کو دور کرنے کے لیے عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ہفتہ کی چھٹیوں (weekend) کو گھر سے باہر جانے میں بتاتے ہیں۔ وہ کار کے ذریعہ کئی گھنٹہ سفر کر کے دور کے مقام پر جاتے ہیں تا کہ اپنا ذہنی تناؤ دور کر سکیں مگر عملی نتیجہ برعکس صورت میں نکلتا ہے۔
میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ امریکا میں ہر چیز نظم کے
ساتھ ہوتی ہے ۔ چنانچہ یہاں بہت سی ایجنسیاں ہیں جو تفریحی مقامات پر مختلف انداز کے تفریحی پروگرام کا انتظام کرتی ہیں۔ لوگ چھٹیوں کے دن ان کی فیس دے کر وہاں جاتے ہیں۔ وہ کار کے ذریعہ لمبا سفر طے کر کے جب وہاں پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں فوراً فلاں آئٹم میں شریک ہونا اس طرح ایک کے بعد ایک مختلف پروگرام آتے رہتے ہیں۔ لوگ خواہ تھکے ہوئے ہوں، یا ان کا دل نہ چاہتا ہو، مگر” آغا کیا کھاتا ہے، آغا پیسہ کھاتا ہے‘ کے اصول پر لوگ ہر حال میں ان میں شریک پھر جب وہ تھکن اور بورڈم کے ساتھ واپس گھر لوٹتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے تناؤ کو ختم نہیں کیا بلکہ مہنگی قیمت پر ایک نیا تناؤ خرید لیا ہے۔ لئیق صاحب نے بتایا کہ تناؤ کی اس قسم کو یہاں ہالی ڈے اسٹریس (Holiday Stress) کہا جاتا ہے۔
پچھلے دن (۵ ستمبر) جمعہ کا دن تھا۔ میں نے نظام الدین کی کالی مسجد میں نماز ادا کی۔ صاحب نے خطبہ سے پہلے اپنی تقریر میں بتایا کہ ۱۹۴۷ میں یہ مسجد کچھ ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی ہم نے دوبارہ قبضہ کر کے اس کو آباد کرنا چاہا تو پولیس کیس بن گیا اور عدالتی کارروائی کی نوبت عدالت کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا ۱۵ اگست ۱۹۴۷ سے پہلے یہ عمارت ایک مسجد تھی اور وہ مسجد کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ ہندو جج نے تین آدمیوں کی گواہی پر مسجد کے حق میں اپنا فیصلہ دیا۔ دہلی کے تین ہندو تھے۔ ان میں سے ایک برہمن تھا، دوسرا بنیا اور تیسرا ہریجن۔ کالی مسجد تقریباً ۸۰۰ سال پہلے تغلق دور میں بنائی گئی تھی۔ میں ۱۹۸۳ سے اس مسجد میں نماز پڑھتا رہا ہوں ۔ پہلے یہ مسجد تقریباً کھنڈر کی حالت میں تھی۔ اب یہاں مسجد کی شاندار بلڈنگ کھڑی یہ ایک علامت ہے جو بتاتی ہے کہ اس ملک میں ملت مسلمہ کا مستقبل دن بدن بہتر حالت کی طرف جا رہا ہے۔
مجھے یاد آتا ہے کہ ۴۰ سال پہلے میں یوپی میں اپنے آبائی گاؤں میں رہتا تھا۔ میرے گھر کے قریب ایک مسجد تھی۔ اس میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ میں ہی مؤذن ہوتا تھا اور میں ہی امام اور مقتدی۔ خاص طور پر عشاء کی نماز مجھے اس طرح پڑھنا ہوتا تھا کہ میں لالٹین لے کر مسجد جاتا جو گاؤں کے باہر
کھیتوں کے کنارے واقع تھی۔ رات کے سنسان ماحول میں عشاء کی نماز پڑھنا بڑا عجیب تجربہ تھا۔ وقت وہاں میرے ساتھ کوئی اور نمازی نہیں ہوتا تھا۔ میں خود ہی اذان دیتا اور خود ہی تکبیر کہہ کر جماعت کے طور پر نماز ادا کرتا اور پھر لالٹین لے کر واپس اپنے گھر آ جاتا۔
مگر اب۴۰ سال کے بعد مسجد سمیت یہ پوری جگہ نہایت بارونق ہو گئی ہے۔ اب وہاں مسجد سے متصل سڑک گزر رہی ہے۔ بجلی اور ٹیلی فون آ چکا ہے۔ مسجد کے بالکل سامنے ایک معیاری اسکول قائم ہو گیا ہے۔ اب یہاں رات دن چہل پہل رہتی ہے۔
اس قسم کے واقعات ہر جگہ پیش آ رہے ہیں۔ ان واقعات میں نہایت امید افزا پیغام چھپا ہوا مگر عجب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں تمام مسلمان، مذہبی اور غیر مذہبی دونوں شکایت کی بولی مجھے اپنے تجربہ میں پوری مسلم دنیا میں کوئی شخص نہیں ملا جو شکر کے جذبہ سے سرشار ہو اور حقیقی طور پر شکر کے کلمات بولتا ہو۔
ہندوستان ٹائمس (۵ ستمبر ۲۰۰۳) میں سوامی نکھل نندا کا ایک مضمون فیتھ (Faith) کے کالم میں چھپا ہوا تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا: Practical Spirituality for All اس مضمون میں سوامی جی نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کھانے سے پہلے آپ یہ کہیں کہ میں اس کھانے کو خدا کے لیے پیش کرتا ہوں تو خود کھانا بھی ایک روحانی عمل بن جائے گا۔ "If just before eating you say "I offer this food to God" then eating itself becomes a spiritual act."
میں نہیں سمجھ سکا کہ اس میں روحانیت کا پہلو کیا ہے۔ کھانا خدا کے لیے پیش کرنا یا تو ایک رسم ہے یا وہ یاد دلاتا ہے کہ انسان دینے والا ہے اور خدا پانے والا۔ اس قسم کا عمل کسی کے لیے روحانی تجربہ کیسے بن سکتا ہے۔
کھانا اور پانی بلاشبہ عظیم روحانی تجربہ کا ذریعہ ہیں۔ کھانے پینے کا یہ روحانی فائدہ اس وقت مل سکتا ہے جب کہ آدمی خدا کو ایک زندہ وجود کی حیثیت سے مانتا ہو۔ وہ اس یقین میں جیتا ہو کہ کھانے
پینے کی نعمتیں اس کو خدا نے دی ہیں۔ اس قسم کا زندہ احساس جب کسی آدمی کے اندر پیدا ہو تو اس وقت وہ ایک تھرلنگ اکسپیرینس (thrilling experience) کا تجربہ کرتا ہے۔ اسی تجربہ کا نام روحانیت ہے۔ ۶ ستمبر کی صبح کو چھ بجے ہمارا قافلہ دہلی سے میرٹھ کے لیے بذریعہ کار روانہ ہوا۔ سب سے پہلے میں نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ قرآن کی یہ آیت پڑھیں: سبحن الذی سخر لنا هذا وما كنا له مقرنین (پاک ہے وہ جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کر دیا اور ہم ایسے نہ تھے کہ ان کو قابو میں کرتے) الزخرف ۱۴۔
میں نے کہا کہ چند سو سال پہلے سفر کرنا اتنا مشکل تھا کہ کہا جاتا تھا کہ السفر کالسقر (سفر جہنم کی مانند ہے) مگر آج مختلف ترقیوں کے نتیجہ میں سفر ایک قسم کی تفریح (entertainment) کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔
یہ خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر آدمی کو اس نعمت کا واقعی احساس ہو تو اس کا سفر ایک روحانی سفر بن جائے گا۔ میں نے کہا کہ سفر کے اس روحانی پہلو کی بنا پر خدا پرستوں کی صفت قرآن میں السائحون بتائی گئی ہے، یعنی سیاحت کرنے والے۔
سفر کو کیوں خدا پرست انسان کی صفت بتایا گیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سفر میں مختلف قسم کے تجربات ہوتے ہیں۔ ان تجربات کے دوران مسافر کی زبان سے ذکر و دعا کے وہ الفاظ نکلتے ہیں جو مقیم کی زبان سے نہیں نکلتے۔ مثلاً آپ لوگ سفر پر چل رہے ہیں۔ سڑک کے اوپر آپ کی گاڑی دوڑتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر آپ کے ربانی احساسات زندہ ہوں تو یہ سفر نفسیات کے اعتبار سے آپ کے لیے ایک اور سفر میں تبدیل ہو جائے گا۔ آپ کی زبان سے یہ دعا نکلے گی کہ خدایا، میرے سفر کو جنت کا سفر بنا دے۔
ہماری گاڑی دہلی کی سڑکوں سے نکل کر آگے بڑھی تو ایک مقام پر سڑک کے کنارے ایک ٹرک الٹا ہوا دکھائی دیا۔ یہ ٹرک سامان سے لدا ہوا تھا اور ڈرائیور کی کسی غلطی کی وجہ سے الٹ گیا۔ دوڑنے والا ٹرک سڑک کے کنارے الٹا ہوا پڑا تھا۔ منزل پر پہنچنے کے بجائے درمیان ہی میں اس کا سفر
ختم ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ انسانی زندگی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی کی گاڑی دوڑا رہا ہے مگر صرف اسی کی گاڑی منزل مقصود پر پہنچتی ہے جو ہوش مندی کے ساتھ اپنا سفر طے کرے۔ لوگ ہوش مندی کا ثبوت نہ دیں، ان کا انجام یہی ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کی گاڑی کسی حادثہ کا شکار ہو جائے اور ان کا خواب پورا ہونے سے پہلے بکھر جائے۔
سڑک دہلی سے میرٹھ تک مسلسل خراب نظر آئی۔ ہم جس گاڑی سے آئے وہ ایک نئی گاڑی تھی مگر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم کسی نا ہموار راستہ سے بیل گاڑی میں سفر کر رہے ہیں۔ چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ کا راستہ تین گھنٹہ میں طے ہوا۔
ہمارے ملک میں اکثر سڑکوں کا کم و بیش یہی حال ہے۔ اس کا واحد سبب کرپشن ہے۔ بار بار مغربی ملکوں کا سفر کیا ہے۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ہر جگہ نہایت عمدہ سڑکیں بنی ہوئی ہیں جن کے اوپر گاڑیاں پوری رفتار کے ساتھ دوڑتی ہیں۔
اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ وہاں کرپشن جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ وہاں بھی کرپشن موجود ہے۔ ان کا کرپشن عقلمندی کے ساتھ ہے، نہ کہ بے وقوفی کے ساتھ۔ مثلاً انہوں نے بلا اعلان یہ طے کر رکھا ہے کہ ترقی کے لیے سب سے بڑی چیز انفراسٹرکچر ہے۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کرپشن کرتے ہیں مگر انفراسٹرکچر کی قیمت پر نہیں۔ وہ سڑک، ٹیلی فون، بجلی اور اس طرح کی دوسری چیزیں اعلی معیار کی بنائیں گے ۔ وہ کسی بھی وجہ سے اس کے معیار میں کمی نہیں کریں گے۔ پھر اس کے بعد اپنے ذاتی مفاد کے لیے جو کچھ کرنا ہے کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں اور ذاتی مفاد کو مؤخر۔ بدقسمتی سے یہ اسپرٹ ہمارے ملک میں نہیں۔
سفر کرتے ہوئے ہم لوگ وہاں پہنچے جس کو میرٹھ۔ ہاپوڑ بائی پاس کہا جاتا ہے۔ کے قارئین کی ایک جماعت ہمارے انتظار میں کھڑی ہوئی تھی۔ مثلاً مولا نا محمد عرفان قاسمی صاحب، ساجد خاں صاحب ، شہزاد علی صاحب، وغیرہ۔
عام طور پر سیاسی لیڈروں کا حال یہ ہے کہ جب وہ اس طرح کسی مقام پر پہنچیں اور وہاں لوگ
ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوں تو اس منظر کو دیکھ کر وہ فخر کے جذبات سے بھر جاتے ہیں۔ حال برعکس طور پر یہ ہوا کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ یہ شکر کے آنسو تھے۔ میں نے سوچا کہ پچھلے زمانہ میں کبھی ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں موبائل ٹیلیفون نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ ٹیلیفون اللہ تعالیٰ کی عجیب نعمت ہے۔ آپ کسی بھی مقام سے کسی بھی مقام کے لوگوں کو اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں، حتی کہ آپ سفر میں ہوں تب بھی۔ چنانچہ سفر کے دوران موبائل ٹیلیفون کے ذریعہ ہمارا رابطہ قارئین الرسالہ کے مذکورہ افراد سے جاری رہا۔ دوران سفر اس ٹیلی فونی رابطہ کا نتیجہ تھا کہ جب ہماری گاڑی مذکورہ بائی پاس پر پہنچی تو وہاں الرسالہ کے قارئین پیشگی طور پر ہماری رہنمائی کے لیے موجود تھے۔ میرٹھ کی پرہجوم سڑکوں سے گزرتے ہوئے ہمارا قافلہ جناب محمد ساجد خاں صاحب کے مکان اس وقت تقریباً ۹ بج چکے تھے۔ یہاں صبح کا ناشتہ کیا گیا۔ دہلی سے میں نے محمد ساجد خاں صاحب کو ٹیلیفون کیا تھا کہ ہم لوگ ۶ ستمبر کو صبح کا ناشتہ آپ کے یہاں کریں گے۔ مگر ناشتہ سادہ ہونا محمد ساجد خاں صاحب نے اس کا پورا لحاظ کیا اور میری پسند کے مطابق سادہ قسم کا ناشتہ اس کے بعد میرٹھ کا پہلا پروگرام شروع ہوا۔
ساجد خاں صاحب کے مکان کی اوپر کی منزل پر ہال نما کمرہ میں لوگ اکٹھا ہو گئے۔ مائک کا بھی انتظام تھا۔ پہلے مولانا محمد عرفان قاسمی نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں الرسالہ مشن کا تعارف کرایا۔ اس تعارف کے دوران انہوں نے ایک بات یہ کہی کہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو ہر مسلمان کے انفرادی معاملات درست ہیں۔ مگر مسلمانوں کے اجتماعی معاملات بگڑے ہوئے اس فرق پر غور کیجئے تو اس میں ہمارے سوالوں کا جواب مل جائے گا۔ یعنی مسلمان اپنے ذاتی مسئلہ کو جس فارمولا کو اختیار کر کے حل کئے ہوئے ہیں اسی فارمولا کو وہ ملت کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ یعنی حالات زمانہ کی رعایت ۔ اس دہراروش کو بدل دیا جائے تو سارے مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔
میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ انسانی تاریخ خدائی قانون کے تحت چل رہی ہے۔ کوئی بھی شخص
اس قانون کو بدلنے پر قادر نہیں۔ وہ قانون یہ ہے کہ تاریخ ہمیشہ آگے کی طرف جائے، وہ کبھی پیچھے کی طرف اپنا سفر شروع نہ کرے۔ میں نے کچھ مثالیں دے کر بتایا کہ یہ خدائی قانون ہمارے حق میں بار بار درست ثابت ہوا ہے۔ مثلاً ۱۹۴۷ سے پہلے میں اپنی نوجوانی کی عمر میں یہ سنا کرتا تھا کہ ملک کے کچھ کٹّر لوگوں کا یہ منصوبہ ہے کہ وہ آزادی کے بعد ہندوستان کو دوسرا اسپین بنائیں ۔ یعنی یہاں سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دینا، جیسا کہ پہلے اسپین میں ہوا۔ اسی مفروضہ ڈر کی بنا پر مسلمان اس انتہائی حد تک گئے کہ انہوں نے سخت ناعاقبت اندیشانہ طور پر ملک کی تقسیم کے غیر فطری فارمولے کا ساتھ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر ہند کے مسلمان جو پہلے ایک واحد ملت تھے وہ آج چار ٹکڑوں میں بٹ بھارت، پاکستان ، بنگلہ دیش اور کشمیر۔
مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ مفروضہ سراسر بے بنیاد تھا۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ میں بھارت کے اندر مسلمانوں کی تعداد چھ کروڑ تھی اور اب ہندی اخبار دینک جاگرن کی رپورٹ کے مطابق ، یہاں مسلمانوں کی تعداد ۲۲ کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ گویا کہ جو انتہا پسند لوگ تاریخ کی گاڑی کو پیچھے لے جانا چاہتے تھے وہ ہار گئے اور تاریخ آگے بڑھ گئی۔
تقریر کے آخر میں سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا محمد عرفان قاسمی نے کہا کہ کسی کو مستقل دشمن سمجھ لینا فطرت کے خلاف ہے۔ اور مسلمانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو اپنا مستقل دشمن سمجھ لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی جو آج بظاہر دشمن نظر آتا ہے وہ مستقبل میں آپ کا دوست بن سکتا ہے۔ اسلام اسی امید کی تعلیم دیتا ہے (فصلت اسلام امید کا مذہب ہے، نہ کہ ناامیدی کا مذہب۔
ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ ایمان جامد ہے یا ترقی پذیر۔ انہوں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ الایمان یزید و ينقص ۔ تاہم اکثر علماء کا رجحان یہ ہے کہ ایمان ایک جامد چیز ہے وہ ترقی پذیر
میں نے کہا کہ اس حدیث کو آپ اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب اُس کو آپ قرآن کی آیتوں
سے ملا کر دیکھیں۔ قرآن کی مختلف آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان بڑھتا رہتا ہے۔ کو ایک شجر سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایک اضافہ پذیر چیز ہے اور جو نیچے سے شروع ہو کر اوپر تک مگر آدمی کی بے شعوری کے نتیجہ میں ایمان میں نقص بھی واقع ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں
میں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کہ انڈیا میں مسلمان تباہ ہو ر ہے ہیں۔ یہاں جو لوگ بیٹھے ہیں ان میں سے ہر شخص سے میں یہ کہتا ہوں کہ وہ سوچیں کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا تھی اور آج ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا ہے۔ یقین ہے کہ آپ میں سے ہر شخص یہ کہے گا کہ آج ہمارے خاندان کی معاشی حالت ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر ہے۔ پھر مفروضہ تباہی کا واقعہ کہاں ہورہا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ انڈیا میں مسلمانوں کے کچھ مسائل ہیں۔ مگر یہ انڈیا کی بات نہیں بلکہ یہ قانون فطرت کی بات ہے۔ فطرت کے قانون کے تحت مسئلہ زندگی کا لازمی حصہ ہے وہ ہر جگہ موجود رہتا ہے، حتی کہ مسلم حکومت میں بھی۔ مسئلہ کا حل حکیمانہ تدبیر میں چھپا ہوا ہے نہ کہ شکایت اور احتجاج میں۔
میں نے مزید کہا کہ میں ساری دنیا میں سفر کرتا رہتا ہوں، میں نے ساری دنیا کے حالات کا مطالعہ کیا ہے۔ ہر ملک کے لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس وقت دنیا میں ۵۷ مسلم ملک موجود ہیں۔ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ کہتا ہوں کہ انڈیا کے مسلمان دوسرے تمام مسلم ملکوں سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ مثلاً انڈیا میں اس وقت مسلمان ۲۲ کروڑ ہیں۔ یہ تعداد کسی مسلم ملک کی تعداد سے زیادہ ہے۔ پوری مسلم دنیا کا سب سے بڑا سائنسداں انڈیا میں ہے اور اس کا نام ڈاکٹر پوری مسلم دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند آدمی ہندوستان میں ہے اور اس کا نام عظیم ہاشم پریم جی ہے۔ پوری مسلم دنیا کی سب سے بڑی مسلم کمپنی ہندوستان میں ہے اور اس کا نام سپلہ پوری مسلم دنیا کی سب سے بڑی مسلم جماعت کا مرکز انڈیا میں ہے اور یہ وہ ہے جو تبلیغی جماعت کے نام سے مشہور ہے۔ پوری مسلم دنیا کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے ہندوستان میں ہیں۔
یونیورسٹی علی گڑھ، دار العلوم دیو بند، ندوۃ العلماء لکھنؤ، وغیرہ۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں ہیں جو انڈیا میں موجود ہیں۔ مثلاً انڈیا میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ ایک اور بڑی کمیونٹی ہندو کی شکل میں موجود ہے۔ اس بنا پر یہاں مسابقت (competition) کا ماحول قائم ہے۔ اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ترقی صرف اس قوم کو ملتی ہے جس کو مسابقت کے درمیان جینے کا موقع ملے۔ اسی طرح انڈیا میں بیک وقت دو بڑی نعمتیں موجود ہیں، امن اور آزادی۔ دنیا کے کسی بھی مسلم ملک میں یہ دونوں چیزیں بیک وقت موجود نہیں۔ اگر کہیں امن ہے تو آزادی نہیں اور اگر کسی ملک میں آزادی ہے تو امن نہیں۔
اس اجتماع میں تعلیم یافتہ خواتین بھی شریک تھیں ۔ ان کے لیے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ ایک علیحدہ کمرہ میں لاؤڈ اسپیکر اور اسی کے ساتھ وی سی آر لگایا گیا تھا۔ اس طرح وہ ہمارے پروگرام کو پوری طرح سن سکتی تھیں اور دیکھ سکتی تھیں۔
اس اجتماع کے آخر میں مجھے بتایا گیا کہ خواتین مجھ سے کچھ اور جاننا چاہتی ہیں۔ خواتین سے جو باتیں میں نے کیں ان میں ایک بات یہ تھی کہ آج کل اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لڑکیاں نکاح کے بعد جب اپنی سسرال جاتی ہیں تو ان کے لیے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس احساس کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں کہ ان کی شادی کامیاب شادی نہیں۔ میں نے کہا کہ لڑکی کے ماں باپ اس کی ذمہ داری عام طور پر سسرال والوں پر ڈالتے ہیں مگر میرے تجربے کے مطابق ، اس کی اصل ذمہ داری لڑکی کے ماں باپ پر عائد ہوتی ہے۔
ماں باپ عام طور پر اپنی لڑکی کے بارے میں ایک ہی چیز جانتے ہیں ، اور وہ لاڈ پیار ہے۔ سمجھتا ہوں کہ لڑکی کے ساتھ یہ لاڈ پیار (pampering) سب سے بڑی دشمنی ہے۔ یہ ماں باپ اپنی محبت میں یہ بھول جاتے ہیں کہ نکاح کے بعد لڑکی کو جہاں اپنی مستقل زندگی گزارنی ہے وہ لاڈ پیار کا ماحول نہیں ہوگا بلکہ وہاں زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شادی سے پہلے لڑکی کو یکطرفہ طور پر پیار و محبت مل رہا تھا مگر نکاح کے بعد اس کو جس ماحول میں رہنا ہے وہاں دواور لو (Give and Take)
کا اصول رائج ہے۔
مگر ماں باپ اپنی لڑکی کے ساتھ یہ ظلم کرتے ہیں کہ زندگی کا یہ راز اس کو نہیں بتاتے اور پھر لڑکی اپنی غیر حقیقت پسندانہ تربیت کے نتیجہ میں مسائل سے دوچار ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری سسرال پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس معاملہ میں ماں باپ کو چاہئے کہ وہ خود اس کی ذمہ داری لیں اور لڑکی کو حالات کے مطابق تیار کریں۔
سوالات کے وقفہ کے دوران ایک صاحب نے کچھ انتہا پسند ہندو لیڈروں کا نام لے کر کہا کہ ہندوؤں کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے پھر اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ قافلہ کے ایک صاحب مسٹر رجت ملہوترہ بھی اس موقع پر شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو دیکھئے، میں اس سوال کا ایک عملی جواب ہوں۔
میں ایک ہندو فیملی میں پیدا ہوا۔ دو سال پہلے میں ویسا ہی ہندو تھا جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ آج میں پوری طرح بدل چکا ہوں۔ آج میرے دل میں اسلام سے اتنا ہی پیار ہے جتنا کسی مسلمان کو میرے اندر یہ تبدیلی الرسالہ مشن کی وجہ سے آئی۔ میں پچھلے دو سال سے الرسالہ مشن میں شریک ہوں اور باقاعدہ اسلام کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ خدا کے فضل سے وہ تمام نفرتیں اور بدگمانیاں میرے دل سے ختم ہو چکی ہیں جو اس سے پہلے میرے اندر موجود تھیں۔ آپ یہ نہ دیکھئے کہ آدمی آج کیسا ہے بلکہ یہ دیکھئے کہ وہ کل کیسا ہو سکتا ہے۔
مولانا محمد عرفان قاسمی صاحب نے الرسالہ مشن کے بارے میں اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ مشن سمجھنے سے پہلے ہمیں یہ احساس تھا کہ ہم دورِ زوال کی صفِ آخر کے افراد میں سے ہیں۔ لیکن الرسالہ مشن کو سمجھنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ ہم تو دورِ عروج کی صفِ اول کے افراد بن سکتے ہیں۔
انہوں نے اپنے تاثرات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الرسالہ مشن سے مجھے یہ حوصلہ ملا ہے کہ میری زبان سے اکثر یہ جملہ نکل جاتا ہے کہ ہم رجال ونحن رجال۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے مفروضہ بڑوں کے خول میں بند ہیں وہ ان سے آگے سوچ نہیں پاتے۔ اس سوچ نے ان کے اندر ذہنی جمود پیدا کر دیا۔ یہی ذہنی جمود ان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک اس ذہنی جمود کو توڑا نہ جائے اس وقت تک موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی ترقی ممکن نہیں۔
مولانا محمد عرفان قاسمی کی باتوں کو سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ نے الرسالہ مشن کو بخوبی طور پر سمجھا ہے اور یہ میرے نزدیک ایک معجزہ سے کم نہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ کسی تعلیمی ادارہ یا کسی جماعتی گروہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں ان کے اندر وہ فکری کمزوری پیدا ہوجاتی ہے جس کو ذہنی کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ 99 فیصد سے زیادہ لوگ اس کنڈیشننگ میں مبتلا ہیں۔ اس لیے ان کا ذہنی ارتقا بھی رکا ہوا ہے۔ آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہے کہ آپ مدرسہ کی باقاعدہ تربیت کے باوجود اپنی کنڈیشننگ کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ دوپہر کا کھانا ساجد خاں صاحب کے مکان پر تھا۔ یہاں کھانے کے بعد دوبارہ بہت سے لوگ اکٹھا ہوگئے اور ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ محمد ساجد خاں صاحب کے مکان پر دینی چہل پہل دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ گھر تو ایک باغ اسلام معلوم ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ تقریباً تین سال سے الرسالہ مشن کا ہفتہ وار اجتماع محمد ساجد خاں صاحب کے مکان پر ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کو پھیلانے کا کام بھی یہیں سے چلا یا جار ہا ہے۔
میرٹھ کے سفر میں بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور بہت سے سبق آموز واقعات ماسٹر محمد چاند انصاری (۴۳) ایک مکینک اور ڈیزائنر ہیں۔ وہ اپنے کام کے ماہر ہیں اور دیانت دار بھی۔ چنانچہ کمپنی میں ان کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔ وہ یہاں کی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ ۵ ستمبر ۲۰۰۳ کو انہوں نے فیکٹری کے مالک پی، سی جین سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں کل (۶ ستمبر) کام پر نہیں آؤں گا۔ مسٹر جین انہیں چھٹی دینے پر راضی نہ تھے۔ محمد چاند انصاری صاحب نے جب اصرار کیا تو مسٹر جین نے پوچھا کہ آخرتم
کس بات کے لیے کل چھٹی کرنا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ کل مولانا وحید الدین صاحب میرٹھ آرہے ہیں اور مجھے ان کے پروگرام میں شریک ہونا ہے۔ مسٹر جین نے پوچھا کہ یہ مولانا وحید الدین محمد چاند انصاری صاحب نے کہا کہ آپ ان کو نہیں جانتے۔ یہ وہ شخص ہیں جنہوں نے ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد یہ کہا تھا کہ ایک مسجد کو چھوڑ کر اگر انسانیت بچتی ہو تو ہم کو چاہیے کہ ہم مسجد کو بھلا دیں اور انسانیت کو بچا لیں۔ یہ سن کر مسٹر جین نے کہا کہ پھر تو تم ضرور ان کے پروگرام میں جاؤ۔ ماسٹر محمد چاند انصاری ۱۹۷۹ سے اس ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کر رہے ہیں۔ ۱۹۸۲ میں جب میرٹھ میں فساد ہوا تو چار مہینے تک شہر میں کرفیو لگا رہا اس لیے وہ اپنے کام پر نہ جا سکے۔ جب کرفیو کھلا تو وہ فیکٹری گئے۔ اس وقت فیکٹری کے مالک دھرَم داس جین زندہ تھے۔ انہوں نے چار مہینے کی تنخواہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر چاند انصاری صاحب نے کہا کہ اگر آپ میری تنخواہ کاٹتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ میں کل سے کام پر نہیں آؤں گا۔ اس کو سننے کے بعد دھرَم داس جین نے انہیں پوری تنخواہ دے دی اور ساتھ ہی اپنے بیٹوں سے یہ وصیت کر دی کہ دیکھو تم لوگ ان کی تنخواہ کبھی نہ کاٹنا۔ چنانچہ اب دھرَم داس جین کا انتقال ہو گیا اور اب ان کی جگہ ان کے بیٹے فیکٹری چلاتے ہیں اور یہ لوگ محمد چاند انصاری صاحب کے ساتھ انتہائی رعایت کا معاملہ کرتے ہیں۔ چاند انصاری صاحب کی مہارت اور دیانت داری پر انہیں اتنا بھروسہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہمیشہ نرمی اور فیاضی کا معاملہ کرتے ہیں۔ وہ انہیں کبھی شکایت کا موقع نہیں دیتے۔
میرٹھ شہر دو بڑے حصوں میں بٹا ہوا ہے، میرٹھ سٹی اور میرٹھ کینٹ۔ میرٹھ سٹی کو قدیم شہر کہہ سکتے ہیں اور میرٹھ کینٹ کو جدید شہر۔ میرٹھ سٹی میں ہندو اور مسلم تقریباً برابر کی تعداد میں ہیں۔ لیکن میرٹھ کینٹ میں ہندو حضرات کی تعداد زیادہ ہے اور مسلمان کی تعداد کم۔ دونوں کے درمیان چلتے ہوئے یہ فرق نظر آیا کہ میرٹھ سٹی یا قدیم میرٹھ میں زیادہ تر گھنی آبادی ہے۔ اسی بنا پر وہ مسائل کا مجموعہ ہے۔ اس کے برعکس میرٹھ کینٹ یا جدید میرٹھ کافی کھلا ہوا ہے۔ یہاں کی سڑکیں چوڑی ہیں۔ یہاں سرسبزی بھی کافی دکھائی دیتی ہے۔ میرٹھ شہر کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں اکثر فرقہ وارانہ فساد ہوتا رہتا ہے۔ مگر یہ فساد میرٹھ
سٹی میں ہوتے ہیں۔ غالباً کوئی فساد اب تک میرٹھ کینٹ میں نہیں ہوا۔
۶ ستمبر ۲۰۰۳ کی شام کو ۵ بجے میرٹھ کینٹ کے علاقے میں ایک پبلک جلسہ ہوا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ کے ہال میں تھا۔ اس جلسہ کا انتظام گیان پریشد کی طرف سے کیا گیا تھا جس کے کنوینر ڈاکٹر کے۔ سی گپتا تھے اور اس کے صدر جسٹس نریندر سروپ گپتا ریٹائرڈ جج (الٰہ آباد ہائی کورٹ) تھے۔
اس جلسہ میں شہر کے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میں شریک تھے۔ ایک ہندو نے کہا کہ یہاں شہر کا پورا ایلٹ کلاس موجود ہے۔ اس جلسہ کا واحد مقرر میں ہی تھا۔ پورا ہال بھرا ہوا تھا۔ مجھے تقریر کے لیے جو موضوع دیا گیا وہ تھا’’ اسلام اور آنتک واد‘‘۔ میں نے تقریباً سوا گھنٹے تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اسلام کے ساتھ آنتک واد کو جوڑنا ایک کنفیوژن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ حضرات اگر اس حقیقت کو جان لیں کہ اسلام ایک اصولی تعلیم کا نام ہے اور مسلمان وہ لوگ ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اسلام کو ماننے ایسی حالت میں اصل معیار اسلام ہے، نہ کہ مسلمان۔ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں جانچا جائے گا، نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل کی روشنی میں۔ اس کے بعد میں نے قرآن وحدیث اور سیرت رسول کی روشنی میں بتایا کہ اسلام امن اور محبت اور خیرخواہی اور انسانیت اور اخلاق اور روحانیت کا مذہب ہے۔ جہاں تک قتال یا جنگ کا تعلق ہے، وہ اسلام میں صرف دفاع کے لیے ہے۔ جارحیت کے خلاف دفاع کے سوا کسی اور مقصد کے تحت لڑائی اسلام میں جائز نہیں۔
مزید یہ کہ دفاعی جنگ کی بھی بہت سی لازمی شرطیں ہیں۔ مثلاً دفاعی جنگ بھی باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت لڑ سکتی ہے۔ کسی غیر حکومتی تنظیم کے لیے جنگ لڑنا کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ غیر حکومتی افراد کو اگر کوئی شکایت ہے تو ان کے لیے صرف دو رویوں میں سے ایک رویہ کا انتخاب ہے۔ تو وہ صبر کریں یا مکمل طور پر پر امن رہتے ہوئے اپنے مطلوب کے لیے کوشش کریں۔ میری تقریر کے خاتمہ پر کچھ لوگوں نے سوالات کئے جن کا جواب میں نے مختصر طور پر دیا۔
یہ سوالات زیادہ تر منفی ذہن کی نمائندگی کرتے تھے۔ مگر قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسٹیج پر جو دو ممتاز ہندو صاحبان تھے انہوں نے مکمل طور پر میری تقریر کی تائید کی۔ صدرِ جلسہ جسٹس نریندر سروپ گپتا نے میری تائید کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ مسلم ٹرسٹ کی بات کرتے ہیں۔ میں جج کی حیثیت سے ساری عمر کریمنل کیس کرتا رہا ہوں ۔ خاص طور پر وہ کیس جن کو ٹرسٹ ریلیٹیڈ کیس (terrorist related cases) کہا جاتا ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ ان ماخوذ لوگوں میں اکثریت ہندو لوگوں کی ہوتی تھی۔ جسٹس گپتا نے جج کی حیثیت سے میرے خیالات کی تائید کی۔ اسی طرح کنوییز ڈاکٹر کے۔ سی گپتا نے اپنی تقریر میں مکمل طور پر میرے خیالات کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔ باقاعدہ مطالعہ کرنے کے بعد اپنی رائے بنانی چاہئے ۔
کئی لوگوں نے بتایا کہ ہندو سامعین کی اکثریت میری تقریر کے وقت سر ہلا ہلا کر اس کی تائید کر یہاں تک کہ خطاب کے بعد جب چند افراد نے منفی انداز میں سوالات کئے تو سامعین کی طرف سے ان کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ کئی ہندو یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ مولا نا صاحب ، ہمارے سوالات کے جوابات پہلے ہی دے چکے تو پھر تم دوبارہ وہی بات کیوں پوچھتے ہو، وغیرہ ۔ ۶ ستمبر کی رات کا کھانا محمد ساجد صاحب کے مکان پر تھا۔ کھانے کے بعد دوبارہ کئی ہندو اور مسلمان ہماری قیام گاہ پر اکٹھا ہو گئے۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ۶ ستمبر کی شام کے کھانے میں مسلمانوں کے ساتھ کئی ہندو بھی شریک تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ علامتی طور پر گویا مستقبل کے ہندوستان کی ایک تصویر ہے۔ یعنی وہ ہندوستان جب کہ مسلمان اور ہندو دونوں بھائی بھائی کی طرح مل کر رہیں گے۔ وہ ایک ساتھ بیٹھیں گے اور ایک ساتھ کھانا کھائیں گے۔
جب ایسا ہوگا تو یہ صرف سماجی معنوں میں میل ملاپ کا واقعہ نہ ہوگا بلکہ وہ ایک ایسا انٹریکشن ہوگا جو فطری انداز میں دین حق کے تعارف کا ذریعہ بن جائے گا۔
اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے میں نے پایا ہے کہ اسلام کا سب سے زیادہ تعارف جس ذریعہ
سے ہوا وہ نارمل ماحول میں انٹریکشن یا باہمی اختلاط سے ہوا۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کا اختلاط جب بھی ہوا وہ اسلام کے تعارف کا باعث بنا۔ ہمارے مشن کا خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کھلے ماحول میں پرامن ڈائیلاگ ہونے لگے۔
۶ ستمبر کی شام کو خطاب کے بعد دو مختلف واقعات پیش آئے۔ ایک یہ کہ سامعین میں سے ایک ہندو نے کہا کہ آج آپ کو سن کر پیغمبر صاحب کے بارے میں بہت کچھ جانکاری ہوئی۔ اس کے برعکس ایک زیادہ عمر کے مسلمان میرے پاس آئے اور انہوں نے میرے کان میں کہا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کا نام ہی نہیں لیا۔
میں نے سوچا کہ ایک ہی تقریر کے بارے میں دو بالکل مختلف رائے کیوں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے اپنی تقریر میں بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے دئے اور حدیثیں سنائیں جس کا اعتراف مذکورہ ہندو نے کیا۔ پھر مسلمان نے ایسا کیوں کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو نام ہی نہیں لیا۔ اس پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ مسلم مقررین نے ایک خود ساختہ روایت قائم کی ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیش آیا۔
ہمارے مقررین جب اسٹیج پر آتے ہیں تو وہ ایسا کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے سے پہلے بہت سارے القاب و آداب شامل کرتے ہیں۔ مثلاً آقائے مدنی، سرور کائنات، محبوب خدا، سرکار دو عالم، شہنشاہ کونین، وغیرہ۔ حالاں کہ صحابہ اور تابعین اور عہد اوّل کے علماء کا طریقہ ایسا نہ میں اللہ کے فضل سے ہر معاملہ میں قرآن وسنت اور صحابہ اور تابعین کے مسلک کی پیروی کرتا میرا معیار وہ دور ہوتا ہے جس کو قرون مشہود لہا بالخیر کہا گیا ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے یہ طریقہ اجنبی بن گیا ہے۔ وہ صرف آج کل کے مقررین کے مصنوعی طریقوں ہی سے مانوس ہیں، وہ میرے انداز کو سمجھ نہ سکے۔ شاید یہ بھی اس معاملہ کا ایک پہلو ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ”بدأ الاسلام غريباً و سيعود كما بدأً“۔
اس حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانہ میں اسلام اجنبی ہو جائے گا۔
اجنبی ہونے کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ لوگ دورِ اول کے اسلوب سے غیر مانوس ہو جائیں، وہ اس اہمیت کو سمجھنے سے عاجز رہیں۔
۶ ستمبر کی شام کو جب ہم لوگ میرٹھ کینٹ کی ایک سڑک سے گزر رہے تھے تو وہاں ایک جگہ چورا ہے پر ایک ٹینک رکھا ہوا نظر آیا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک پاکستانی ٹینک ہے۔ 1965 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جو لڑائی ہوئی تھی اس میں یہ ٹینک پکڑا گیا تھا اور اس کو یہاں لا کر رکھا گیا۔ ٹینک کے اوپر اردو میں موٹے حرفوں میں یہ لکھا ہوا تھا، شانِ خیبر، ۷۹۱۹۶۔ ڈاکٹر کرشن کمار گپتا (٦٦) سے ملاقات ہوئی۔ وہ آج کل اردو سیکھ رہے ہیں۔ ملاقات میں کئی باتیں بتائیں۔ میری ایک کتاب کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس میں میں نے ایک حدیث پڑھی ہے جس سے مجھے جھوٹ کی ایک نئی قسم معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کوئی بات سنے اور تحقیق کے بغیر اس کو پھیلانے لگے۔ اس حدیث کے عربی الفاظ یہ ہیں: کفی بالمرء کذباً ان يحدث بكل ما سمع۔
۷ ستمبر ۲۰۰۳ کی صبح کو ایک صاحب ہندی مقامی اخبارات لے آئے۔ اُن میں کل شام کے پروگرام کی رپورٹنگ تھی ۔ ہندی روز نامہ امر اجالا نے صفحہ ۶ پر تقریر کی تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ رپورٹ کا عنوان یہ تھا کہ’’ مولانا وحید الدین خود بھی روئے اور لوگوں کو بھی رلایا‘‘۔ ۷ ستمبر کی صبح کو میری قیام گاہ پر کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ اس موقع پر ان بعض ہندوؤں کا ذکر ہوا جنہوں نے کل شام کے جلسے میں کچھ ٹیڑھے قسم کے سوالات کئے تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ جلسہ کے بعد میری ملاقات اسی قسم کے ایک ہندو سے ہوئی ۔ یہ ہندو کل شام کے جلسہ میں بظاہر بہت معاندانہ انداز میں بول رہا تھا۔ مگر جلسہ کے بعد وہ آپ کے سامنے آیا اور آپ کو پرنام پھر میں اُس سے ملا تو اُس نے مجھ سے نارمل انداز میں بات کی۔ یہ قصہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا یہ مزاج ہوتا ہے کہ وہ جب کسی میٹنگ میں آتے ہیں تو صرف بولنے کے لیے بولتے ہیں، ورنہ ان کے دل کے اندر کچھ بھی نہیں رہتا۔
اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس قسم کے افراد کے دل میں شکایت کا لاوا بھرا ہوا ہے۔ کو ایک ایسا موقع مل جاتا ہے جہاں وہ اپنے لاوے کو باہر لا سکتے ہیں۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔
مولانا محمد عرفان قاسمی (۴۲) دار العلوم دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد میرٹھ میں مقیم وہ ۱۹۸۰ء سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان کی رہنمائی میں یہاں ہفتہ وار درس بھی ہوتا انہوں نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ فکر کو سمجھنے سے پہلے ہمارا خیال تھا کہ ہم تاریخ کے صرف معمول ہیں۔ لیکن الرسالہ فکر کو سمجھنے کے بعد احساس ہوا کہ ہم تاریخ ساز کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ۷ ستمبر کی صبح کو ڈاکٹر کے۔ سی گپتا کی رہائش گاہ (میرٹھ کینٹ) پر ایک اجتماع ہوا۔ تعلیم یافتہ حضرات شریک ہوئے ۔ جسٹس نریندر سروپ گپتا بھی اس میں موجود تھے، کچھ ریٹائرڈ فوجی بھی شریک تھے۔ یہاں مختلف موضوعات پر اظہار خیال ہوا۔ لوگوں کے سوال پر الرسالہ مشن کا تعارف میں نے کہا کہ ہمارا مشن خاص طور پر امن اور اتحاد کا ماحول قائم کرنا ہے۔ امن کے ماحول کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا، نہ مذہبی اور نہ غیر مذہبی۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جو کمیاں ہیں ان سب کی جڑ ایجوکیشن کی کمی ہے۔ صحیح ایجوکیشن آدمی کے ذہن کو بیدار کرتی ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھے اور درست رائے قائم کرے۔
اس سفر میں میرٹھ کا بازار دیکھنے کا موقع ملا۔ سب سے پہلے ہم لوگ موڈرن فوٹو اسٹوڈیو میں گئے جس کے مالک مسٹر پرویز عالم ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تصویر حرام ہے۔ آپ بتائیے کہ اس کا مسئلہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں صرف دو چیزیں حرام ہیں—خدا سے نڈر ہو جانا اور انسان سے نفرت کرنا۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ ان دو پہلو سے اپنے دل کو ٹولتے رہیے کہ یہ دو باتیں آپ کے دل میں ہیں یا نہیں۔ اگر آپ پائیں کہ آپ ان دو معیاروں پر پورے اتر رہے ہیں تو آپ کا معاملہ درست ہے اور اگر آپ اس معاملے میں پورے نہ اتر رہے ہوں تو
آپ کا معاملہ درست نہیں ہے۔
اس کے بعد ہم لوگ جناب محمد ساجد خاں صاحب کی دکان پر گئے جس کا نام ہائی وے ٹیلرس یہ ایک خوبصورت دکان تھی جو یہاں کے مین روڈ پر واقع ہے۔ مارکیٹ کے کچھ ہندو تاجر بھی میرے آنے کی خبر سن کر یہاں آگئے۔ اُن میں سے تین کے نام یہ ہیں، نریندر باش جین، امت، پنکی یہ تینوں کپڑے کے تاجر ہیں۔ یہاں میں نے مختصر طور پر بتایا کہ اسلام کیا ہے۔ مطلب لڑائی بھڑائی نہیں ہے بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے درمیان امن اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارے۔
یہاں سے واپس ہو کر ہم لوگ محمد ساجد صاحب کے مکان پر پہنچے۔ یہاں دوبارہ کافی لوگ اکٹھا ہوگئے اور ان سے باتیں ہوتی رہیں۔ جناب شہزاد علی صاحب الرسالہ کے قاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کے مطالعہ سے اُس کا خلاصہ میں نے یہ سمجھا ہے کہ مخلوق سے ہجرت کر کے خالق تک پہنچنا۔ ۷ ستمبر کی شام کو چار بجے محمد ساجد خاں صاحب کے مکان پر ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر مختصر انداز میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی۔
ماسٹر نفیس احمد انصاری الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انہوں نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب کا میرٹھ کا دو روزہ دورہ اپنے مقصد میں ہر اعتبار سے کامیاب رہا۔ ایم ساجد انصاری بھی الرسالہ کے قاری ہیں۔ انہوں نے اپنا احساس بتایا کہ آپ کے دورہ سے پہلے میرا خیال تھا کہ میرٹھ میں ہمارا یہ دعوت کا کام آہستہ آہستہ ہو رہا ہے۔ لیکن آپ کے آنے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انشاء اللہ اب یہ کام بہت تیز رفتار ہوگا۔
ایک بار کھانے کے وقت ایک صاحب نے کھانے کے ٹیسٹ کے بارے میں کوئی بات میں نے کہا کہ ہر سال روزہ کا تجربہ اہل ایمان کو اس لیے کرایا جاتا ہے کہ وہ یہ جانیں کہ کھانے کی اصل لذت مسالہ جیسی چیزوں میں نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ آدمی کو بھوک کا تجربہ ہو اور پھر وہ کھانا کھائے اور پانی پئے ۔ اسی حقیقت کو بنجمن فرینکلن (Benjamin Franklin) نے ان الفاظ
میں بیان کیا ہے دنیا میں سب سے اچھی چٹنی بھوک ہے: