Boss is always right
Al-Risala, May 2004, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اس کے ساتھ آپ نے اپنے بارہ میں کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی سمجھوتہ فہمیں میں نے ہمیشہ غیر مصالحتی انداز (uncompromising attitude) اختیار کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ دو عملی نہیں۔ آپ خود تو سمجھوتہ نہیں کرتے مگر دوسروں کو سمجھوتہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس آیت کا مصداق نہیں کہ لِمَ تقولون مالا تفعلون ۔ (امام بٹ، نئی دہلی)
آپ کا یہ سوال ایک غلط فہمی پرمبنی ہے۔ اور اس غلط نہی کا سبب یہ ہے کہ آپ تمیز (differentiation) کے اصول کو سمجھ نہ سکے۔ یعنی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا۔ تمیز و تفریق معاملہ فہمی کی شرط لازم ہے۔
اصل یہ ہے کہ قرآن کی مذکورہ آیت منافقانہ پالیسی کے بارے میں ہے۔ مثلاً ایک آدمی جہاد کی باتیں کرکے دوسروں کو لڑنے پر اکسائے مگر وہ اپنے آپ کو لڑائی سے دور رکھے۔ اس روش کا نام دو
عملی (duplicity) کی پالیسی ہے۔ مگر جو بات میں نے کہی اس کا تعلق انسانی خیرخواہی سے ہے۔ یہی طریقہ اسلام کی روح کے مطابق ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی عام پالیسی یہ تھی کہ آپ خود تو ہمیشہ عزیمت کا طریقہ اختیار فرماتے تھے مگر دوسروں کو یسر (آسانی) کے طریقہ کی تلقین کرتے تھے۔ آپ رمضان کے مہینہ کے علاوہ کثرت سے روزے رکھتے تھے مگر دوسروں کو آپ نے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ تم اس کا تحمل نہیں کر سکتے۔ خود عزیمت پر قائم ہونا اور دوسروں کو رخصت کا مشورہ دینا منافقت نہیں ہے بلکہ یہ خیرخواہی ہے۔ اور یہی تمام صالحین کا طریقہ رہا ہے۔