Al-Risala · May 2004

مطالعۂ حدیث

Al-Risala, May 2004, pp. 8–15

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کا مطالعہ، بالواسطہ طور پر، قرآن کا مطالعہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ قرآن وحی متلو ہے اور حدیث وحی غیر متلو۔ ایک حدیث کے بارہ میں جب اصولی طور پر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے تو شرعی اعتبار سے اُس کا استناد ویسا ہی ہو جاتا ہے جیسا کہ خود قرآن کا استناد۔

جہاں تک مضامین کا تعلق ہے، قرآن میں دین کی اساسی تعلیمات کا بیان ہے اور حدیث میں دین کی تفصیلی تعلیمات کا بیان۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی اصولی تعلیمات حدیث کے متن ہی سے تفصیلی طور پر سمجھ میں آتی ہیں۔ حدیث کی مدد کے بغیر قرآن کا سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ حدیث کا ذخیرہ، وسیع ترتقسیم کے اعتبار سے، دو قسم کے مضامین پر مشتمل ہے۔ روح اسلام اور دوسرے وہ چیز جس کو شرائع کہا جاتا ہے۔ زیر نظر مجموعہ میں زیادہ تر پہلی قسم کی احادیث کا مطالعہ کیا گیا ہے۔

عربی زبان میں کثرت سے حدیث کی شرحیں لکھی گئی ہیں۔ یہ شرحیں زیادہ تر فنی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ مثلاً نحوی مسائل، اسناد کی بحث، حدیثوں میں تعارض کا مسئلہ، مختلف فقہی مسالک سے احادیث کی مطابقت، وغیرہ۔

زیر نظر مجموعہ میں حدیث کی تشریح کا یہ فنی انداز اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ ہم نے صرف یہ کوشش کی ہے کہ حدیث میں نصیحت اور سبق کا جو پہلو ہے اُس کو نمایاں کیا جائے۔ احادیث کو سمجھنے کے سلسلہ میں چند اصول کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ان اصولوں کو اگر سامنے رکھ کر حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو وہ اشکالات پیدا نہیں ہوں گے جو کچھ لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، حتیٰ کہ وہ حدیث کی اہمیت ہی کے بارہ میں مشتبہ ہو جاتے ہیں۔

اس سلسلہ میں ایک چیز یہ ہے کہ حدیث میں بعض اوقات کسی حکم کو عمومی انداز میں بیان کیا

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اُس کو مطلق مفہوم میں لے لیتے ہیں۔ حالاں کہ کوئی بات اگر بظاہر مطلق انداز میں بیان کی جائے تب بھی وہ مطلق طور پر مطلوب نہیں ہوتی۔ اکثر حالات میں اُس کا مقصد صرف تاکید ہوتا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ : المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویدہ (مسلم وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں)۔

اس حدیث میں بیک وقت دو قسم کا حصر موجود ہے۔ ایک یہ کہ حدیث کے الفاظ کے مطابق، اس میں مسلم کی تعریف اس طرح کی گئی ہے جس میں ایمان و عبادات، وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس میں المسلمون ہے، نہ کہ الناس۔ مگر یہ دونوں باتیں اضافی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور عبادات کا تذکرہ نہ ہونے کے باوجود وہ یہاں معہود ذہنی کے طور پر موجود ہے۔ المسلمون کے باوجود الناس بھی اُس میں تبعاً شریک ہیں۔

۲- احادیث میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو حقیقۃً تمثیل کی زبان میں ہیں۔ مگر لوگ اُس کو لفظی طور پر لے لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اشکال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ: انما الحر من فیح جهنم (گرمی جہنم کی پھونک سے ہے)۔ یہ جہنم کی گرمی کی شدت کو بتانے کے لیے ایک تمثیل ہے۔ اُس کو لفظی مفہوم میں لینا صحیح نہ ہوگا۔ اسی طرح عذاب قبر کے بارہ میں جو حدیثیں آئی ہیں وہ بھی تمثیل کی زبان میں ہیں، نہ کہ حقیقت کی زبان میں۔

۳- اسی طرح حدیث کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ کسی ایک حدیث کو لے کر رائے قائم نہ کی جائے بلکہ مختلف حدیثوں کا مجموعی مطالعہ کرنے کے بعد رائے بنائی جائے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ افضل الجہاد کلمہ حق عند سلطان جائر۔ اگر کوئی شخص اس حدیث کو لے کر یہ کرے کہ جہاں کہیں اُس کو کوئی بات حق اور عدل کے خلاف دکھائی دے وہاں وہ فوراً اُس کے رد میں تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے تو یہ حدیث کی تعمیل نہ ہوگی۔ کیوں کہ ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ: من صمت نجا۔ دونوں حدیثوں کو ملا کر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کہیں بولنا مطلوب ہوتا ہے تو کہیں یہ مطلوب ہوتا ہے کہ آدمی خاموشی اختیار کرلے۔

۴- کبھی کسی حدیث میں ایک بات حکم جیسے الفاظ میں آتی ہے۔ حالاں کہ اُس سے صرف زجر و توبیخ مقصود ہوتی ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ جو لوگ جماعت کی نماز ترک کرتے ہیں، میرا جی چاہتا ہے کہ میں اُن کے گھروں میں آگ لگا دوں ۔ یہ الفاظ ز جروتوبیخ کے لیے ہیں، اُن کو لفظی معنوں میں لینا درست نہیں۔

۵- احادیث کے مطالعہ کے دوران یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ بہت سے مسائل میں احادیث کے درمیان اختلاف ہے۔ مثلاً نماز کے طریقوں کے بارے میں ۔ ان اختلافی احادیث کی بنیاد پر کافی بحثیں جاری رہی ہیں۔ کوئی ایک روایت کو افضل قرار دیتا ہے اور دوسری کو غیر افضل ، کوئی ایک روایت کو راجح قرار دیتا ہے اور دوسری روایت کو مرجوح ۔ راقم الحروف کے نزدیک اس مسئلہ کا زیادہ بہتر حل وہ ہے جس کو ابن عبدالبر نے اپنی کتاب بیان فضائل العلم و أهله میں بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق، ان اختلافات کا فکری حل یہ ہے کہ اُن کو تنوع اور توسع پر محمول کیا جائے ۔ ایک اور دوسرے کے درمیان ترجیح تلاش کرنے کے بجائے دونوں ہی کو یکساں طور پر درست مان لیا یعنی یہ کرو تب بھی ٹھیک ہے اور وہ کرو تب بھی ٹھیک ۔ ان اختلافات کو تنوع کا مظہر قرار دینے کی صورت میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اختلاف بحث وگفتگو کا موضوع نہیں رہتا۔ اور ذہن زیادہ اہم مفاہیم پر مرتکز ہو جاتا ہے۔

۶- حدیث کے مطالعہ میں عام طور پر علماء کا طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ سند کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اُصولی طور پر یہ بات درست ہے مگر کسی بھی چیز میں غلو نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ میرے نزدیک زیادہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب کسی حدیث کی بنیاد پر کوئی حکم یا حجت قائم کرنا ہو تو اُس وقت سختی کے ساتھ سند کو اہمیت دینا چاہئے۔ لیکن جب کوئی ایسی حدیث سامنے آئے جو اپنے مفہوم کے اعتبار سے قرآن سے متعارض نہ ہو اور اْس سے نصیحت اور تذکیر حاصل ہوتی ہو تو ایسی حدیث کو قبول کرنے میں میرے نزدیک کوئی حرج نہیں۔

تاہم فضائل کی روایات کے بارے میں میرا نقطہ نظر کسی قدر مختلف ہے۔

روایتیں زیادہ تر یا تو ضعیف ہیں یا موضوع۔ ان روایتوں کی ایک مشترک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ظواہر اعمال کے فضائل پر ہوتی ہیں۔ مثلاً فضائل کی روایتوں میں فضائل تلاوت تو ملے گی مگر فضائل تدبر نہیں ملے گا۔ اسی طرح اُن میں فضائل عبادت تو ہوگا مگر فضائل خشوع نہیں ہوگا۔ اُن میں فضائل قربانی تو ہوگا مگر فضائل تقویٰ نہیں ہوگا۔ اس بنا پر فضائل کی روایتوں سے یہ ذہن بنتا ہے کہ ظواہر اعمال ہی کا نام عبادت ہے۔ حالاں کہ اصل عبادت وہ ہے جو داخلی اسپرٹ سے تعلق رکھتی ہے، جس کو قرآن میں خشوع، خضوع، اخبات ، تقویٰ، وغیرہ الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

۸ کوئی حدیث بظاہر ایک مخصوص معنی میں ہوتی ہے۔ اگر اس حدیث کو لفظی طور پر لیا جائے تو وہ ایک خاص حکم تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ حالانکہ پیغمبر اسلام کی نبوت جب عالمی ہے تو آپ کے کلام میں بھی عالمی پہلو ہونا چاہئے ۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ کسی حدیث کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کو وسیع تر سیاق (broader context) میں رکھ کر دیکھا جائے۔

مثال کے طور پر روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَابَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ (ہر پیدا ہونے والا فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں اور اس کو نصرانی بنا دیتے ہیں اور اس کو مجوسی بنا دیتے ہیں)۔

اس حدیث میں بظاہر تین مذہبی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ مگر وسیع تر پہلو سے دیکھا جائے تو یہ حدیث ایک نہایت اہم حقیقت کو بتاتی ہے ۔ وہ یہ کہ ہر آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک بچہ ہوتا ہے جس کے اندر خود صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ بچپن اور نو جوانی کی پوری عمر وہ اسی نا پختہ ذہن کے ساتھ کسی ماحول میں گزارتا ہے۔ یہ ماحول مسلسل طور پر اس کے ذہن کی کنڈیشننگ(conditioning) (conditioning) کرتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر ایک کنڈیشنڈ انسان بن جاتا ہے۔ ذہن کی کنڈیشننگ کایہ معاملہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے، کسی بھی مرد یا عورت کا اس میں کوئی

ایسی حالت میں ہر انسان کی یہ ایک لازمی ضرورت ہے کہ پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد وہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرے۔ وہ اپنے ذہن کے اوپر چڑھی ہوئی مصنوعی تہوں کو ہٹائے تاکہ وہ حقیقتوں کو اسی فطری ذہن کے ساتھ دیکھے اور سمجھے جو خالق حقیقی کی طرف سے اس کو پیدائشی طور پر دیا گیا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کا یہ عمل ہر ایک کو کرنا ہے۔ اس عمل کے بغیر کوئی بھی شخص صحیح الفکر (right thinker) نہیں بن سکتا۔

ڈی کنڈیشننگ کایہ عمل بے حد سنجیدہ عمل ہے۔ اس میں ہر مرد اور عورت کو خود اپنے ذہن کی سرجری کرنی پڑتی ہے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان خیالات کو نکالنا پڑتا ہے جو ماحول کے اثر سے اس کے اندر داخل ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نا پختہ عمر میں ہونے والی یہ کنڈیشننگ ہر آدمی کے ذہن کو افکار کا ایک جنگل بنا دیتی ہے۔ اس فکری جنگل کو صاف کرنے کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ صرف اس وقت ممکن ہوتی ہے جب کہ آدمی بے رحمانہ طور پر اپنے ذہن کا فکری آپریشن کرنے کے لیے تیار ہو۔

حدیثوں کے مطالعہ میں ایک مزاج یہ بن گیا ہے کہ ان سے بس جزئی مسائل اخذ کئے کلی مسائل پر ان کو چسپاں نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ اس قسم کا ذہن حدیث کی معنویت کو گھٹانے کے ہم معنی ہے۔ اس ذہن کا یہ نتیجہ ہوا کہ لوگوں نے جزئی مسائل میں تو حدیث سے رہنمائی حاصل کی مگر وہ زیادہ اہم مسائل میں حدیث سے رہنمائی حاصل نہ کر سکے۔

مثلا ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ (آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ایسے کام کو چھوڑ دے جس میں کوئی فائدہ نہیں)۔ حدیث سے عام طور پر صرف کچھ چھوٹے چھوٹے مسئلے نکالے جاتے ہیں۔ مثلا کسی دینی مجلس میں بیٹھ کر ایک آدمی کسی تنکے سے کھیلے تو کہا جائے گا کہ یہ ایک بے فائدہ کام ہے، اس کو نہ کرو۔ مگر اس قسم کی تشریح اصل حدیث کی تصغیر کے ہم معنی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث سے زندگی کے تمام معاملات کے لیے ایک نہایت اہم رہنمائی حاصل

اس حدیث سے یہ جامع اصول ملتا ہے کہ ہمارا اقدام ہمیشہ نتیجہ رخی (result oriented) کوئی ملی منصوبہ بنایا جائے تو سب سے پہلے یہ غور کیا جائے کہ یہ منصوبہ نتیجہ کے اعتبار سے مفید ہوگا یا نہیں۔ کسی سے شکایت ہو جائے اور اس کے خلاف لڑائی چھیڑنا ہو تو یہ اندازہ کیا جائے کہ لڑائی کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے گیا یا نہیں۔ کسی مقام پر کوئی سیاسی پروگرام بنایا جائے تو پیشگی طور پر اچھی طرح جائزہ لیا جائے کہ یہ پروگرام برعکس نتیجہ کا سبب تو نہیں بن جائے گا، وغیرہ۔

اس سے معلوم ہوا کہ کسی اقدام کا بے نتیجہ ثابت ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کی زد آدمی کے ایمان و اسلام تک جاتی ہے۔ سچا ایمان آدمی کے اندر گہری سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ سچا اسلام آدمی کو آخری حد تک محتاط بنا دیتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ ایمان و اسلام والا آدمی ایسا اقدام کرے جو نتیجہ کے اعتبار سے الٹا (counter productive) ثابت ہونے والا ہو۔ جیسا کہ معلوم ہے حدیث کی تدوین عباسی خلافت کے دور میں ہوئی۔ اسی زمانہ میں فقہ کی تدوین بھی ہو رہی تھی۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ حدیث کا مطالعہ فقہ کی روشنی میں کیا جانے لگا۔ سلسلہ کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ حدیث کے مطالعہ کا ایک معلوم فریم ورک بن گیا اور وہ فقہی فریم ورک تھا۔ مزید یہ کہ مختلف اسباب سے خود فقہ کا مطالعہ زیادہ تر جزئی مسائل یا جزئیات شریعت تک محدود ہو گیا۔

اس کا اثر حدیث کے مطالعہ پر بھی پڑا۔ اس کی مثالیں حدیث کی شرحوں میں دیکھی جاسکتی چنانچہ بعد کے زمانہ میں جتنی بھی شرحیں لکھی گئیں تقریباً ہر ایک میں شرح کا وہ انداز غالب آگیا جس میں صرف دو چیزیں شارح کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ حدیث کی فنی حیثیت پر بحث، یا اس کے فقہی پہلوؤں کی وضاحت جن کا تعلق زیادہ تر شریعت کے وقتی یا جزئی پہلوؤں سے تھا۔ حدیث کے اس رواجِ طرز مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ حدیث کی آفاقی معنویت گم ہوگئی۔ حدیث میں ابدی رہنمائی کا جو پہلو تھا وہ امت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر رہ گیا۔ اس معاملہ کی مثالیں بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں میں بھری ہوئی ہیں۔ یہاں میں اس کی وضاحت کے لیے ایک تازہ مثال درج کرتا ہوں۔

سویڈن شمالی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہاں کا موسم ہمیشہ غیر معتدل رہتا ہے۔ کبھی رات بہت چھوٹی اور دن بہت لمبا اور کبھی دن بہت چھوٹا اور رات بہت لمبی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دن اور رات میں بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ سویڈن میں کافی مسلمان آکرکے نماز آباد ہو گئے ہیں۔ ان کے سامنے یہ سوال ہے کہ یہاں کے علاقہ میں پانچ وقت کس نماز کی طرح پڑھی جائے۔ تقلیدی علماء کا اصرار ہے کہ یہاں بھی اسی طرح سورج کے اعتبار سے نماز ادا کی جائے گی جس طرح دنیا کے دوسرے علاقوں میں کی جاتی مگر سویڈن میں مقیم مسلمانوں کے لیے یہ بے حد دشوار گزار ہے، بلکہ تقریبا نا قابل عمل ہے۔ سویڈن کی راجدھانی اسٹاک ہام میں عربوں کے تعاون سے ایک بہت بڑا اسلامک سنٹر اور مسجد کی تعمیر کی گئی ہے۔ جون ۲۰۰۳ میں یہاں مسلمانوں کا ایک بڑا جلسہ ہوا۔ اس میں عرب کے ایک عالم ڈاکٹر یوسف القرضاوی مہمان خصوصی کے طور پر بلائے گئے۔

عرب عالم کے سامنے نماز کے اوقات کا مسئلہ پیش کیا گیا۔ انہوں نے اس کا حل یہ بتایا کہ آپ لوگ ایسا کریں کہ معتدل علاقوں کا اعتبار کرتے ہوئے گھڑی کے لحاظ سے نماز کے اوقات مقرر یعنی سورج کا اعتبار نہ کر کے گھڑی کا اعتبار کرنا۔ اپنے اس فتویٰ کی تائید میں انہوں نے ایک حدیث پیش کی۔

صحیح البخاری میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی آپ کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑ دیتے اور آسان انتخاب (easier option) کو لے لیتے (ماخیر رسول اللہ ﷺ بین امرین الا اختار ایسرھما)۔ انہوں نے کہا کہ سویڈن کے حالات میں سورج کا اعتبار کر کے اوقات مقرر کرنا مشکل ہے۔ اس کے برعکس گھڑی کا اعتبار کر کے اوقات کو مقرر کرنا آسان ہے اس لیے حدیث کے مطابق آپ کو یہ کرنا چاہئے کہ گھڑی کا اعتبار کر کے نماز کے اوقات مقرر کریں۔ اس اصول کو انہوں نے تیسیرالفتویٰ کانام دیا۔ یعنی فتویٰ میں آسانی کا طریقہ

عرب عالم کا یہ فتویٰ بلاشبہ درست ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی (اور دوسرے علماء) اس شرعی اصول کو فلسطین اور دوسرے مقامات پر ہونے والے متشددانہ جہاد پر منطبق نہ کر سکے۔ اس دوسرے معاملہ میں ان علماء نے تقریباً متفقہ طور پر یہ فتویٰ دیا کہ موجودہ مسلح جہاد عین اسلامی جہاد ہے۔ اور اس میں مرنے والے لوگ شہید کا درجہ پا رہے ہیں۔ حتی کہ خودکش بمباری (suicide bombing) کو بھی انہوں نے اسلامی جہاد بتایا، حالانکہ صحیح البخاری کی مذکورہ روایت کی روشنی میں تیسیر الفتویٰ کا جو اصول انہوں نے وضع کیا ہے اس کی روشنی میں اگر وہ ان جہادی سرگرمیوں کو دیکھتے تو ان کا فتویٰ بالکل مختلف ہوتا۔ اب وہ کہتے کہ ان مجاہدین کے لیے دو میں سے ایک کے انتخاب (choice) کا معاملہ ہے۔ یعنی پرامن طریقِ کار (peaceful method) اور متشددانہ طریقِ کار (violent method)۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ عمومی پالیسی کے مطابق موجودہ مسلمانوں کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ آسان طریقِ کار کو اختیار کریں۔ یعنی متشددانہ طریقِ کار کو چھوڑ دینا اور پرامن طریقِ کار پر کار بند ہو جانا۔ مگر روایتی فقہی فریم ورک کی بنا پر وہ ایسا نہ کر سکے۔ حدیث اور سنت میں موجودہ زمانہ کے لیے نہایت کامیاب رہنمائی موجود تھی۔ علماء کا ذہن روایتی فقہی فریم ورک میں اٹکارہا۔ اس کا یہ ناقابل تلافی نقصان ہوا کہ وہ حدیث کی آفاقی معنویت کو دریافت نہ کر سکے، وہ امت کو جدید حالات کے لحاظ سے صحیح شرعی رہنمائی دینے میں

مذکورہ محدود ذہنی نقشہ کی بنا پر ایسا ہوا کہ ان علماء نے نماز کے طریقہ کو متعین کرنے کے بارے میں تیسیر الفتویٰ کے اصول کو اختیار کیا، مگر جہاد کے طریقہ کو متعین کرنے کے بارہ میں، برعکس طور پر، تعسیر الفتویٰ کا اصول۔ اس فرق کے نتیجہ میں امت مسلمہ کو موجودہ زمانہ میں جو نقصانات پہنچے وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔

Printed page