He was born with a silver spoon in his mouth.
Al-Risala, April 2004, pp. 49–55
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر میرے تجربہ کے مطابق، سب سے زیادہ محروم انسان وہ ہے جو اپنی کم عمری ہی میں اپنی پسندیدہ چیز پالے۔ مثلاً پر کشش بیوی، شاندار مکان، زرق برق کار، بینک بیلنس، دوستوں کا حلقہ، محنت کے بغیر کافی آمدنی، عزت اور عہدہ، وغیرہ۔ ابتدائی عمر میں آدمی زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ملی ہوئی چیز کو کافی سمجھ کر بس اسی میں گم ہو جاتا ہے۔ لذت ہی کو وہ اپنا سب کچھ سمجھ لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بس ایک فربہ اور خوش پوش حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔ اُس کی ذہنی سطح حیوانی سطح سے آگے نہیں بڑھتی۔
اصل یہ ہے کہ انسان فطرت سے بے پناہ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت ابتداء
غیر پختہ حالت میں ہوتی ہے۔ پینتیس سال کے بعد انسان پختگی کی حالت پر پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر انسان گویا ایک خام لوہا (ore) ہوتا ہے جس کو دوبارہ ااسٹیل(steel) (steel) بننا ہے۔ یہ ارتقائی مرحلہ صرف پر مشقت حالات کے درمیان طے ہوتا ہے۔ پرمشقت حالات اور چیلنج کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں جو اس ارتقائی عمل میں کار آمد ہو سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی زندگی کے آغاز ہی میں وہ حالات پالے جس میں اُس کو کچھ کیے بغیر سب کچھ مل جائے، وہ گویا خام لوہے کے درجہ میں پڑا رہے۔ کے برعکس جو آدمی پر مشقت حالات سے گزرے اور چیلنج کا سامنا کر کے اپنی زندگی بنائے وہ اس عمل کے دوران خام لوہے سے ترقی کر کے قیمتی سٹیل بن جائے گا۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ: عجب الله من قوم يدخلون الجنة في السلاسل ( صحیح البخاری، کتاب الجہاد، سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، مسند احمد) یعنی کچھ لوگ زنجیروں میں باندھ کر جنت میں داخل کیے جائیں گے۔ اس حدیث کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ زنجیر میں باندھنے کا یہ واقعہ آخرت میں پیش آئے گا۔ مگر یہ بات درایت یا کامن سنس کے اس لیے کہ آخرت میں اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ اس کو جنت دے دی گئی ہے تو وہ خود ہی بھاگ کر جنت میں داخل ہو جائے گا، نہ یہ کہ اس کو باندھ کر زبردستی جنت میں پہنچانا پڑے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ دنیا میں پیش آئے گا۔ زنجیر میں باندھنا اس کو دنیا کی مصیبتوں میں زنجیر میں باندھنا دنیا کی مصیبتوں میں مبتلا کرنے کی ایک تعبیر ہے۔ یہ معاملہ غالباً ان مخصوص لوگوں کے ساتھ پیش آئے گا جن کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ مصیبتوں میں پڑیں تو وہ منفی نفسیات کا شکار نہ ہو جائیں۔ بلکہ مصیبت کا واقعہ ان کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا کر دے۔ وہ ان کو اللہ سے قریب کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ جن افراد کے اندر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے اُن کے لیے مصیبت کا تجربہ ربانی نفسیات جگانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ غفلت سے نکل کر اللہ کی یاد کرنے والے بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ جنت کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ یہ پورا واقعہ آج کی دنیا میں ہوتا ہے، نہ کہ آخرت کی دنیا میں۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ قدیم زمانہ میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا۔ اس بنا پر ناول اور افسانے عمومی طور پر پائے نہیں جاتے تھے۔ ٹی وی اور سینما جیسی تفریحی چیزیں بھی موجود نہ تھیں۔ چنانچہ قدیم زمانہ میں ہر جگہ کچھ ایسے لوگ ہوا کرتے تھے جن کو قصاص یا قصہ گو (story teller) کہا یہ افراد لوگوں کے لیے تفریح کا سامان فراہم کرتے تھے۔ دورِ پریس سے پہلے اس قسم کے افراد ہر سماج میں ہر مقام پر ہوا کرتے تھے۔ میں نے خود بھی اپنے بچپن میں ایک قصہ گو کو دیکھا ہے۔ ایک مسلمان تھے جن کا نام گھُرہو تھا۔ وہ بچوں یا بڑوں کو اکٹھا کر کے عجیب و غریب قصے سنایا کرتے یہ فرضی قصے اتنے دلچسپ ہوتے تھے کہ آدمی گھنٹوں سننے کے باوجود اکتا تا نہ تھا۔ فتوحات کے بعد جب اسلام شام و ایران اور مصر و عراق و غیرہ جیسے ملکوں میں داخل ہوا تو وہاں اس قسم کے بہت سے قصاص موجود تھے۔ ان لوگوں کے اثر سے مسلمانوں میں بھی قصاص کا گروہ پیدا ان لوگوں نے مزید یہ کیا کہ قصہ گوئی کو اسلامائز کر لیا۔ یعنی عجیب و غریب قسم کی کہانیوں کو رسول اور اصحاب رسول اور بزرگانِ دین کے حوالہ سے بیان کرنے لگے۔ یہ قصہ گوئی چونکہ عربی زبان میں اس لیے جب ان کا مجموعہ کتابی شکل میں مرتب ہو کر پھیلا تو لوگ اس کو سچ مُچ حدیث کی طرح مقدس سمجھنے لگے۔ یہ فرضی قسم کی مقدس کہانیاں مسلم دنیا میں پھیل گئیں اور پھر وہ ترجمہ ہو کر ہندوستان جیسے ملکوں میں بھی پہنچ گئیں۔
اس قسم کی پر اسرار اور پر عجوبہ کہانیاں سراسر بے اصل ہیں۔ وہ مسلمانوں کا ذہن بگاڑتی ہیں۔ وہ مسلمانوں سے صحیح دینی اسپرٹ ختم کر دینے والی ہیں۔ ان انوکھی کہانیوں میں دنیا کی بھی تباہی ہے اور آخرت کی بھی تباہی۔ دنیا کی تباہی اس لیے کہ اس قسم کی کہانیاں آدمی کے اندر غیر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتی ہیں اور آخرت کی تباہی اس لیے کہ آدمی اس جھوٹے بھرم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ حقیقی عمل کے بغیر سستے اعمال کر کے وہ جنت حاصل کر سکتا ہے۔
ایک مجلس میں میں نے قرآن کی دو آیتوں کی تشریح کی۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں اور اُس حق کے
آگے جو نازل ہوا ہے ۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی ، پھر اُن پر لمبی مدت گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہو گئے اور اُن میں سے اکثر نافرمان ہیں ۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اُس کی موت کے بعد ۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں ، تاکہ تم سمجھو
اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُمت مسلمہ پر اسرار طور پر قساوت میں مبتلا ہونے سے محفوظ کر دی گئی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قساوت کا تعلق فطرت کے قانون سے ہے اور وہ ہر امت کے ساتھ بعد کی نسلوں میں ڈی جنریشن (de-generation) کے نتیجہ میں پیش آتا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر کی امت کی پہلی جنریشن معرفت (realization) کے ذریعہ خدا کے دین میں داخل ہوتی ہے ۔ ایمان ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ مگر بعد کی نسلوں میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ صرف پیدائش کی بنا پر مسلم گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے امت کے بعد کی نسلوں میں خشوع کا عنصر ختم ہو جاتا کیوں کہ خشوع معرفت سے آتا ہے ، نہ کہ پیدائشی وراثت سے ۔
فرمایا کہ بعد کی نسلوں میں جب ایسا ہو تو یہ کرنا ہو گا کہ دوبارہ لوگوں کے شعور کو جگایا جائے اور اُنہیں پھر سے معرفت والے ایمان پر کھڑا کیا جائے ۔ اسلام کو اُن کے لیے ری ڈسکوری (re-discovery) بنایا جائے ۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لیے قرآن میں زمین کی مثال دی گئی زمین کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے بعد مردہ (بنجر) ہو جاتی ہے ۔ اُس وقت کسان زرعی عمل کر کے اُس زمین کو دوبارہ فصل کے قابل بناتا ہے ۔ ڈی جنریشن کے بعد ری جنریشن (re-generation) کا یہی معاملہ امت میں نسل در نسل جاری رہنا چاہیے ۔ تا کہ وہ قساوت سے بچے اور وہ خشوع والے ایمان پر قائم رہے ۔
ایک مجلس میں میں نے مولانا اسحاق کمال قادری کا واقعہ بیان کیا ۔ وہ عرصہ سے ماہنامہ الرسالہ اور میری کتابوں کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ ایک بار حیدر آباد میں کئی دن اُن کو میری صحبت میں رہنے کا موقع ملا ۔ اس دوران میں نے اُن سے پوچھا کہ اس تجربہ کی روشنی میں آپ بتائیں کہ تحریر
اور صحبت میں کیا فرق ہے۔ یعنی کسی شخص کو کتابوں میں پڑھ کر اُس کے بارہ میں کتنا علم ہوتا ہے اور اُس کی صحبت میں رہ کر براہ راست اُس کی زبان سے سننے میں کیا حاصل ہوتا ہے۔ میرے بارہ میں تجربہ کی نسبت سے آپ اس فرق کو بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس شخصیت کے قول و عمل میں تضاد ہے یا نہیں، اس کا اندازہ صرف تحریر کو پڑھ کر نہیں ہوسکتا مگر صحبت سے بخوبی طور پر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ صحبت کے بعد یا تو آدمی کی عظمت گھٹ جاتی ہے یا اُس کی عظمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ پھر انہوں نے میرے بارہ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا تجربہ تو یہ ہے کہ میں نے آپ کی تحریر اور آپ کے عمل میں کوئی تضاد نہیں پایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے ساتھ قلبی تعلق میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا۔ کم آمدنی والے لوگوں میں میں نے اکثر ایک مشترک مزاج پایا ہے۔ وہ یہ کہ یہ لوگ اکثر اس فکر میں رہتے ہیں کہ اپنی آمدنی کو کسی نہ کسی طرح بڑھائیں تاکہ اُن کے بچوں کو زیادہ آرام وراحت مل سکے۔ اس قسم کے ایک صاحب کو مشورہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک غلط مزاج ہے۔ یہ مزاج آدمی کو طرح طرح سے نقصان پہنچاتا ہے۔ یہاں تک کہ اُس کا ملا ہوا سکون بھی درہم برہم ہو
اس کے برعکس صحیح مزاج یہ ہے کہ آدمی آئندہ ترقی کے معاملہ کو بچوں پر چھوڑ دے۔ اُس کو جو کچھ مل رہا ہے اُس پر وہ راضی رہ کر گزارہ کرنے کی کوشش کرے۔ اس کی آمدنی اگر فطری طور پر بڑھ جائے تو وہ اُس کو اللہ کا انعام سمجھ کر ادا کرے۔ لیکن وہ اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے زیادہ ہاتھ پاؤں اُس کو چاہئے کہ وہ زیادہ آمدنی کے لیے اپنے بچوں کو تیار کرے۔ بچوں کو تعلیم دینا، بچوں کو ہنر سکھانا، بچوں کے اندر شعور حیات پیدا کرنا، یہ سب مستقبل کے لیے اُس کا نشانہ ہونا چاہئے۔ دو نکاتی فارمولا یہ ہونا چاہئے—اپنے لیے قناعت، اور بچوں کے لیے ترقی۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ ایک دیہاتی مقولہ ہے: پٹہ بھر جوتے، کچہری میں کھوکھے۔ یعنی آدمی کے پاس جوتنے کے لیے ایک بالشت زمین ہو مگر کچہری میں وہ آئے دن پہنچارہے۔
ان لوگوں کے لیے ہے جو مقدمہ بازی کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں۔ مقدمہ لڑنے کے لیے عدالت میں جانا جن کا مشغلہ حیات بن جاتا ہے۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جو سنجیدہ اور شریف ہوتے ہیں۔ جن کو مقدمہ بازی ایک ناقابل برداشت مصیبت معلوم ہوتی ہے۔ اگر اتفاقاً وہ کسی مقدمہ میں پھنس جائیں تو وہ مسلسل ذہنی کوفت میں مبتلا رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو میرا بہترین مشورہ یہ ہے کہ وہ یہ سوچ لیں کہ وہ یا تو مقدمہ جیتیں گے یا مقدمہ ہاریں گے۔ اس کے سوا کوئی تیسری صورت ہونے والی نہیں اور پھر وہ دونوں کے لیے یکساں طور پر تیار ہو جائیں۔
اگر وہ اپنے اندر یہ سوچ پیدا کر لیں تو اس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ عدالت کا سامنا کرنا اُن کے لیے آسان ہو جائے گا۔ وکیل کی صورت میں جب قانونی مُکَّہ باز (legal boxer) سے اُن کا مقابلہ پیش آئے گا تو وہ معتدل ذہن کے ساتھ اُس کو جواب دے سکیں گے۔ عام لوگ اس اندیشہ میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں وہ مقدمہ ہار نہ جائیں۔ لیکن جب ایک شخص ہار کا بھی استقبال کرنے کے لیے تیار ہو تو اُؔس کے اندر ایک نیا حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حوصلہ مند آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ زیادہ بہتر طور پر زندگی کے مسائل کا سامنا کر سکے۔
ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیامت قریب آگئی قرآن کے مطابق، قیامت سے پہلے پیش آنے والے تین واقعات ظاہر ہو چکے ہیں۔ حالت میں اب قیامت میں زیادہ تاخیر کی بظاہر کوئی وجہ نہیں۔
اس سلسلہ میں پہلی چیز قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: اولم ير الذين كفروا ان السموات والارض كانتا رتقاً ففتقناهما (الأنبياء ۳۰) اس آیت میں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مستقبل کے منکرینِ خدا کو خطاب کر رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ تمہارے سامنے ایک ایسی کھلی شہادت ظاہر ہونے والی ہے جس کے بعد خدا کے وجود کا انکار عقلی طور پر ناممکن ہو جائے۔ موجودہ زمانہ میں بگ بینگ (Big Bang) کا کائنات نظریہ ہے۔ یہ نظریہ اب سائنسی طور پر ثابت
ہو چکا ہے۔ یہ خالص علم انسانی کی سطح پر یہ ثابت کر رہا ہے کہ کائنات کا پیدا کرنے والا ایک خالق ہے۔ اُس نے تقریباً ۲۰ بلین سال پہلے ہماری کائنات کو وجود دیا۔
اس سائنسی تحقیق کے بعد اب کسی سنجیدہ انسان کے لیے خدا کے وجود کا انکار کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ اس تحقیق کے بعد اب انسان کے سامنے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ وہ خالق کے وجود کو مانے یا کائنات کے وجود کا انکار کر دے اور خود اپنے وجود کا بھی۔ قرآن میں ایک پیشگی اطلاع یہ دی گئی تھی کہ ـــ ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (حم السجدہ ۵۳) اس آیت میں بتایا گیا تھا کہ مستقبل میں خالص علمی تحقیق کے ذریعہ ایسی شہادتیں سامنے آئیں گی جو قرآن کی صداقت کا یقینی ثبوت ہوں۔ یہ شہادتیں اب پوری طرح ظاہر ہو چکی ہیں۔ اس موضوع پر مختلف زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب ڈاکٹر مورث بکائی کی ہے جو فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی اور پھر مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: