The Bible, The Qur'an and Science
Al-Risala, April 2004, pp. 55–60
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں تیسری چیز دابۃ ہے جس کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے ـــ اور جب اُن پر بات آپڑے گی تو ہم اُن کے لیے زمین سے ایک دابۃ نکالیں گے جو اُن سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے (النمل ۸۲)
اس آیت میں دورِ آخر میں نکلنے والے دابۃ کا ذکر ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں موبائل ٹیلی فون اسی دابۃ کی مشینی تعبیر ہے۔ موبائل ٹیلی فون نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان بعید فاصلوں سے ربط قائم کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ دونوں کے درمیان بظاہر کوئی مادی رشتہ موجود اور جب انسان اور انسان کے درمیان فاصلہ کے باوجود غیر مرئی طور پر ربط قائم ہو سکتا ہو تو انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔ اور یہی رسالت اور وحی کا معاملہ ہے۔
اس طرح اب خدا کی طرف سے انسانی نسلوں کے اوپر خود علم انسانی کے ذریعہ آخری اتمام حجت ہو چکا ہے۔ اور جب لوگوں کے اوپر آخری اتمام حجت ہو جائے تو اُس کے بعد قیامت کے ظہور میں کوئی سبب تاخیر باقی نہیں رہتا۔
میرٹھ کے سفر میں ایک خاص بات میں نے یہ دیکھی کہ یہاں جو لوگ الرسالہ مشن سے جڑے ہوئے ہیں وہ اسی کے ساتھ وہ کام بھی کر رہے ہیں جس کو موجودہ زمانہ میں سوشل سروس کہا جاتا ایک طرف وہ دعوہ ورک مستقل طور پر کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ سوشل ورک بھی مستقل طور پر انجام دیتے ہیں۔ مولانا عرفان صاحب، ساجد خاں صاحب اور شہزاد علی صاحب وغیرہ، سب اس میں شریک ہیں، ان کا سوشل ورک مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں میں ہو رہا ہے۔ یہ طریقہ بے حد اہم ہے۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مختلف اسباب سے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں دوری پیدا ہوگئی ہے۔ نفرت اور کشیدگی کا ماحول بن گیا ہے۔ ایسی حالت میں دعوت کا کام عملی طور پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ موجودہ حالات میں پہلا کام یہ ہے کہ دوری کو مٹایا جائے ۔ نفرت کو ختم کیا لوگوں کے دلوں کو نرم کیا جائے اس کے بعد ہی داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل ماحول بنے گا جس کے تحت کامیابی کے ساتھ دعوہ ورک ہو سکے۔ میرٹھ کا حلقہ اس معاملہ کی ایک قابل تقلید مثال ہے۔ ایک صاحب سے اس مثال کا تذکرہ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرٹھ میں دعوت کا کام آگے بڑھے گا۔ کیونکہ یہاں دعوت کی ابتدائی بنیاد موجود ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر جگہ مسلمانوں کو سچی خیر خواہی کے ساتھ سوشل ورک کرنا چاہئے، صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ساری انسانیت میں نے کہا کہ’’ امت پنا‘‘ کا تصور اسلام کی آفاقی روح کے خلاف ہے۔ اسلام کی اصل روح ’’انسانیت پنا‘‘ ہے نہ کہ ’’امت پنا‘‘۔ اس معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کا مزاج دعوت کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک یہ مزاج نہ بدلے، حقیقی معنوں میں دعوت کا کام نہیں ہوسکتا۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک دینی صفت بالکل اُٹھ گئی ہے اور وہ سادگی ہے۔ حالاں کہ سادگی کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اس کو ایمان کا ایک جزء بتایا گیا
ایک صحابی کہتے ہیں کہ : ہم کو تکلف سے منع کیا گیا ہے (نھینا عن التکلف) ہر معاملہ میں سادگی کا طریقہ اسلام کا طریقہ ہے اور تکلف کا طریقہ غیر اسلامی طریقہ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ بیماری اتنی عام ہے کہ ہر ملک میں اس کا منظر دکھائی دیتا ہے۔
کھانا صحت کے لیے ہے۔ صحت بخش کھانا وہی ہے جو سادہ کھانا ہو۔ مگر مسلمانوں نے ساری دنیا میں کھانے کو لذت کی چیز سمجھ لیا ہے۔ ہر مسلمان کی کمائی کا سب سے بڑا حصہ اس پر خرچ ہوتا ہے کہ کھانے کو زیادہ سے زیادہ لذیذ بنایا جائے۔ یہ لذیذ کھانا اسراف بھی ہے، وہ صحت کو بھی خراب کرتا ہے اور سادگی کے مزاج کو بھی ختم کرتا ہے۔ جب کہ سادگی ایمان کی پرورش کے لیے بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی لذیذ کھانا کھائے وہ نہ صرف اپنی صحت کو کھوتا ہے بلکہ وہ اس سے بھی محروم ہو جاتا ہے کہ اس کو اعلیٰ ایمانی کیفیات کا تجربہ ہو۔ لذیذ کھانا گہرے ایمانی احساس کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو لوگ لذیذ کھانے سے اوپر نہ اٹھ سکیں وہ ایک قسم کے خوش پوش حیوان ہیں، انہیں کبھی بلند انسانیت کا تجربہ نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح لباس اور تہوار اور تقریبات اور شادی بیاہ اور سماجی رسوم اور خاندانی رواج میں اور بچوں کی ناز برداری میں تقریباً ہر مسلمان اتنا زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے جو بلا شبہہ اسراف اور تبذیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اسراف و تبذیر میں مبتلا ہونے والوں کو قرآن میں شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ بے حد خطر ناک بات ہے۔ ایسے لوگوں کا اس وقت کیا حال ہوگا جب کہ آخرت میں ان کے بارے میں اعلان کیا جائے کہ یہ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔ ان کو اس مقام پر لے جاؤ جس کو شیطانوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک برائی بہت عام وہ کسی ایک حدیث کو لے لیں گے اور اس کو مطلق اور عمومی بنا کر اس کے معاملہ میں آخری حد تک پہنچ جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم فلاں حدیث پر عمل کر رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ سراسر غیر اسلامی فعل اس روش پر سخت مواخذہ کا اندیشہ ہے۔
مثال کے طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک حدیث سے اولموا (ولیمہ کرو) کا لفظ لے اور اپنی شادیوں میں ولیمہ کے نام پر اتنا زیادہ خرچ کریں گے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے شیطانی طریقہ پر عمل کرنا ہوگا، نہ کہ سنت کے طریقہ پر عمل کرنا۔
ایک صاحب نے کہا کہ امت میں آج اتنا زیادہ اختلاف ہے۔ بے شمار جماعتیں اور تنظیمیں بنی ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ سے پوری امت انتشار میں مبتلا ہے۔ ایسی حالت میں اتحاد کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ میں نے کہا کہ اتحاد ہمیشہ اختلاف کے باوجود ہوتا ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر۔ اتحاد کا راز اختلاف کو برداشت کرنا ہے، نہ کہ اختلاف کو مٹانا۔ حقیقت یہ ہے کہ رایوں کا اختلاف یا تنظیموں کی کثرت ایک فطری امر ہے۔ یہ چیز بجائے خود کوئی مسئلہ نہیں۔ جو چیز مسئلہ پیدا کرتی ہے وہ انتہا پسندی (extremism) ہے جس کو قرآن و حدیث میں غلو کہا گیا ہے۔
اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حیدر آباد میں مولانا سید اکبر الدین قاسمی (ایم اے عثمانیہ) کا تجربہ اس معاملہ کی ایک کامیاب مثال ہے۔ وہ اپنا ایک واضح مسلک رکھتے ہیں۔ وہ اپنا مستقل ادارہ بھی چلا رہے ہیں۔ وہ ہمارے مشن کے ساتھ بالکل شروع سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ پابندی کے ساتھ ماہنامہ الرسالہ کی ایجنسی (۲۵ کاپیاں) چلا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کا نہایت خوش گوار تعلق ہر جماعت اور ہر تنظیم سے ہے۔ اس کا سبب ان کی اعتدال پسندی ہے۔ متحمل مزاج کی بنا پر وہ طبقہ کے درمیان مقبول ہیں۔ وہ ایک مغربی مفکر کے ایک قول کی ایک معیاری میرے اندر اتنا زیادہ وسعت ہے کہ تمام تضادات کو اپنے اندر سموسکوں : I am large enough to contain all these contradictions. یہی وسعت نظری اور اعتدال پسندی اتحاد اور اتفاق کی اصل ضمانت ہے۔
(افسوس کہ مولانا سید اکبر الدین قاسمی ایک کار ایکسیڈنٹ میں شدید طور پر زخمی ہو گئے ۔ ایک ہفتہ اسپتال میں رہ کر ۲۸ جنوری ۲۰۰۴ کو انتقال کر گئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں وہ حیدر آباد میں بہت بڑا تعلیمی کام کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس کام کو حسن خوبی کے
ساتھ جاری رکھے اور اس کو ترقی کے اعلیٰ منازل تک پہنچائے اور ان کے پس ماندگان کے لیے حسن تلافی کا انتظام فرمائے۔ مولانا اکبر الدین صاحب کی موت راقم الحروف کے لیے ایک ذاتی حادثہ کی حیثیت رکھتی ہے)۔
۸ ستمبر ۲۰۰۳ کی صبح کو میرٹھ سے واپس ہو کر دہلی پہنچا۔ واپسی کا یہ سفر اُسی سڑک سے ہوا جس سڑک سے پہلی بار میں میرٹھ گیا تھا۔ میرٹھ میں قیام کے دوران اور بھی کئی واقعات پیش آئے ۔ سفر نامہ میں اُن کو درج نہ کیا جا سکا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کا ہر سفر نامکمل ہے، خواہ اُس کے ہر لمحہ کو الفاظ کی صورت دے کر کاغذ پر لکھ دیا جائے ۔ حقیقت کی دنیا غیر محدود ہے اور الفاظ کی دنیا محدود۔ محدو دکس طرح غیر محدود کا احاطہ کر سکتا ہے۔
کیا آپ اپنے دعوے کو حقائق کی عدالت میں بھی درست ثابت کر سکتے ہیں۔