Al-Risala · April 2004

The best sauce in the world is hunger.

Al-Risala, April 2004, pp. 31–38

By Maulana Wahiduddin Khan

۶ ستمبر ۲۰۰۳ کے ٹائمس آف انڈیا میں پہلے صفحہ پر ایک مغربی لیڈر ول راجرس (Will Rogers) کا قول چھپا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم نے سچائی کو سیاست میں داخل کیا تو تم کبھی کامیاب سیاست داں نہ بن سکو گے:

If you ever injected the truth into politics, you would have no politics. سیاست کے بارہ میں اس قسم کا تصور ہمیشہ سے لوگوں کے اندر موجود تھا لیکن اس کو ایک باقاعدہ نظریہ کے طور پر جدید مغرب میں پیش کیا گیا اور اب ساری دنیا میں یہ حال ہے کہ جو آدمی سیاست میں داخل ہوتا ہے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی نظریہ کو اختیار کر لیتا ہے۔ اس معاملہ میں سب سے زیادہ افسوس ناک مثال ان لوگوں کی ہے جو اسلام پسند سیاست داں کہے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی نام نہاد اسلامی سیاست کو اسی انداز پر چلا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی اسلامی سیاست ساری دنیا میں عملاً اسلام کے نام پر تخریب کاری کے ہم معنی بن گئی ہے۔

۶ ستمبر ۲۰۰۳ کے ٹائمس آف انڈیا کے صفحہ ۴ پر دہلی کے بارے میں ایک خبر تھی ۔ عنوان یہ تھا۔ اب دہلی میں پیدل چلنے والوں کے لیے صاف اور ہرے بھرے راستے: Now, clean, green walkways for city. میں دہلی میں ۱۹۷۷ سے رہتا ہوں۔ اس وقت سے اب تک برابر یہ منظر دکھائی دیتا رہا ہے کہ فٹ پاتھ کو توڑ پھوڑ کر اس کو پختہ بنانا۔ پہلے فٹ پاتھ کو اینٹ کے ذریعہ پختہ کیا گیا پھر اُس کو توڑ کر فٹ پاتھ پر پتھر لگائے گئے۔ پھر اس کو توڑ کر ٹائل لگائی گئی۔ پھر سیمنٹ کنکریٹ (concretisation) کا نظریہ اختیار کیا گیا۔ اب خبر کے مطابق، ڈی کنکریٹ (de-concretisation) کا طریقہ اختیار کیا جانے والا ہے۔

اصل یہ ہے کہ فٹ پاتھ کو مکمل طور پر پختہ کرنے کے بعد یہ نقصان ہوا کہ بارش کا پانی جو پہلے

زمین کے نیچے چلا جاتا تھا وہ سطح کے اوپر سے بہہ کر باہر جانے لگا۔ اس طرح بارش کے پانی کا دوبارہ استعمال بہت کم ہو گیا۔ اب ہمارے افسران نے یہ طے کیا ہے کہ موجودہ پختہ فٹ پاتھ کو توڑ کر وہاں نئے قسم کے ٹائل لگائے جائیں۔ ان ٹائلوں میں ایک طرف سوراخ رکھا جائے جس سے بارش کا پانی اندر داخل ہو سکے اور دوسری طرف ٹائلوں کے درمیان خالی جگہ چھوڑ کر وہاں گھاس اگائی جائے۔ طرح فٹ پاتھ بیک وقت بارش کے پانی کو بہہ جانے سے بچائے گا اور اسی کے ساتھ فٹ پاتھ پر سرسبز مناظر بھی دکھائی دینے لگیں گے۔ یہ طریقہ وہی ہے جس کو فرانس کے شہر لیان (Lyon) میں مختلف تجربات کے بعد آخر میں اختیار کیا گیا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کی منصوبہ بندی کتنی ناقص ہے۔ اس کے برعکس خالق کی منصوبہ بندی کائنات میں اتنی مکمل ہے کہ ایک بار بنانے کے بعد خالق کو یہ ضرورت پیش نہیں آئی کہ وہ کائنات کی از سر نو منصوبہ بندی کرے: فتبارك الله احسن الخالقين (المؤمنون (۱۴)

۶ ستمبر کے ٹائمس آف انڈیا میں ایک خبر ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کے بارے میں تھی۔ میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت آٹھ ریاستوں میں دینک بھاسکر کے اکیس ایڈیشن نکلتے ہیں۔ ہر دن اس کی جو تعداد چھپ کر فروخت ہوتی ہے وہ مجموعی طور پر ۲۲ لاکھ ہے۔

میں نے کہا کہ مسلمان ہر معاملہ میں دوسروں کی شکایت کرتے ہیں، حالانکہ انہیں اپنی کوتاہیوں کو جان کر اس کو درست کرنا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں اخبار بہت بڑی طاقت مانا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی ایک بھی ایسا اخبار نہیں جس کی روزانہ اشاعت اتنی زیادہ ہو۔ حالات میں اگر اس ملک میں مسلمانوں کا کیس ایک کمزور کیس بن جائے تو اس کی شکایت انہیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے، نہ کہ دوسروں سے۔

۷ ستمبر ۲۰۰۳ کے ٹائمس آف انڈیا کا ایڈیٹوریل اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون (Ariel Sharon) کے دورۂ ہند کے بارہ میں تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کا کوئی وزیر اعظم انڈیا

کے سرکاری دورہ پر آ رہا ہے۔ اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اخبار نے لکھا تھا کہ ہم دنیا کو یہ بتا سکتے ہیں کہ فلسطینیوں کی تحریک اپنے اسٹیٹ کے اقدام کے لیے ہے جس کی جڑیں خود اختیاری کے مسلمہ اصول میں ہیں جب کہ اسرائیل کی کارروائیاں یہودی ریاست کی توسیع کے اصول پر مبنی ہیں : We could tell the world that Palestinion aspirations for a state of their own were rooted in the Principle of self-determination while Israeli actions testified to the Jewish state's vile, self-aggrandising یہ بات بالکل درست ہے۔ اس کے باوجود فلسطینیوں کی تحریک ناکام کیوں ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے۔ صحیح مقصد کے لیے غلط طریقہ اختیار کرنا۔ فلسطینیوں کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنی تحریک کو پوری طرح پُر امن طریق کار کے اصول پر چلائیں۔ مگر یہ عرب لیڈروں کی سنگین غلطی تھی کہ انہوں نے فلسطینی تحریک کو تشدد کی بنیاد پر چلایا۔

یہ غلطی اتنی عام ہوئی کہ ساری دنیا کے علماء اور رہنما اس معاملہ میں عربوں کے مسلح موقف کے حامی بن گئے۔ مسلم دنیا میں میں اکیلا تھا جس نے اس پالیسی کو غلط بتایا۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی دوسرا عالم یا غیر عالم اس معاملہ میں فلسطینیوں سے یہ نہ کہہ سکا کہ تم اپنی تحریک کو پرُ امن دائرہ میں رہ کر اب تشدد کے جواب میں جب فریق ثانی کی طرف سے جوابی تشدد کا معاملہ پیش آ رہا ہے تو یہ تمام لوگ ظلم اور سازش کی فریاد کر رہے ہیں۔

ایک مسلمان بزرگ نے اپنے یہاں کھانے پر بلایا۔ میں اور میرے ساتھی وہاں پہنچے تو ایک بڑے کمرہ میں دستر خوان بچھا ہوا تھا۔ میں نے تاکید کی تھی کہ کھانا بالکل سادہ ہونا چاہیے۔ نے اس کی رعایت کی۔ مگر جب ہم لوگ کھانا کھا چکے تو ’’سویٹ ڈش‘‘ لائی گئی۔ یہ نہایت خوشبودار کھیر میں نے صاحب خانہ سے کہا کہ مسلمان ابھی تک کھانے کے اصول کو نہیں جانتے۔ لذیذ کھانے کو کھانا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ کھانے کا اصل مقصد تغذیہ (nutrition) ہے، یعنی متوازن میں نے کہا کہ آپ کے گھر کی خواتین نے کئی گھنٹہ کی محنت کے بعد یہ کھیر تیار کی ہوگی۔

غذائی اعتبار سے اس کا فائدہ بہت کم ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے یہاں کے بازار میں دیکھا کہ لوگ جگہ جگہ تازہ امرود بیچ رہے ہیں۔ آپ کے لیے زیادہ اچھا یہ تھا کہ آپ مہنگی کھیر کے بجائے یہ سستے امرود بازار سے لاتے اور اس کو خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے۔ مگر بدقسمتی سے مسلمان بریانی اور مرغا کو کھانا سمجھتے ہیں۔ کھانے کے سائنٹفک تصور سے وہ ابھی تک واقف نہیں۔ جس دن مجھے میرٹھ جانا تھا اس سے صرف ایک دن پہلے میری ایک تازہ کتاب چھپ کر آئی۔ اُس کا موضوع مذہب پر عقلی استدلال ہے۔ وہ ۴۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: In Search of God میرے ساتھیوں نے اس کتاب کے کچھ نسخے اپنے پاس رکھ لیے تھے۔ میرٹھ میں انہوں نے اس کتاب کو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں تقسیم کیا۔ کتاب کے ٹائٹل پر ایک مفکر کے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے_ علم کی کمی آدمی کو خدا سے دور کر دیتی ہے، زیادہ علم آدمی کو خدا کی طرف واپس لاتا ہے: A smattering of knowledge turns people away from God. Greater knowledge brings back to Him. ۶ ستمبر کی شام کو پروگرام کے خاتمہ پر جب میں ہال سے باہر نکلنے لگا تو ایک صاحب نے اپنی ایک تحریر مجھے دی۔ اس تحریر کے نیچے محمد علی زیدی کا نام درج تھا۔ اس میں کچھ سوالات درج تھے مگر سب کے سب غیر واضح تھے۔ ایک سوال اُن کے اپنے الفاظ میں یہ تھا: شاہ بانو کیس شریعت کی تشریح کا معاملہ تھا_ تھا—اجودھیا میں بابری مسجد کا کیس حق ملکیت سے شروع ہوا ہے۔

سوچنے کا یہ طریقہ میرے نزدیک غیر منصفانہ ہے۔ ایک مسلمان کو اگر یہ کہنے کا حق ہے کہ اجودھیا کا معاملہ مسلمان کے لیے شریعت کا معاملہ ہے اور ہندو کے لیے وہ آستھا کا معاملہ ہے۔ مسلمان ایسا کہے تو اُس کو یہی حق ہندو کو بھی دینا ہوگا۔ اس منطق کے مطابق، ہندو یہ کہیں گے کہ اجودھیا کا معاملہ ہمارے لیے عقیدہ کا معاملہ ہے اور مسلمانوں کے لیے وہ بے جا قبضہ کا معاملہ_ اس طرح کی باتوں سے اجودھیا کا مسئلہ کبھی حل ہونے والا نہیں۔ اُس کے حل کی صورت صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس معاملہ کو بلا شرط عدالت کے حوالہ کر دیا جائے_

۷ ستمبر ۲۰۰۳ کی دوپہر کو پریس کانفرنس تھی۔ یہ کانفرنس پیس اینڈ پراگرس (P.P) ہال میں اس میں پریس کے لوگوں کے علاوہ اور بہت سے لوگ آگئے ۔ اکثر سیٹیں بھری ہوئی نظر آئیں ۔ میڈیا کی طرف سے حسب ذیل نمائندوں نے شرکت کی :

دینک کیسر خوشبو و جے مان انا ڈوٹی وی عمومی خطاب کے موقع پر میڈیا کے اکثر نمائندے موجود تھے اور اس کی رپورٹ میڈیا میں تفصیل کے ساتھ آچکی تھی ۔ اس وقت کی پریس کانفرنس میں زیادہ تر اسی کے پس منظر میں سوالات اور جوابات ہوئے ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل زیادہ تر یہ ہو رہا ہے کہ مسلمان لکھنے اور بولنے والے ہندوؤں کو نصیحت کر رہے ہیں اور ہندو لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کو نصیحت کر رہے ہیں۔ اس کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں۔ اس قسم کا عمل کسی کو اپنی کمیونٹی میں مقبولیت دے سکتا ہے مگر صورت حال کی اصلاح کے اعتبار سے اُس کا کوئی فائدہ نہیں۔

اصلاح کے پہلو سے مفید طریقہ یہ ہے کہ ہندو لوگ ہندوؤں کو نصیحت کریں اور مسلمان حضرات مسلمانوں کو نصیحت کریں۔ لوگ عام طور پر ایسا نہیں کرتے ۔ کیوں کہ ایسا کرنے میں اُنہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی میں مقبولیت کھودیں گے ۔ مگر یہ ایک فرضی اندیشہ ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس فرضی اندیشہ سے باہر آئیں اور اپنی اپنی کمیونٹی پر امر بالمعروف، نہی عن المنکر کا عمل جاری اس کے بغیر حالات میں سُدھارلانا ممکن نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اجودھیا کے مسئلہ پر کئی ہندو اور مسلمان پرجوش طور پر اپنی اپنی رائے پیش کرتے رہتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ

دونوں ہی طرف کے لوگوں کو صرف ایک بات کہنا چاہئے۔ اور وہ یہ کہ اس معاملہ میں 1991 کے ایکٹ کو نافذ کیا جائے اور اُس کے مطابق، عدالت کا فیصلہ جلد سے جلد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ عدالت جو فیصلہ دے، دونوں فریق کسی شرط کے بغیر اُس کو مان لیں۔ اس معاملہ میں اس کے سوا کوئی اور بات قابلِ عمل نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہمارا مقصد خاص طور پر یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان امن قائم ہو جائے۔ امن یکساں طور پر دونوں ہی کی ضرورت ہے۔ بغیر دونوں میں سے کوئی بھی ترقی نہیں کر سکتا۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا نظریہ سراسر غیر عملی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یکساں سول کوڈ کا قانون بہت پہلے ہمارے یہاں بن چکا ہے۔ مگر یہ قانون عملاً نافذ نہ پھر ایک اور قانون بنانے سے کیا فائدہ۔

میں نے کہا کہ اس سے پہلے پارلیمنٹ نے سول میرج ایکٹ بنایا تھا۔ سول میرج ایکٹ عملی طور پر تقریباً وہی چیز ہے جس کو کامن سول کوڈ کہا جاتا ہے۔ کامن سول کوڈ کا جو مدعا ہے وہ پوری طرح سول میرج ایکٹ میں موجود ہے۔ اب صرف اتنی بات باقی ہے کہ سول میرج کا طریقہ جو موجودہ قانون میں اختیاری ہے، اس کو قانونی طور پر لازم کر دیا جائے۔ مگر ایسا قانون کبھی چلنے والا نہیں۔ کسی قانون کے تحت اگر سول میرج کو لازمی قرار دے دیا جائے تو اُس کے بعد یہ ہوگا کہ کوئی فرد یا کوئی تنظیم سپریم کورٹ میں اُس کے خلاف مرافعہ کرے گی۔ کیوں کہ ایسا قانون دستور کی دی ہوئی مذہبی آزادی میں کھلی مداخلت ہوگی۔ وہ دستورِ ہند کی خلاف ورزی کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں یقینی طور پر یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ ایسے قانون کو رد کر دے گی۔ اس طرح مسئلہ جہاں اب ہے وہیں وہ قانون کے بعد بھی باقی رہے گا۔

میرٹھ شہر دہلی کے شمال مشرقی حصہ میں واقع ہے۔ میرٹھ کا پورا ضلع نہایت زرخیز ہے۔ ایک سبب غالباً یہ ہے کہ میرٹھ ضلع دو بڑی ندیوں ، گنگا اور جمنا کے درمیان واقع ہے۔ میرٹھ میں پہلا

کالج ۱۸۹۲ء میں بنایا گیا۔ میرٹھ یونیورسٹی ۱۹۶۵ میں بنائی گئی۔

۱۸۵۷ میں انگریزوں کے خلاف جو بغاوت ہوئی وہ میرٹھ شہر سے شروع ہوئی تھی۔ کرنے والے زیادہ تر معمولی تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ اُن کو یہ پتہ نہیں تھا کہ اس وقت ملک میں ایک ایسا انقلاب آچکا ہے جو مغل سلطنت کے زمانہ میں موجود نہ تھا۔ یعنی ٹیلی گراف کے ذریعہ کمیونیکیشن۔ مورخین نے لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ کی بغاوت کو بہت جلد فرو کرنے میں انگریزوں کو جس چیز سے سب سے زیادہ مدد ملی وہ یہی کمیونیکیشن کا نیا نظام تھا۔ چنانچہ انگریزوں نے اپنے مختلف مراکز کو فوری طور پر پیغام بھیج کر ہر جگہ سے فوجی مدد حاصل کر لی اور اس طرح بغاوت کو تیزی سے دبا دینے میں وہ کامیاب ہو گئے۔ ایک صاحب نے ایک کتاب کا ذکر کیا اور اُس پر میری رائے پوچھی۔ اس کتاب کا عجیب وغریب نام ادراک زوالِ امت ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد ۵۳۳ صفحات پر مشتمل ہے اور وہ ۲۰۰۳ میں نئی دہلی سے چھپی ہے۔ یہ کتاب کا غذ، چھپوائی، جلد بندی، وغیرہ ہر پہلو سے وقت کی اعلیٰ ترین معیار پر تیار کی گئی ہے۔ میں نے جب اُس کو دیکھا تو میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ جو امت اتنی شاندار کتاب چھپا سکتی ہو اس کے بارہ میں لکھی جانے والی کتاب کا نام ادراکِ عروج امت ہونا چاہئے، نہ کہ ادراکِ زوالِ امت۔

اس ضخیم کتاب میں امت مسلمہ کے بارہ میں جو باتیں کہی گئی ہیں اُن کا خلاصہ کتاب کے آغاز میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

’’خیر امت کی خواب آسا فضا میں جینے والی ملت کے لیے یہ سمجھنا انتہائی مشکل ہے کہ آخر اس کے ہاتھوں سے تاریخ کی لگام کیوں کرپھسلتی گئی ہے۔ چودہ صدیوں پر مشتمل ہماری ملی تاریخ میں ایسے حوادث کی کمی نہیں جن سے مختلف اوقات میں ہمارے نہ تھمنے والے زوال کی بار بار تصدیق ہوتی رہی ہو۔ فتنۂ قتل عثمان ہو یا جمل اور صفین کی خانہ جنگیاں، بغداد اور غرناطہ کا سقوط ہو یا مغل دہلی اور خلافت عثمانی کی تباہی، یہ ہماری تاریخ کے وہ لمحات ہیں جب من حيث القوم ہمارا وجود اپنے زوال کی سرعت اور شدت کے سلسلہ میں ششدر رہ

ہم ابھی ایک حادثے کی ماہیت اور شدت کا پوری طرح ادراک بھی نہ کر پائے تھے کہ پے در پے دوسرے حوادث پیش آتے گئے ۔ یہاں تک کہ تاریخ کو کبھی اپنی مٹھی میں رکھنے والی امت خود تاریخ بن کر رہ گئی ۔

مصنف نے جس تاریخی ظاہر ہ کے بارے میں لکھا ہے کہ اُس کو سمجھنا مشکل ہے، اُس کا جواب قرآن میں بہت پہلے ان الفاظ میں دے دیا گیا ہے : تلك الايام نداولها بين الناس ( آل عمران ۱۴۰ ) اس کے مطابق ، سیاسی اقتدار کسی قوم کی ابدی ملکیت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار صرف امتحان کا ایک پر چہ ہے اور خدائی قانون کے مطابق ، وہ بدلتا رہتا ہے ۔ وہ کبھی ایک قوم کو ملتا ہے اور کبھی دوسری قوم کو ۔ سیاسی اقتدار ابدی طور پر کسی ایک قوم کے پاس رہنا خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے اور جو چیز خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہو وہ اس دنیا میں کبھی وقوع میں آنے والی ہی

Printed page