گفتگو اور اظہار خیال
Al-Risala, April 2004, pp. 38–49
By Maulana Wahiduddin Khan
فجر کی نماز کے بعد میں نے لوگوں کے سامنے یہ حدیث پڑھی: من صلّى الصبح فهو فى ذمة الله ۔ (جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ کی ذمہ داری میں آگیا) میں نے کہا کہ اس حدیث میں نماز اور اللہ کے ذمہ کے درمیان جس تعلق کا ذکر ہے وہ کوئی پر اسرار تعلق نہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو آدمی فجر کے وقت مسجد میں حاضر ہو کر مقرر انداز میں نماز ادا کرلے وہ کسی پر اسرار تاثیر کے نتیجہ میں خود بخو داللہ کی ذمہ داری میں آجائے گا اور اُس کا سارا دن محفوظ گزرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک پوری طرح معلوم تعلق ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص صبح کی نماز اس کی حقیقی اسپرٹ کے ساتھ پڑھے گا اُس کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف پیدا ہو جائیں گے جو اس کی حفاظت کے ضامن ہوں گے۔ مثلاً وضو کی روح تطہیر قلب ہے۔ جو آدمی اس طرح وضو کے دوران اپنا داخلی تزکیہ کر رہا ہو وہ گویا اُس کے ذریعہ سے ایک نیا انسان بن جائے گا۔ اسی طرح اللہ اکبر کی اسپرٹ تواضع ہے۔ الحمد للہ کی اسپرٹ قناعت ہے، رکوع اور سجدہ کی اسپرٹ اپنے اندر اکڑ کو ختم کرنا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی اسپرٹ یہ ہے کہ نمازی پورب پچھم اور اتر دکّن منھ پھیر کر یہ کہہ رہا ہے کہ ائے لوگو، تمہاری جان، تمہارا مال اور تمہاری آبرو مجھ سے محفوظ ہے۔ اسی طرح باجماعت نماز کی اسپرٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے میں سے ایک کو آگے رکھ کر خود بیک سیٹ پر چلا جائے۔
فجر یا صبح کی نماز ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مذکورہ قسم کے انسانی اوصاف کو اپنے اندر پیدا کر کے مسجد سے باہر کی دنیا میں نکلے اور جو آدمی ان اعلیٰ اوصاف کے ساتھ متصف ہو کر دنیا میں داخل ہو وہ بلاشبہ ایک ایسا انسان ہوگا جو لوگوں کے درمیان اس طرح محفوظ طور پر ہے گویا کہ اللہ نے اُس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔
شہزاد علی صاحب نے کہا کہ میں نے اپنے تجربہ کی بنا پر جانا کہ امیری کے مقابلہ میں محتاجی زیادہ بڑی نعمت ہے۔ امیری کی حالت ہو تو آدمی غافل ہو جاتا ہے۔ مگر فقیری کی حالت آدمی کے اندر خدا کی یاد جگاتی ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ ذکر و دعا میں مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ خدا کی قربت کا تجربہ کرتا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ اس کو حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: أنا عند المنكسرة قلوبهم (میں ٹوٹے دل والوں کے ساتھ رہتا ہوں) یہ بات اسلامی لٹریچر میں کثرت سے بیان کی گئی ہے۔ مگر اس معاملہ کا ایک اور پہلو ہے جس کو میرے علم کے مطابق، علماء اور صوفیا بتا نہ سکے۔ کم از کم ان کی تحریروں سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ الغزالی کی احیاء علوم الدین سے لے کر شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ تک کسی بھی کتاب میں اُس کا ذکر نہیں ملتا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین بھی، میرے علم کے مطابق، اس کی نشاندہی نہ کر سکے۔
پھر میں نے کہا کہ یہ دوسری چیز ذہنی ارتقاء (intellectual development) ہے۔ امیری کی حالت میں انسان کا ذہن پر سکون رہتا ہے۔ یہ سکون دماغ کے عمل کو معطل کر دیتا ہے۔ جہاں ہے وہیں پڑا رہتا ہے۔ مگر محتاجی اور مصیبت ذہن کے اندر ہلچل پیدا کرتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر ایک قسم کا دماغی طوفان (brain storm) ظہور میں لاتی ہے۔ اس طرح سویا ہوا دماغ جاگ
دماغی سل (brain cells) متحرک ہو جاتے ہیں۔ یہ چیز آدمی کی فکری عمل کو بڑھاتی وہ اُس کو زیادہ باشعور انسان بنا دیتی ہے۔
میں نے کہا کہ حدیث میں یہ بات بتائی جا چکی ہے۔ مگر حدیث میں یہ بات تمثیل کی زبان اس لیے شارحین اُس کو سمجھ نہ سکے۔ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے کہ ’’میں جب بندے کو کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ اُس پر صبر کر لیتا ہے اور لوگوں سے اُس کی شکایت نہیں اس کے بعد حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ثم ابدلته لحماً خيراً من لحمه و دماً خيراً من دمه (رواہ الحاکم عن ابی ہریرہ) یعنی پھر میں اُس کے گوشت کو زیادہ بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں اور اُس کے خون کو زیادہ بہتر خون سے بدل دیتا ہوں۔
اس حدیث میں گوشت اور خون کا ذکر لفظی معنوں میں نہیں ہے بلکہ علامتی معنوں میں ہے۔ اس کا مطلب خون اور گوشت کا مادی معنوں میں بدلنا نہیں ہے بلکہ شخصیت کا معنوی معنوں میں بدلنا اس کا مطلب یہ ہے کہ صبر بغیر شکایت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ایک فکری عمل شروع ہو جاتا ہے جو ذہنی ارتقاء (intellectual development) کا باعث ہوتا ہے۔ اِس کے اندر سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اِس کا ذہن زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے لگتا ہے۔ اِس کی قوتِ تفکیر زیادہ بڑھ جاتی ایک سادہ عالم مفکر عالم بن جاتا ہے۔
ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ میرے اندر خدا کے فضل سے یہ بات ہے کہ میں اختلاف کے باوجود اعتراف کرتا ہوں۔ زندہ انسانوں کے درمیان ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ اختلاف کو میں کوئی معیوب چیز نہیں سمجھتا۔ چنانچہ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء اور علماء سب کے درمیان ہمیشہ کثرت سے اختلافات رہے ہیں۔ اس کے باوجود باہمی احترام اور اعتراف میں کوئی فرق نہیں آیا۔
جمعیۃ علماء ہند سے بعض جزئی امور میں مجھ کو اختلاف ہے۔ مگر اسی کے ساتھ میں جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کا بھی کھلے طور پر اعتراف کرتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں دوسری جماعتوں کے
مقابلہ میں جمعیۃ علماء ہند کی خدمات سب سے زگویادہ ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ وہ واحد جماعت ہے جو ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے گویا ایک پولیٹیکل بیس کی حیثیت رکھتی ہے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد جو آزاد ہندوستان بنا اس میں ہندوؤں نے کانگریس میں شریک ہو کر حصہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو اُن کی اکثریت مسلم لیگ کی حامی بن کر پاکستان کے حق میں اس عموم میں واحد استثناء جمعیۃ علماء ہند کا تھا۔ جمعیۃ علماء ہند اگر چہ تنظیمی اعتبار سے بعد کو مگر علماء کی نسبت سے اس کے عمل کا آغاز ۱۸۵۷ء سے شروع ہوتا ہے۔ ۱۸۵۷ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک علماء کا یہ گروہ آزادی ہند کی جدوجہد میں سرگرم طور پر شریک رہا اور اُس کے لیے ہر قسم کی قربانیاں دیتا رہا۔
۱۹۴۷ء کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے یہ کہنا شروع کیا کہ مسلمان جو پاکستان چاہتے تھے وہ پاکستان بن چکا۔ اب وہ ہندوستان کو چھوڑ کر پاکستان چلے جائیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، یہ آواز زیادہ زور نہ پکڑ سکی۔ وہ صرف کچھ کٹّر ہندوؤں کی آواز بن کر رہ گئی۔ اس خطرناک آواز کا بے اثر ہو جانا کیوں اس کا ایک بڑا حصہ جمعیۃ علماء ہند کا وجود ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے کھلے طور پر پاکستان کی مخالفت کی اور دو قومی نظریہ کو غلط بتایا۔ اُس کو اپنی اس مخالفت کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ علماء ہند کی اس تاریخ کی بنا پر یہاں کے مسلمان اس پوزیشن میں ہو سکے کہ وہ نئے ہندوستان میں کہہ سکیں کہ ہم نے بھی ہندوستان کی آزادی کے لیے اتنی ہی قربانی دی ہے جتنا کہ ہندوؤں نے دیا اس لیے ہندوستان میں رہنے کا ہم کو بھی برابر کا حق ہے۔ اس طرح جمعیۃ علماء ہند نے ہندوستان کے مسلمانوں کو وہ پولیٹیکل مبرّر(سیاسی (سیاسی وجہ جواز) دیا جس کی بنا پر وہ بھی اس ملک میں سر اٹھا کر برابر کے شہری کے طور پر رہ سکیں۔ جمعیۃ علماء ہند کو حذف کرنا یا اس پولیٹیکل مبرّر کو حذف کرنا ہے جس کے بغیر ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے بظاہر کوئی سیاسی وجہ جواز باقی نہیں رہتا۔ ایک موقع پر میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان کے مسلمان یہاں کی حکومت سے برابر احتجاج اور ٹکراؤ میں مشغول رہے ہیں۔ کسی نہ کسی ملّی ایشو کو لے کر وہ مسلم ورس حکومت کی فضا
بنائے رہتے ہیں۔ یہ نااہل مسلم رہنماؤں کی ناعاقبت اندیشانہ رہنمائی کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ بارہ میں اگر اُن سے کچھ کہا جائے تو اُن کا جواب یہ ہوتا ہے کہ دستور ہند نے ہم کو آزادی دی ہے۔ دستوری اعتبار سے ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی شکایتوں کے لیے حکومت کے خلاف تحریک چلائیں۔ یہ سخت نادانی کی بات ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں کوئی راجا یا بادشاہ حکومت نہیں کرتا جس کا عوام سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں کا حکمراں خود ہندوستانیوں کے ووٹ سے بنتا ہے۔ حالت میں حکومت سے ٹکراؤ کرنا بالواسطہ طور پر عوام سے ٹکراؤ کرنا بن جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ان عوام میں بہت بڑی اکثریت ہندوؤں کی ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت سے ٹکراؤ کرنا بالواسطہ انداز میں مجاریٹی سے ٹکراؤ کرنا بن جاتا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ کسی حکومت سے ٹکراؤ کر کے زندہ رہ سکتے ہیں مگر مجاریٹی سے ٹکراؤ کر کے آپ زندہ نہیں رہ سکتے۔
اس معاملہ میں ایک مفکر کا قول ان مسلم رہنماؤں پر صادق آتا ہے۔ اُس نے کہا کہ۔ عقلمند آدمی وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے :
A wise man is one who knows the relative value of things. یہ ایک فطری حقیقت کا اظہار ہے۔ اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہندوستان کے نام نہاد رہنما یقینی طور پر غیر عاقل ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ تو جانا کہ دستور کے الفاظ کے اعتبار سے ہم کو حکومت سے ٹکراؤ کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر انہوں نے یہ نہیں جانا کہ اس ٹکراؤ کے نتیجہ میں یہ ہوگا کہ مسلمانوں اور یہاں کی اکثریتی فرقہ کے درمیان تناؤ اور نفرت کا ماحول پیدا ہو جائے گا۔ حکومت سے ٹکراؤ کا تحمل تو کر سکتے ہیں مگر وہ اکثریتی فرقہ سے ٹکراؤ کا تحمل نہیں کر سکتے جو اُن کی مذکورہ سیاسی پالیسی کے نتیجہ میں لازماً پیش آئے گا۔
ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کہا کہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے جو اصول ہیں، اُن میں سے ایک اہم اصول یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کسی معاملہ میں آپ کی نزاع پیدا ہو جائے تو پہلے ہی مرحلہ میں اُس کو ختم کر دیجیے، خواہ اس میں آپ کو کچھ نقصان اُٹھانا پڑے۔ اگر آپ نے پہلے
مرحلہ میں اس کو ختم نہیں کیا تو آپ اُس کو بعد کے مرحلہ میں ختم کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مگر بعد کو ختم کرنا صرف زیادہ نقصان کی قیمت پر ہوگا اور آپ پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آئے گا: آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جب کسی آدمی کو ذہنی ٹینشن (mental tension) ہو جائے تو وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے ذہنی ٹینشن کو ختم کرے تا کہ اُس کو سکون حاصل ہو جائے۔ مگر یہ ایک ناقابل عمل تدبیر ہے۔ ذہنی ٹینشن کے ساتھ ہمیں جینا ہے، نہ کہ اُس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔
ذہنی ٹینشن جب کسی کو ہوتا ہے تو وہ کسی کو اُس کا ذمہ دار سمجھ کر اُس کا شاکی بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی ٹینشن کسی انسانی سبب سے نہیں آتی۔ وہ براہ راست فطرت کے نظام کا ہم فطرت کے نظام کو بدل نہیں سکتے۔ اس لیے ہم ٹینشن کا خاتمہ بھی نہیں کر سکتے۔ کو سمجھ لیا جائے تو ٹینشن اپنے آپ ڈیفیوز ہو جائے گا۔
ایک موقع پر میں نے کہا کہ اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ اپنے محبوب رہنما کے اقدام کو اُس کے ان بولے ہوئے الفاظ سے جانچتے ہیں جو اس نے اپنے اقدام سے پہلے لکھا تھا یا بولا تھا۔ جانچ کا یہ طریقہ صحیح نہیں۔ عملی اقدام کو اس کے عملی انجام کی روشنی میں جانچنا چاہئے، نہ کہ رہنما کے قبل از اقدام قول کی روشنی میں۔
دنیا میں کسی اقدام کا نتیجہ اقدام کرنے والے کی خواہش کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ قانون فطرت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ رہنما وہ ہے جو اس حقیقت کو جانے اور اقدام سے پہلے موجودہ حالات کو گہرائی کے ساتھ سمجھ کر یہ اندازہ کرے کہ اُس کا اقدام نتیجہ خیز ہوگا یا نہیں۔ جو آدمی واقعی حالات کا اندازہ کیے بغیر محض اپنی خواہش کے زیر اثر عملی اقدام کرے وہ رہنما نہیں ہے بلکہ صرف ایک نادان انسان ہے۔ ایسے آدمی کا اقدام بندر کی چھلانگ ہے، نہ کہ دانا انسان کا منصوبہ بند عمل۔ فلسطین کا جہاد، کشمیر کا جہاد، پاکستان بنانے کا ہنگامہ اور مختلف مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کے
نفاذ کے نام پر ٹکراؤ کی سیاست چلانا وغیرہ سب اسی قسم کے نادانی کے اقدامات ہیں۔ یہ سب وہ لوگ تھے جن پر فرض تھا کہ وہ اپنی نااہلی کے بُرے انجام سے لوگوں کو بچائیں، نہ یہ کہ نااہلی کے باوجود ایسے عملی نشانوں کی طرف چھلانگ لگا دیں جن کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا ہی نہیں۔ ١٩۶۵ کے زمانہ میں جب کہ میں ندوہ (لکھنؤ) میں مقیم تھا، وہاں کے ایک سینیئر استاد میرے انہوں نے کہا کہ برما میں اراکان کے سرحدی علاقہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ وہاں جانا چاہتا ہوں تا کہ اس حصہ کو الگ کر کے وہاں اسلامی حکومت بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں آپ میرا ساتھ دیں۔ میں نے کہا کہ استغفراللہ، یہ کوئی منصوبہ نہیں، یہ تو نادانی کی ایک وہ اس پر غصہ ہو گئے اور یہ سمجھ کر چلے گئے کہ میرے اندر اسلامی حمیت نہیں۔ تاہم جیسا کہ معلوم ہے، اراکان میں کچھ جوشیلے رہنماؤں نے علیحدہ مسلم اسٹیٹ کی تحریک اس تحریک کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ اراکان کے مسلمان تباہ ہو گئے۔ جب برما کی حکومت کی طرف سے ان باغیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو بہت سے مسلمان وہاں سے بھاگ کر بنگلہ دیش آ گئے اور اب وہ بنگلہ دیش میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اراکان میں مفروضہ مسلم اسٹیٹ تو نہیں بنی البتہ جو کچھ مسلمانوں کو وہاں حاصل تھا وہ بھی تباہ ہو گیا۔ اس قسم کی تحریکیں بہت سے ملکوں میں چلائی گئیں۔ میں ان تحریکوں کو پاکستانیزیشن کہتا ہوں۔ اس قسم کی تحریک بلاشبہ ایک نادان تحریک ہے۔ کوئی جواز نہ عقل میں ہے اور نہ اسلام میں۔
کچھ تعلیم یافتہ ہندوؤں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ دو قسم کے لیڈر دنیا میں رہے ہیں۔ ایک وہ جن کو ریفارمر کہا جا سکتا ہے، اور دوسرے وہ جن کو پرافٹ کہا دونوں میں فرق یہ ہے کہ ریفارمر کا نظریہ انسان بمقابلہ انسان (man versus man) کے اصول پر مبنی ہوتا ہے اور پرافٹ کا نظریہ انسان بمقابلہ خدا (man versus God) کے اصول پر قائم ریفارمر کا طریقہ ہمیشہ انسانوں میں دو متحارب گروہ بناتا ہے۔ ریفارمر یہ کرتا ہے کہ وہ انسانیت کے ایک گروہ کو معصوم کے طور پر لیتا ہے اور دوسرے گروہ کو خطا وار کے طور پر۔ اور پھر وہ مفروضہ معصوم
گروہ کو مفروضہ خطا وار گروہ سے ٹکرا دیتا ہے۔
مثلاً فرانس کے سیاسی ریفارمر روسو نے انسانیت کو سیاسی مظلوم اور سیاسی ظالم کے نام سے دو گروہوں میں بانٹا۔ چنانچہ روسو کی کتاب معاہدۂ عمرانی (Social Contract) اس جملہ سے شروع ہوتی ہے— انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر میں اُس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتا ہوں: Man was born free. But I find him in chains. اس قسم کا نظر ہمیشہ انسانیت کو بانٹتا ہے۔ وہ انسانوں کے درمیان گروہی نزاع پیدا کرتا ہے۔ وہ انسانوں کے درمیان نفرت اور تناؤ جیسے منفی جذبات پیدا کرتا ہے۔
پرافت کے طریقہ کی مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ عل وسلم نے فرمایا: الخلق عیال الله (سارے انسان خدا کی فیملی ہیں)۔ اس نظریہ میں ایک طرف خدا ہوتا ہے اور دوسری طرف تمام انسان۔ اس طرح یہ نظریہ تمام انسان کو ایک اُصول پر متحد کر دیتا ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے لیے مثبت جذبات فروغ پاتے ہیں، نہ کہ منفی جذبات۔
ایک صاحب نے حالات کی شکایت کی۔ اُس کے جواب میں میں نے کہا کہ خدا نے دنیا میں ایسے اسباب رکھ دیے ہیں کہ یہاں ہمیشہ ہلچل جاری رہے۔ آدمی ہر قسم کے موافق اور مخالف حالات کا تجربہ کرتا رہے۔ اس دو طرفہ تجربہ کے بغیر انسانیت کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ میں نے کہا کہ جو آدمی پھولوں کے چمن میں زندگی گزارے وہ یہ نہیں جانے گا کہ خارستان کیا جو آدمی بلبل کے نغموں کے درمیان جیتا ہو وہ یہ نہیں جانے گا کہ گدھے کی چیخ کیا ہے۔ بے آزار درختوں کے درمیان اپنے صبح و شام بسر کرتا ہو وہ یہ نہیں جانے گا کہ خار دار جھاڑی کیا چیز ہوتی جو آدمی آرام دہ صوفہ پر زندگی گزار رہا ہو وہ یہ نہیں جانے گا کہ ریت اور پتھر کے اوپر سونا کیا ہے۔ ایک اعتراض کے جواب میں میں نے کہا کہ ایک افغانی عالم دارالعلوم دیوبند میں اُستاد ایک مجلس میں انہوں نے کہا کہ میں اتنے عرصہ سے ہندستان میں رہتا ہوں اور میری تعلیم دارالعلوم دیوبند میں ہوئی ہے۔ چنانچہ اب میں اُردو زبان اچھی طرح سمجھنے لگا ہوں۔ ایک صاحب نے
ان کا امتحان لینے کے لیے پوچھا کہ ’’ کر یلانیم چڑھا‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ افغانی بزرگ نے کچھ دیر سوچا اور اس کے بعد کہا کہ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ آدھا پکا ہوا کر یلا۔ انہوں نے نیم کو نصف کے معنیٰ میں لیا اور چڑھا کو آگ پر ہانڈی چڑھا کر پکانے کے معنی میں۔
اس قسم کی زیادہ بڑی غلطی وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنی کم فہمی کی بنا پر اسلام کی انوکھی تشریح کرتے وہ قرآن وحدیث سے ایک دو لفظ کو لے کر خودساختہ طور پر اس کا ایک مفہوم بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام یہ ہے۔ مثلاً ایک ہندو نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا کہ مسلمان یہ شکایت کرتے ہیں کہ تعصب کی بنا پر وہ اقتصادی بدحالی کا شکار ہیں۔ مگر یہ مسلمانوں کے لیے کوئی شکایت کی بات نہیں۔ لیے کہ اُن کے پیغمبر نے خود کہا ہے ’’ بدأ الاسلام غريباً وسيعود كما بدأ‘‘۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام غریبوں کا مذہب ہے، مسلمان پہلے بھی غریب تھے اور بعد کو بھی وہ غریب رہیں ایسی حالت میں اگر مسلمان اقتصادی اعتبار سے کمزور ہوں تو اس میں شکایت کی کوئی بات نہیں۔ یہ تو عین وہی بات ہے جو خود اُن کے پیغمبر نے کہی ہے۔
مذکورہ ہندو نے حدیث کا یہ مطلب اس لیے نکالا کہ اُس نے اپنے ذہن کے مطابق ، غریب کا مطلب محتاج (poor) سمجھا تھا۔ حالاں کہ غریب کا مطلب عربی زبان میں اجنبی (stranger)
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ سچے خدا پرست بن کر رہیں ، آپ اللہ کے دین کے داعی بنیں، آپ اللہ کی پسند والی زندگی گذاریں تو آپ کو کچھ ایسی چیزوں کو چھوڑنا پڑے گا جو آپ کی دینی زندگی کو ڈسٹرب کرنے والے ہوں۔ مثلاً اس کے لیے آپ کو حرص کو چھوڑنا پڑے گا۔ ورنہ آپ دنیا میں اس طرح پھنس جائیں گے کہ آخرت کے کام کے لیے آپ کے پاس وقت ہی نہیں رہے گا۔ آپ کو ردعمل کی نفسیات سے اوپر اٹھنا ہوگا، ورنہ آپ کا ذہن غصہ اور نفرت اور انتقام اور کینہ کا کارخانہ بن جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ اللہ کے سچے تعلق سے محروم ہو جائیں گے۔ اسی طرح آپ کو وقت کے ضیاع سے بچنا ہوگا، ورنہ آپ کے پاس دین کے کام کے لیے کوئی ٹائم ہی نہیں رہے گا۔
طرح آپ کو اسراف سے بچنا ہوگا، ورنہ آپ کا مالی بجٹ اس طرح غیر مستحکم ہو جائے گا کہ آپ ساری زندگی پیسہ کمانے میں لگے رہیں گے اور کوئی مزید کام نہ کر سکیں گے، وغیرہ۔ ایک مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ نماز اللہ کی عبادت کا ایک محفوظ اور غیر محرف فارم ہے۔ یہ بلاشبہ اہل اسلام کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ کیوں کہ کسی دوسرے مذہبی نظام میں اللہ کی عبادت کا وہ فارم محفوظ نہیں جو اللہ کو مطلوب ہے اور جس کی تعلیم اُس نے پیغمبروں کے
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: و ما کان صلوتهم عند البيت الا مکاء و تصدیہ (التوبہ) عام طور پر اس آیت کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ رسول اللہ جب کعبہ میں نماز پڑھتے تو مشرکین آپ کی نماز کو ڈسٹرب کرنے کے لیے سیٹی بجاتے اور تالی بجاتے۔ مگر آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اُن کے یہاں نماز تھی مگر وہ بگڑی ہوئی حالت میں تھی۔ پچھلے مذہبوں میں عبادت الہی کا جو فارم بتایا گیا تھا وہ بعد کے زمانہ میں اپنی ابتدائی شکل میں باقی نہیں رہا۔ دینی اسپرٹ اور اللہ سے تعلق میں کمی کے نتیجہ میں اُن کی عبادت خارجی مظاہر میں تبدیل ہو کر عبادت کا صرف ایک ناقص فارم بن گئی۔ یہی وہ ناقص فارم ہے جو آج اسلام کے سوا تمام مذہبوں میں دکھائی دیتا ہے۔ عبادت کے وقت گانا اور بجانا اور تالی پیٹنا اور رقص کرنا یا الفاظ کی جَپ (chanting) کرنا اس کی مثالیں ہیں۔
اسلام میں بھی بعد کے زمانہ میں طرح طرح کی بدعات کی صورت میں عبادت کے فارم کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ مگر یہ بدعات اسلام کے اصل عبادتی فارم کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا ہے کہ جن مختلف چیزوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بتایا جاتا ہے اُن میں سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی حیثیت سنت نبوی کی نہیں ہے بلکہ اُن کی حیثیت عادت عرب کی ہے۔ چوں کہ عرب کے سماج میں ان چیزوں کا رواج تھا اس لیے آپ نے بھی اُن کو اختیار کر لیا، مثلاً عمامہ، وغیرہ۔ میں اس بات کو لفظ بدل کر یہ کہوں گا کہ پیغمبر اسلام نیز ہر پیغمبر کی زندگی میں دو قسم کی چیزیں ہوتی
ایک، سنتِ پیغمبر اور دوسرے، عادتِ انسانی۔ سنتِ پیغمبر کا تعلق اُن افعال سے ہے جن پر آخرت کی نجات کا انحصار ہے اور عادتِ انسانی کا تعلق اُن چیزوں سے ہے جن کا تعلق دنیا میں صاف ستھری زندگی گزارنے سے ہے۔
مثلاً حضرت ابراہیم گھوڑے پر سواری کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی سواری اونٹ تھی۔ فرق کا سبب یہ تھا کہ قدیم عراق میں گھوڑے کی سواری کا رواج تھا اور قدیم عرب میں اونٹ کی سواری کا رسول اللہ ﷺ نے مدعو کی زیادتیوں پر صبر کیا۔ یہ بھی آپ کی ایک سنت تھی۔ اس سنت کا تعلق آخرت کی کامیابی سے ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے عمامہ اور خضاب، وغیرہ کے معاملہ میں ایک طریقہ اختیار فرمایا۔ ان طریقوں کا تعلق حقیقۃً عادتِ انسانی سے تھا، نہ کہ سنتِ نبوی سے۔ ان دونوں قسم کے طریقوں یا سنتوں میں فرق کرنا بے حد ضروری ہے۔ اگر ان دونوں کے درمیان فرق نہ کیا جائے تو اُس کا نقصان یہ ہوگا کہ لوگ دنیوی اہمیت کی چیزوں کو وہ درجہ دے دیں گے جو آخرت والی اہمیت کی چیزوں کا درجہ ہے۔ وہ اُس کو تقویٰ کی علامت سمجھ لیں گے۔ حالاں کہ تقویٰ کا تعلق دل سے ہے، نہ کہ ظاہری چیزوں سے۔
ایک صاحب کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ گرنے کا نام ہار نہیں۔ ہارنے والا وہ ہے جو گرنے کے بعد اُٹھنے والا نہ سکا۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں گرنا بھی ہوتا ہے اور یہاں کامیابی بھی آتی ہے اور ناکامی بھی۔ یہاں کبھی فائدہ ہوتا ہے اور کبھی نقصان۔ حالت میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص اس دنیا میں ہمیشہ کامیاب ہو، اس کو کبھی ناکامی کا تجربہ پیش نہ اس دنیا میں کامیابی کی صحیح تعریف یہ ہے کہ آدمی کو جب فطرت کے قانون کے مطابق، ناکامی کا تجربہ پیش آئے تو وہ مایوس نہ ہو، وہ اپنا حوصلہ نہ کھوئے۔ وہ ہر ناکامی کے بعد دوبارہ اپنی جدوجہد شروع کردے، وہ ہر ناکامی کے بعد از سرِ نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر سکے۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے مرزا غالب کا ایک واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ مرزا غالب کے پاس اُن کے ایک تاجر دوست جو اُن کے معتقد تھے آئے اور کہا کہ میں دہلی
چھوڑ کر کلکتہ جا رہا ہوں۔ آپ سے رخصتی ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ مرزا غالب نے پوچھا کہ آپ دہلی چھوڑ کر کلکتہ کیوں جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دلی میں میرا کاروبار نہیں چل رہا ہے وہاں جا کر کوشش کروں گا۔ مرزا غالب نے کہا کہ جب آپ کلکتہ پہنچیں تو وہاں کے اللہ میاں کو ہمارا سلام اس پر مذکورہ تاجر دوست نے کہا کہ کیا وہاں کے اللہ میاں الگ ہیں۔ مرزا غالب نے جواب دیا کہ اگر وہاں کے اللہ الگ نہ ہوتے تو آپ دلی چھوڑ کر کلکتہ نہیں جاتے۔ اس کے بعد دوست لا جواب ہو گئے اور اُنہوں نے کلکتہ جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔
بات کہنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک منطقی انداز اور دوسرا پر لطف انداز۔ مرزا غالب کا مذکورہ واقعہ کسی بات کو پر لطف انداز میں کہنے کی ایک مثال ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ علمی اور منطقی پہلا طریقہ ہر آدمی کو اپیل کرتا ہے اور دوسرا طریقہ صرف سنجیدہ لوگوں کو اپیل کرے گا۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کوئی شخص پیدا ہوتے ہی ہر قسم کا مادی ساز و سامان پالے۔ باپ کی کمائی کی بنیاد پر اُس کو ابتدا ہی میں ہر قسم کی آسانیاں مل جائیں تو عام لوگ اس کو ایک خوش قسمت انسان سمجھتے ہیں۔ انگریزی میں ایسے آدمی کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص اپنے منھ میں چاندی کا چمچہ لے کر پیدا ہوا۔