Al-Risala · May 2004

سوال و جواب

Al-Risala, May 2004, pp. 19–32

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آپ کا الرسالہ ۲۵ سال کی عمر سے پڑھتا رہا ہوں۔ اندر ہی اندر آپ کا عقیدت مند آپ کا مطالعہ کرتا ہوں تو ذہنی تشنگی دور ہوتی ہے۔ مجھے اپنی زندگی کے شب و روز کی تکالیف اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت ملتی ہے، ایک سکون ملتا ہے۔ اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہنے کی تگ و دو ملتی ہے۔ براہ کرم مجھے اپنے مزید مشوروں سے نوازیں (شبیر بیگ، کرناٹک) یاد رکھیے کہ زندگی ایک آرٹ ہے۔ زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی کانٹوں سے بچتے ہوئے پھولوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ کانٹوں سے اُلجھنے والا آدمی خود اپنا نقصان کرتا ہے۔ کو اپنی اس روش کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ وہ پھول کو پانے سے محروم رہ جائے۔ گذشتہ چند ماہ سے ہم اپنے حلقہ احباب میں آپ کی تصنیف تذکیر القرآن کا اجتماعی مطالعہ کر الحمد للہ اُس کے بڑے اچھے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ چند حضرات جو تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں وہ ہمارے اس عمل کی شدت سے مخالفت کر رہے ہیں۔ بلکہ ہمیں مطالعہ قرآن سے روکنے کے لیے وہ غیر اخلاقی حرکتیں بھی کر رہے ہیں۔ ان حضرات کا اصرار ہے کہ صرف اور صرف ”فضائل اعمال“ کا ہی اجتماعی مطالعہ ہونا چاہیے۔ یہی کتاب فی زمانہ ہدایت کا بہترین ذریعہ ہے۔

قرآن تو یہ بہت بلند کتاب ہے اور یہ عام مسلمان کے لیے نہیں ہے۔ اسے وہ علماء ہی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں جو کئی علوم سے واقف ہوں۔ براہ کرم اس الجھن کو دور فرمائیں۔ پچھلے سو برس کے اندر مسلمانوں میں دو چیزیں بہت مقبول ہوئی ہیں۔ ایک، اقبال کا شاعرانہ اور دوسرے، تبلیغی جماعت کی فضائل اعمال۔ دونوں بظاہر مختلف ہیں۔ مگر اُن کی مقبولیت کا سبب اور وہ یہ کہ زوال یافتہ قوم کو اس قسم کی چیزیں بہت اپیل کرتی ہیں۔ زوال یافتہ قوم کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ حقیقی عمل کے بجائے خیالی پروازوں کو پسند کرنے لگتی ہے۔ مثلاً اقبال کے کلام میں مسلمان یہ پڑھ کر جھوم اُٹھتے ہیں کہ:

پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے اسی طرح مسلمان جب فضائل کی کہانیوں میں پڑھتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے ظاہری اعمال پر جنت الفردوس مل رہی ہے تو اپنے زوال یافتہ مزاج کی بنا پر وہ تیزی سے اُس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ یہ سب دن کیے پر کریڈٹ لینا ہے اور زوال یافتہ قوموں کی یہی خاص نفسیات ہوتی ہے، اس میں کوئی

ایک حافظ صاحب میرے شہر میں یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ مولانا وحید الدین خان ہر ایک جماعت سے نکالے جا چکے ہیں۔ مثلاً جماعت اسلامی کو چھوڑ کر وہ پیام انسانیت لکھنؤ گئے، اس کو چھوڑ کر تبلیغی جماعت میں گئے، تبلیغی جماعت کو چھوڑ کر جمعیۃ العلماء ہند میں گئے اور پھر اس کو چھوڑ کر الرسالہ پر قبضہ کر لیا۔ جب کہ حدیث میں ہے کہ گلے سے نکلی ہوئی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت کریں کہ آپ کیوں ایک جگہ سے دوسری جگہ گئے۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر، بہار)

آپ نے جو سوال تحریر فرمایا ہے، سب سے پہلے یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ یہ سوال درست یعنی یہ کہ مجھ کو فلاں جماعت یا ادارہ سے نکالا گیا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ آپ ان تمام جماعت یا اداروں کو خط لکھیں اور اُن سے پوچھیں کہ کیا واقعتا مجھ کو ان جماعتوں یا اداروں سے نکالا گیا اس سلسلہ میں ان جماعت کے ذمہ داروں کا تحریری جواب حاصل کر کے بھیجیں، اس کے بعد میں آپ کے سوال کی وضاحت کروں گا۔ ابھی تو خود یہ سوال غیر ثابت شدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے کبھی کسی جماعت سے نکالا نہیں گیا۔

میرا کہنا یہ ہے کہ یہ ایک جھوٹی بات ہے کہ مجھے کسی جماعت سے نکالا گیا۔ آپ یا مذکورہ حافظ اس سلسلہ میں متعلقہ جماعتوں کا تحریری جواب حاصل کریں تو اُس کے بعد میں ضرور اس کی وضاحت مذکورہ حافظ صاحب اس معاملہ میں پارٹی نہیں ہیں۔ اس معاملہ میں پارٹی یا تو میں ہوں یا مذکورہ جماعتیں ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے ، میرا کہنا یہ ہے کہ نکالے جانے کا افسانہ ایک جھوٹا افسانہ اب دوسری بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں مذکورہ پارٹیوں کا تحریری بیان آپ کے پاس یا حافظ صاحب کے پاس ہو۔ ایسے بیان کی غیر موجودگی میں میرے خلاف مذکورہ پروپیگنڈہ ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے جس کی کوئی اصل حقیقت موجود نہیں۔

ایک مفتی صاحب سے میں نے بینک کے سود کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ سود نہیں ہے کیوں کہ ہم بینک والوں سے مطالبہ نہیں کرتے ہیں کہ آپ ہمارے روپے پر اتنا منافع دو۔ مرضی پر نہیں بلکہ اپنی مرضی اور قانون کے حساب سے منافع دیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ حکومت اسلامی نہیں۔ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں سود کی حلت وحرمت کے بارے میں ہمیں آگاہ کریں۔ آپ کے مذکورہ سوال کا جواب علماء اسلام بار بار دے چکے ہیں۔ اب آپ کے لئے یہ کوئی صحیح

شکل نہیں ہے کہ اس سوال کو دوسرے علماء سے آپ بار بار پوچھیں ۔ اس قسم کے سوال وجواب سے حدیث میں سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے ۔

اب آپ کے لئے دو میں سے ایک صورت ہے۔ یا تو آپ علماء کی طرف سے دیئے ہوئے جوابات کو لے کر ان پر عمل کریں اور اگر آپ ان پر مطمئن نہیں ہیں تو آپ کے لئے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھ کر خود اپنے دل سے پوچھیں کہ کون سی روش میرے لئے درست ہو سکتی ہے اور جو مجھے خدا کی پکڑ سے بچانے والی ہے۔ اس طرح کے احساس کے ساتھ خدا کو حاضر و ناظر سمجھتے ہوئے جو جواب آپ کو سمجھ میں آئے اس پر عمل فرمائیں اور اس کے بعد پھر کسی سے نہ پوچھیں۔ صرف خدا سے یہ دعا کرتے رہیں کہ وہ آخرت میں آپ کو اپنی غلطی کے لئے معاف کرے۔

میں الرسالہ کا ایک مستقل قاری ہوں۔ الرسالہ مشن کے علاوہ تصوف، یعنی اسلامی تصوف سے متعلق کتب کا مطالعہ بھی جاری ہے۔ آپ نے مئی ۲۰۰۳ کے رسالے میں صفحہ ۵ پر تصوف کو یوگا سے مشابہت دی ہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ مہربانی کر کے وضاحت فرمادیں۔ واضح رہے کہ میں آپ کو ایک بڑا اچھا صوفی سمجھتا ہوں۔ الجھن دور فرمادیں ( جاوید حسین وانی، اننت ناگ ، کشمیر) میں ایک پیدائشی صوفی ہوں۔ مگر میرا صوفی ازم مروجہ تصوف سے الگ ہے۔ میں قرآن کے الفاظ میں الربانیہ پر یقین رکھتا ہوں۔ یعنی آدمی کے فکر اور جذبات کا رخ مکمل طور پر خدا کی طرف ہو خدا کے ساتھ حب شدید اور خوف شدید کا تعلق پیدا ہو جانا۔ خدا کے ساتھ روحانی طور پر کامل وابستگی ہو حدیث کے الفاظ میں تعبد اللہ کانک تراہ کے درجہ کو پالینا۔

جہاں تک رواجى تصوف کا تعلق ہے وہ قرآن کے الفاظ میں، مضاہات ہے۔ حقیقی تصوف داخلی اسپرٹ پر قائم ہوتا ہے۔ جب کہ رواجى تصوف سارا کا سارا ظاہری فارم پر مبنی ہے۔ اس میں خارجی

عضو یاتی مشقوں کو داخلی روحانی ارتقاء کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ میرے نزدیک بالکل بے بنیاد ہے۔ میرے نزدیک متصوفانہ اعمال و اشغال کا حقیقی روحانی ارتقاء سے کوئی تعلق نہیں۔ میری ازدواجی زندگی میں شریک حیات کے درمیان خلیج پیدا ہوگئی۔ اس سلسلہ میں میرے دماغ میں مختلف سوالات گونج رہے ہیں۔ میری شریک حیات صحت خراب ہونے کی وجہ سے میری اجازت کے بغیر اپنے گھر چلی گئی۔ ایک دن بعد پتہ چلا کہ خدا نے ہمیں اولاد عطا کیا ہے۔ چار ماہ بعد اس نے مجھ کو یہ جواب دیا کہ میں الگ سکونت اختیار کرلوں گی کیونکہ آپ کے گھر والوں سے میری بنتی وہ الگ سکونت اختیار کرنے کی ضد پر قائم ہے جب کہ میری رائے اس سے مختلف ہے۔ سلسلہ میں مجھے کیا کرنا چاہئے (ایک قاری الرسالہ، کشمیر)

جو مسئلہ آپ نے تحریر فرمایا ہے وہ تقریبا ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ باتیں

ساس اور بہو کا جھگڑا کبھی دو طرفہ بنیاد پر حل نہیں ہوتا وہ ہمیشہ یک طرفہ بنیاد پر حل ہوتا یعنی یا تو ساس یک طرفہ طور پر سمجھوتہ کرے یا بہو یک طرفہ طور پر سمجھوتہ کرے۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ بہو کو اس کے نادان ماں باپ یک طرفہ سمجھوتہ کرنے نہیں دیتے۔ اسی طرح ساس کو اس کا نادان بیٹا یک طرفہ سمجھوتہ پر راضی نہیں کر پاتا۔ اس بنا پر وہ مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا۔ اس مسئلہ کا پائیدار حل صرف یہ ہے کہ آدمی اس وقت شادی کرے جب کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ الگ مکان میں رہنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ جب تک یہ استطاعت نہ ہو وہ انتظار کرے۔ موجودہ حالات میں میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنی بیوی کو اس کے میکے میں رہنے دیں۔ آپ خود وہاں کبھی کبھی جائیں مگر بیوی کو اپنے گھر لانے کی کوشش نہ کریں۔ فی الحال آپ یہی کریں اور مزید کے لیے مستقبل کا انتظار کریں۔

میرے دو بچے ہیں، دوسرا بچہ بڑا ضدی ہے۔ بار بار اس کا حیران و پریشان کرنا میرے لیے ایک مسئلہ ہے۔ میں اس مسئلہ سے کیسے نجات پاؤں۔ (ابرار احمد رفعت، سورت) آپ نے لکھا ہے کہ آپ کا دوسرا بچہ بڑا ضدی ہے۔ اُس کا حیران و پریشان کرنا آپ کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق ، اکثر باپ اس مسئلہ سے دوچار رہتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ حقیقتاً لا ڈ پیار کی قیمت ہے جس کو والدین عام طور پر ضد کا نام دے دیتے ہیں۔ طرح وہ نہ اس مسئلہ کی جڑ کو سمجھتے ہیں اور نہ اُس کو حل کر پاتے ہیں۔ میرے نزدیک لاڈ پیار (pampering) سب سے بُرا تحفہ ہے جو اکثر ماں باپ اپنے بچوں کو دیا کرتے ہیں۔ بطور خود وہ اس کو محبت سمجھتے ہیں حالاں کہ نتیجہ کے اعتبار سے وہ ایک دشمنی ہے۔ کہ ایسی روش بچہ کو ہمیشہ کے لیے غیر حقیقت پسند بنا دیتی ہے۔

ایک روز آکاش وانی پٹنہ در بھنگہ (پٹنہ ریڈیو) سن رہا تھا۔ اس میں ایک مقرر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ۱۶۰ گھر پڑوسی میں آتے ہیں۔ یعنی ۴۰ گھر دائیں، ۴۰ گھر بائیں، ۴۰ گھر پیچھے، ۴۰ گھر آگے ۔ ایک آدمی کے چاروں طرف ۴۰ - ۴۰ گھر پڑوسی کا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا آدمی اس حدیث پر کس طرح عمل کرے گا جب کہ ۲۴ گھنٹہ کے اندر بھی ۱۶۰ لوگوں کے گھر جا کر ملاقات کرنا ممکن نہیں ہے اور اس آدمی کو ڈیوٹی بھی کرنا پڑے گا، اپنے بچوں میں کچھ وقت دینا ہوگا اور انہی اوقات میں وہ نماز بھی پڑھے گا۔ تو کس طرح ممکن ہے کہ حدیث پر عمل بھی کیا جائے اور انسان ہر کام بھی کر لے۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر، بہار)

۱۶۰ والا قول جو آپ نے نقل کیا ہے یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔ یہ ایک من گڑھت بات ہے۔

پہلے زمانہ میں کچھ لوگ ہوتے تھے جن کو قصہ گو یا قصاص (Storytellers) کہا جاتا تھا۔ اس قسم کے لوگ ہر زبان میں ہوتے تھے اور اسی طرح عربی زبان میں بھی عرب قصاص کی باتوں کو لوگوں نے کتابوں میں جمع کر لیا اور اس کو حدیث سمجھ کر دہرانے لگے۔ موجودہ زمانہ میں بعض جماعتیں اسی قسم کی بے بنیاد قصہ کہانیوں پر کھڑی ہوئی ہیں۔ عوام چونکہ طلسماتی کہانیوں سے دلچسپی لیتے ہیں اس لئے ان جماعتوں کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ عوام کی یہ بھیڑ ان کے لئے بظاہر ایک سند اس قسم کی کہانیاں جو لاکھوں کی تعداد میں عوام کے درمیان پھیلی ہوئی ہیں وہ سب باطل ہیں۔ وہ دین حق پر پردہ ڈالنے کے ہم معنی ہیں۔ پڑوسی کا حق بلاشبہ نہایت اہم ہے۔ اسلام میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ مگر پڑوسی کے حق کا تعین گنتی اور میٹر سے ناپ کر طے نہیں کیا جائے گا۔ پڑوسی کے حق کا مطلب صرف یہ ہے کہ جو پڑوسی تمہارے رابطہ (contact) میں آئے، خواہ وہ مقامی ہو یا غیر مقامی ، اس کا حق ادا کرو۔ یا کم از کم یہ کرو کہ اس کے لئے حدیث کی زبان میں کوئی بافقہ (شر) پیدا نہ کرو۔

یاد رکھیے، وہی بات اسلام کی بات ہے جو قرآن سے ثابت ہو یا اصول حدیث کے مطابق صحیح روایات سے ثابت ہو۔ ان دو کے سوا کوئی بھی تیسرا مستند ذریعہ نہیں۔ مثلاً مفروضہ اکابر کے اقوال، فضائل کی کہانیاں، خواب اور مکاشفہ، کراماتی داستانیں، یہ سب بے اصل ہیں۔ ان چیزوں میں مشغول ہونا ایک گناہ ہے، نہ کہ کوئی ثواب کا کام۔

میرے ایک ہم پیشہ کا قول ہے ”نومسلم سید کی برابری کب کر سکتا ہے۔ یہ صاحب خود سید ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس جملے میں توہین رسالت شامل ہے۔ کیونکہ رسول اللہ کے والدین مسلمان نہ تھے۔ کے خیال میں کیا سیدی کا یہ انداز عام لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ بہت سے سوالات کا سادہ جواب یہ ہوتا ہے کہ اُن کو سوال ہی نہ بنایا جائے۔ ہر سوال کا جواب

کا جواب پالے۔

گذشته ۳۱ اگست ۲۰۰۳ کو ہمارے در بھنگه پارلیمانی حلقه کے نمائنده جناب کیرتی جھا آزاد صاحب (معززایم پی، بی جے پی) علاقه کے دوره پر تھے۔ وه اس موقع پر ہماری بستی اسراہامین بھی تشریف لائے۔ یہاں پر ابوالکلام آزاد لائبریری کے احاطے میں ان کا استقبال کیا گیا۔ موقع کو غنیمت جان کر میں نے ہندی قرآن مجید اور آپ کی کچھ ہندی کتابوں کے ساتھ الرساله ہندی کے کچھ شمارے بھی اس درخواست کے ساتھ دیئے که وه ان کتابوں کا فرصت کے لمحات میں مطالعه انہوں نے مطالعه کرنے کا وعده کیا۔ ہمارے اس اقدام پر علاقه کے کچھ لوگوں نے اس طرح کے اعتراضات کئے که بی جے پی کے آدمی کو جو غیر مسلم بھی ہے، قرآن مجید دینا ٹھیک نہیں... اس موقع پر دوسرا اور کچھ کیا جاتا مگر قرآن مجید نه دیا جاتا وغیره۔ براہ کرم آپ اس کا جواب دیں۔ (نثار اختر، در بھنگه، بہار)

کسی غیر مسلم کو قرآن کا ترجمه دینا بالکل درست ہے اور وہ عین ثواب کا کام ہے۔ سے لے کر اب تک بے شمار غیر مسلموں نے قرآن کو پڑھا اور اس سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔ موجوده زمانه میں سعودی حکومت لاکھوں کی تعداد میں قرآن چھاپ کر دنیا کے غیر مسلموں میں مفت تقسیم کرتی ہے۔ قرآن کو غیر مسلموں تک پہنچانا بلاشبه دعوت کا کام ہے۔ اس میں اعتراض کی کوئی بھی

اپریل ۲۰۰۳ کے الرساله کے شماره میں ایک سوال کے جواب میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمه اس طرح دیا ہوا ہے:

" اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کا نتیجہ ہوتی " اسی جواب میں ایک حدیث کے ذریعہ سے یہ نقل کیا گیا ہے:

" یعنی اے علی! جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے خواہ وہ بیماری ہو یا عقوبت ہو یا کوئی دنیوی مصیبت ہو تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے (صفحہ ۲۲)

حضرت عمر فاروق پر نماز پڑھتے وقت خنجر کے وار اور اس سے ان کا قتل۔ حضرت عثمان غنی کی محمد بن ابی بکر نے داڑھی پکڑ کر بے عزتی کی۔ قرآن پڑھتے وقت ان پر قاتلانہ حملہ کیا۔ قتل کرنے کے بعد انہیں ٹھوکریں ماریں۔ تین دن تک ان کی لاش بے گور و کفن

جنگ جمل میں حضرت عائشہ اور حضرت علی کا جنگ کے لئے ایک دوسرے کے سامنے آنا۔ حضرت علی پر مسجد میں نماز کے لئے آتے وقت قاتلانہ حملہ اور ان کی شہادت۔ حضرت امام حسن کو ان کی بیوی جعدہ بنت الاشعث کا زہر دے کر مارنا۔

حضرت امام حسین کا کربلا میں قتل کیا جانا اور ان کا سر جسم سے الگ کرنا۔ یہ سب لوگ پیغمبر کے خاص عزیز اور صحابی تھے۔ ان سے کوئی غلطی کیسے ہو سکتی ہے۔ لیکن ان پر جو مصیبت آئی وہ ان کے کون سے کاموں کا نتیجہ تھا۔ براہ کرم اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (امین الدین، دھول پور، راجستھان)

اس معاملہ میں یا اور کسی معاملہ میں اصل مسئلہ جواب کا نہیں ہے بلکہ سائل کے مزاج کا ہے۔ آپ کا سوال صحیح مزاج کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ایک واضح آیت سامنے آنے کے بعد صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو بلا شرط مان لیا جائے اور اسی رخ پر سوچنا شروع کیا جائے جو رخ آیت میں دیا گیا ہے۔ کا یہ حال ہو کہ آیت سامنے آنے کے بعد بھی وہ اپنے مزاجی سانچہ کو اس کے مطابق نہ بنائے تو کوئی بھی جواب اس کو مطمئن کرنے والا نہیں۔

دوسری بات یہ کہ ایک معاملہ کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ جو بات کہی گئی ہے وہ کس پہلو سے کہی گئی ہے۔ مثلاً مذکورہ آیت میں اگر یہ ہے کہ ہر مصیبت کا سبب خود اپنی کوتاہی ہوتی ہے تو دوسرے مقام پر اسی قرآن میں کہا گیا ہے کہ کئی بار کوئی تکلیف آزمائش (ابتلا) کی بنا پر پیش اسی طرح قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ موت ہر انسان کے لئے مقدر ہے۔ البتہ کسی کی موت ایک صورت سے پیش آتی ہے اور کسی کی دوسری صورت سے۔

الرسالہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ اصلا اس مزاج کی تردید کے لئے ہے کہ اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار کسی مفروضہ دشمن کو قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کیا جائے۔ صحیح قرآنی مزاج یہ ہے کہ ہر مصیبت کے موقع پر احتساب خویش کا ذہن ابھرنا چاہئے، نہ کہ احتساب غیر کا ذہن۔

۱۵ دن قبل آنجناب کا ایک پروگرام ٹیلی ویژن پر نشر ہورہا تھا جسے اخیر کے چند لمحے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ اس نشریے میں آنجناب حجر اسود سے متعلق معلومات فراہم کر رہے تھے کہ ”حجر اسود جنت سے آیا ہوا پتھر نہیں ہے، نہ ہی یہ کسی زمانے میں سفید رہا ہے بلکہ یہ محض قصہ آرائی ہے جو دیگر کہانیوں کی طرح زمانہ قدیم سے رواج پاگئی ہے اور نسل در نسل منتقل ہورہی ہے۔ جب کہ معروف حدیث میں بالکل واضح ہے کہ حجر اسود جنت سے اترا تھا۔ اس وقت وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا۔ اس طرح آنجناب کے بیان کی تردید ہوتی ہے۔ براہ کرم اس کی وضاحت فرما کر شک وشبہات کو دور کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں۔ (مزمل حسن، در بھنگہ، بہار) حجر اسود کے بارہ میں جو روایتیں آپ نے نقل کی ہیں وہ سب ضعیف ہیں۔ اُن میں سے کوئی بھی قوی اور ثابت شدہ نہیں۔ آپ اس کی تفصیل ابن حجر کی کتاب فتح الباری میں دیکھ سکتے ہیں۔ ہو کتاب الحج، باب ما ذكر فى الحجر الاسود، جلد ۳، صفحه ۵۲۰-۵۲۱۔

حدیث میں آیا ہے کہ ختم نبوت کے بعد اللہ ہر صدی کے سرے پر ایک مجدد بھیجتا رہے۔ کتابوں میں بھی اب تک کے مجدد کی فہرست دیکھی جاسکتی ہے۔ ان تمام ناموں کے گرد لوگ الگ الگ گروہ بنائے بیٹھے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس طرح موسی علیہ السلام کے بعد عیسی علیہ السلام کی پیروی لازمی قرار پائی اور ان کے بعد نبی آخر الزماں حضور پاک کی پیروی لازم قرار پائی۔ اسی طرح تمام مسلمانوں پر ان کے صدی کے مجدد کی رہنمائی لازم ہوگی یا پہلے کے کسی مجدد کی باتوں سے رہنمائی لینی ایسا دیکھا جاتا ہے کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی جو گروہ جس سے عقیدت رکھتا ہے وہ اسی کی بات آخری سند کے طور پر مانتا ہے جب کہ حالات کی تبدیلی پرانی باتوں کو غیر متعلق بنا دیتی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ہر صدی کے سرے پر تمام ملکوں میں الگ الگ مجدد ہوں گے یا تمام دنیائے اسلام کے لئے ایک ہی مجدد ہوں گے۔ (وسیم اختر، کشن گنج)

مجدد ایک خدمت ہے، وہ کوئی عہدہ نہیں۔ نیز یہ کہ مجدد نبوت سے بالکل مختلف چیز ہے۔ اپنے کام کا آغاز دعوئی سے کرتا ہے۔ مگر مجدد کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ دعوئی سے اپنے کام کا آغاز کرے حتیٰ کہ دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہ درست نہیں کہ وہ کسی متعین شخص کے بارہ میں یہ یقین کر لیں کہ وہ متعلقہ حدیث کے مطابق خدا کی طرف سے مبعوث ایک مجدد ہے۔ مجدد کے اس تصور کے مطابق، گروہ بندی اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ گروہ بندی کسی شخصیت کو یقینی معنوں میں مجدد کا درجہ دینے سے بنتی ہے۔ اور جب کوئی شخص یقینی طور پر مجدد ہی نہ ہو تو اُس کے نام پر جماعت کیسے بنے گی۔ اس معاملہ کا ایک واقعاتی ثبوت یہ ہے کہ بعد کے علماء متفقہ طور پر، عمر بن عبدالعزیز کو اسلام کی تاریخ کا پہلا مجدد مانتے ہیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، خود عمر بن عبدالعزیز نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں مجدد ہوں اور نہ عمر بن عبدالعزیز کے ہم عصر علماء نے یہ اعلان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز اس صدی کے مجدد تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ تجدید دین ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ یہ اصلا ایک مجتہد کا کام ہے، نہ کہ کسی

صحیح البخاری کی روایت کے مطابق، اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔ اس لیے اگر کوئی شخص تجدیدی کام کرے تو اُس کے کام بیس صواب اور خطا دونوں کا احتمال رہے گا۔ یہ فیصلہ صرف خدا کرے گا کہ کوئی شخص سچا مجدد تھا یا نہیں ۔ ایسی حالت میں دعویٰ اور اعلان دونوں بے معنی ہو جاتے ہیں۔ میں الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ لیکن میں مسلم ملت کے مسائل سے متعلق آپ کے خیالات سے متفق نہیں ہوں۔ ہندوستان میں ہندو۔ مسلم کے ساتھ الگ الگ سلوک کو میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہوں۔ لیکن افسوس کہ آپ ہمیشہ مسلم قوم کو ہری ہری دکھاتے رہے ہیں۔ آپ سمجھاتے کچھ ہیں اور مسلم قوم کو سمجھتے کچھ ہیں۔ غیر ارادی طور پر آپ الرسالہ میں مسلم قوم کو جو مسائل در پیش ہیں ان کا اعتراف بھی کرتے رہے ہیں۔ آخر جو حقیقت ہوتی ہے وہ ظاہر ہو ہی جاتی ہے چاہے جتنا اس پر کوئی پردہ ڈالنے کی کوشش کرے۔

اس کی تازہ مثال مارچ ۲۰۰۳ کا الرسالہ ہے۔ اس شمارہ کے صفحہ ۳۰ پر آپ نے انگریزی ماہنامہ مسلم انڈیا کے آخری ایڈیٹوریل کے ایک جملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے اس سے ان تمام لکھنے اور بولنے والوں کی تصدیق ہوتی ہے جو کہ آپ کے الفاظ میں منفی ذہن اور احتجاجی مزاج رکھتے میں مسلم انڈیا کے جملے اور اس پر آپ کے تبصرہ کو یہاں نقل کرتا ہوں۔ “The Muslim India, thus became the record of the community's struggle for dignity, equality and justice, shirking fanaticism and engaging chauvinism, at the same time”. (P. 530)

" ان مطبوعہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم انڈیا کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو عظمت اور مساوات اور انصاف ملے۔ اسی کے ساتھ وہ ہند و کلچر واد کے خطرے سے بچ سکیں۔ کہ ہر آدمی جانتا ہے، یہ مقاصد کسی بھی درجہ میں پورے نہیں ہوئے۔ اس اعتبار سے میں سال پہلے مسلمانوں کی جو حالت تھی وہی آج بھی برقرار ہے۔ ایسی حالت میں مسلم انڈیا

کے بانی اور ایڈیٹر کو یہ اعلان کرنا چاہئے تھا کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لئے اب ہم اس میدان سے ہٹ رہے ہیں۔ اس کے برعکس انہوں نے یہ دعویٰ کر دیا کہ ہمارا مقصد پورا ہو چکا ہے اس لئے اب ہم اپنا آخری ایڈیٹوریل لکھ رہے ہیں۔ آپ کے مذکورہ تبصرہ میں صاف طور پر مسلمانوں کی اصل حیثیت یعنی ان کو ہندوستان میں عظمت، مساوات اور انصاف کے نہ ملنے کا اعتراف ہے۔ ساتھ ہی وہ ہند و کٹر واد کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کو گزشتہ برسوں سے ان حالات کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو آپ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو اس ملک میں کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں اور ان کو اس ملک میں پورا پورا انصاف مل رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس ملک میں ان کو پورے مواقع ملے ہوئے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آپ کی کون سی بات حقیقت پر مبنی ہے۔ آپ کے اس مذکورہ تبصرہ کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ دوسروں کی طرح آپ بھی منافقانہ روش پر چل رہے ہیں جس کا الزام آپ دوسروں کو دیتے رہے ہیں۔ یعنی یہ کہ جو آپ کے دل میں ہے اس کو آپ چھپا رہے ہیں اور جو کہتے اور عوام کے سامنے لاتے ہیں وہ آپ کے اندر کی بات آپ سے گذارش ہے کہ آپ اس خط کا مفصل اور تسلی بخش جواب دیں اور گستاخی معاف (مشتاق احمد ندوی، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی)

میرے اندازہ کے مطابق، آپ نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ الرسالہ کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، ورنہ آپ ایسا نہ لکھتے۔ میں مسئلہ کے وجود کا منکر نہیں ہوں۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ مسئلہ کو حل کرنے کے لیے شکایت اور احتجاج کا طریقہ غیر مفید ہے اور تجربہ سے عملاً غیر مفید ثابت ہوا ہے۔ الرسالہ کی جادو بیانی کا تجربہ میں نے اخلاقی تعلیم کے دور میں کیا۔ الرسالہ کا سحر طلبہ وطالبات کو بے قابو کر دیتا تھا۔ ان میں فکر و کردار کی بلندی اور قوم وملت کے لئے کچھ کر گزرنے کا جوش مجھے حیران کر دیتا تھا۔ ان کی یہ حساسیت مجھے گہرے مطالعہ، بلند کردار اور وقف ہونے کے جذبے کو پروان

چڑھاتی تھیں ۔ استاد محترم میری عمر تیس سال B.ED, B.A. (HINDI) کرنے کے بعد ہائی اسکول میں معلم کے فرائض انجام دے رہا ہوں ۔ معلمی کے ساتھ ہی میں نے ایکسٹرنل طالب علم کی حیثیت سے اردو ادب میں B.A ، اردو اور ہندی ادب میں .M.A کیا اور اس وقت پالیٹکس میں M.A جاری ہے۔ چھوٹا بھائی عمران بھی الرسالہ کا مستقل قاری اور آپ کا گرویدہ ہے۔ الرسالہ مشن کو مقامی سطح پر اخبار کے ذریعے عام کرنے کے لئے آپ کی اجازت کا خواہشمند ہوں۔ درخواست ہے کہ براہ کرم ہماری رہنمائی اور سرپرستی فرمائیں ۔ (ناصر مبینی نندربار، مہاراشٹر ) کام بقد رِشوق بنیں۔ کیا جاتا بلکہ بقدرامکان کیا جاتا ہے۔ آپ کے موجودہ حالات کے لحاظ سے بروقت جو کچھ آپ کے لیے ممکن ہو وہاں سے اپنے کام کا آغاز کر دیجئے۔ بقیہ چیزیں دھیرے دھیرے اپنے آپ ہوتی چلی جائیں گی۔

مولانا صاحب میرے حق میں اللہ پاک سے خاص طور پر دعا کیجئے ۔ اللہ پاک نے لوگوں سے بہت بڑے بڑے کام لیے ہیں جن میں آپ کا بھی شمار ہے۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں اور اب بھی کر رہا ہوں کہ میرے لئے خاص طور سے دعا کیجئے ۔

دعا کی جاتی ہے، دعا کروائی نہیں جاتی۔ دوسری بات یہ کہ آپ حقیقت پسند نہیں ۔ مطابق جینا سیکھیں ۔ یہ زندگی کا کوئی صحیح طریقہ نہیں کہ آدمی ایسا کام کرنا چاہے جو اس کے حالات کے اعتبار سے ممکن نہ ہو۔ اپنے ممکن سے آغاز کیجئے ۔ اپنے ناممکن سے آغاز کرنے کا خیال چھوڑ دیجئے ۔

Printed page