Always do your best, and ensure success.
Al-Risala, May 2004, pp. 36–42
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۰| انا ڈوٹی وی کی ٹیم نے ۱۹ ستمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع عالمی امن تھا جو ہر سال ۲۱ ستمبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ جوابات کے تحت بتایا گیا کہ امن انسان کی لازمی ضرورت ہے۔ مگر امن کا دن منا کر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شعوری اور تعلیمی جدوجہد کے ذریعہ لوگوں کے ذہن کی تربیت کی جائے۔ ذہنی اعتبار سے امن پسند بنایا جائے۔
۱۱| بی بی سی ورلڈ سروس کے نمائندہ مسٹر سنیل لکسل (Sunil Kuksal) نے ۲۳ ستمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلیفون پر تھا۔ اُن کا سوال یہ تھا کہ انڈیا کے ایک شہر میں ایک نیا دارالافتاء قائم ہوا ہے جس میں مسلم خاتون مفتیہ کا کام کریں گی۔ کیا شریعت میں اس کی جواب میں بتایا گیا کہ عورت کا مفتیہ ہونا شرعی اعتبار سے جائز ہے۔ دورِ اول میں خواتین مفتیہ کا کام کرتی تھیں۔ فتویٰ کے لفظی معنی رائے (opinion) کے ہیں۔ عالم یا عالمہ کو یہ حق ہے کہ وہ کسی شرعی مسئلہ میں اپنے علم کی بنیاد پر رائے دے۔ مفتی یا مفتیہ کی رائے نہ عدالتی فیصلہ ہے اور نہ وہ مقدس ہے۔
۱۲| امن کے قیام کے مقصد کے تحت ایک عالمی ادارہ ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Interreligious and International Federation for World Peace ریور یینٹ مون اس ادارہ کے چیرمین ہیں۔ ۲۹ ستمبر ۲۰۰۳ کی شام کو اس ادارہ کے تحت نئی دہلی
میں انڈیا انٹرنیشنل سینٹر انیکسی) میں ایک سیمینار ہوا۔ اس میں دہلی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اس سیمینار کا موضوع تھا، پرنسپس آف پیس (Principles of Peace)۔ اُس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی۔ اس ذریعہ اظہار خیال انگریزی مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ صدرِ اسلامی مرکز نے قرآن کی آیت (حم السجدہ ۳۴) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو کوئی تم سے بُرا سلوک کرے، تم اُس سے اچھا سلوک کرو۔ پھر تم دیکھو گے کہ جو تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا دوست بن گیا ہے۔ بتایا کہ اس قرآنی آیت کے مطابق، ہر دشمن ہمارا امکانی دوست (potential friend) ہے۔ حاضرین نے اس کو بہت پسند کیا اور کہا کہ ہم کو معلوم نہیں تھا کہ قرآن میں ایسی آیت بھی موجود حاضرین میں زیادہ تر ہندو اور عیسائی اور سکھ حضرات تھے۔
ٹی ٹی این این (Todays News Networks Limited) کی ٹی وی ٹیم ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ کو مسٹر پرویز احمد کی قیادت میں اسلامی مرکز میں آئی۔ اس نے صدرِ اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو سوالات کا تعلق زیادہ تر دو مسئلوں سے تھا۔ حج کے لیے گورنمنٹ کی سبسڈی اور یکساں سول کوڈ کا مسئلہ۔ حج کے معاملہ میں بتایا گیا کہ تمام مسلم ملکوں میں حکومتوں کی طرف سے حج کے لیے سبسڈی دی جاتی ہے اور علماء نے کبھی اس کو غلط نہیں قرار دیا۔ یہی حکم ہندوستان میں گورنمنٹ کی طرف سے دی جانے والی حج سبسڈی کا بھی ہے۔ ہندوستان کی گورنمنٹ کوئی غیر مسلم گورنمنٹ نہیں، وہ ایک نیشنل گورنمنٹ ہے۔ اس میں مسلمان بھی برابر کے شریک ہیں۔ لیے اس معاملہ میں اس کا حکم بھی وہی ہے جو مسلم ملکوں کی حکومتوں کا ہے۔ یکساں سول کوڈ کے بارہ میں بتایا گیا کہ یہ ایک خیالی چیز ہے۔ وہ کوئی قابلِ عمل چیز نہیں۔ اور جو چیز عمل میں آنے والی ہی نہ ہو اس پر اندیشہ کرنے کی کیا ضرورت۔
آچاریہ شری مہا پر جنا پروس ویوستھا کمیتی (سورت) اور جین وشودھیا لے (دہلی) کے اشتراک سے سورت میں ایک کانفرنس ہوئی جس کے خصوصی مہمان صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبد الکلام تھے۔
صدر اسلامی مرکز نے اُس کی دعوت پر اُس میں شرکت کی۔ اس کے بعد احمد آباد کی ایک تنظیم پراٹ کی دعوت پر انہوں نے احمد آباد کا سفر کیا۔ دونوں مقامات پر اُن کے مختلف پروگرام یہ سفر ۱۳ اکتوبر ۲۰۰۳ کو شروع ہوا اور ۱۹ اکتوبر ۲۰۰۳ کو ختم ہوا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ ماہنامہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
نئی دہلی میں کناڈا کے ہائی کمشنر کی رہائش گاہ پر ۲۰ اکتوبر ۲۰۰۳ کو ایک خصوصی اجتماع ہوا۔ کناڈا کے ایک ڈیلی گیشن کی آمد پر ہوا تھا۔ اس ڈیلی گیشن میں کناڈا کے سینئر لیڈر شامل تھے۔ یہ لوگ اپنی ہندوستان آمد کے موقع پر اسلام اور مسلمان کے موضوع پر معلومات حاصل کرنا چاہتے اس مقصد کے لیے انہوں نے صدر اسلامی مرکز کو مدعو کیا۔ یہ دو گھنٹہ کا پروگرام تھا۔ اسلامی مرکز نے اُس میں پہلے موضوع پر ایک تقریر کی اور پھر ڈیلی گیشن کے افراد کے سوالات کا ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ہندوستان میں اس وقت مسلمان ۷۵ مسلم ملکوں سے بھی زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد کسی بھی دوسرے مسلم ملک سے زیادہ ہے۔ یہاں کے مسلمان ہر میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اُن کو ہر قسم کی دینی اور دنیوی ترقی کے لیے کھلے مواقع حاصل ہیں۔ بعض ناخوش گوار واقعات ضرور یہاں ہوئے ہیں مگر اُن کی حیثیت استثناء کی ہے، نہ کہ عموم کی۔
۱۶ انندتا چکر برتی (Anindita Chakrabarti) دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں وہ انڈیا کی مسلم دینی جماعتوں پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ نے اس موضوع پر ۱۲ اکتوبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کے دوران بتایا گیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں جو تحریکیں چل رہی ہیں وہ صرف جُوئِ طور پر دینی تحریکیں ان میں سے کوئی ملت وار تحریک ہے، کوئی سیاست وار تحریک ، کوئی مسائل وار تحریک ہے اور کوئی مسجد وار تحریک۔ حقیقی معنوں میں کوئی بھی اسلام کے احیاء کی تحریک نہیں۔ اناڈوٹیلی ویژن کے رپورٹر مسٹر راجیورنجن سنگھ نے ۲۴ اکتوبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا
ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا تعلق سماجی تعمیر میں عدالت کے کردار سے تھا۔ یہ تھا کہ عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا ہے کہ دیوالی میں رات کو دس بجے کے بعد پٹاخہ نہ چھوڑا جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کے معاملات کی اصلاح قانون کے ذریعہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ سماج میں شعوری بیداری لائے بغیر سماج میں سدھار لایا نہیں جاسکتا۔
۱۸ نئی دہلی کے برٹش ہائی کمیشن میں ۲۸ اکتوبر ۲۰۰۳ کو ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ میں ہندوستان کے دس مذہبوں کے ممتاز نمائندے شریک ہوئے۔ یہ میٹنگ برطانیہ کے پرنس چارلس کی درخواست پر ہوئی جو ان دنوں انڈیا آئے تھے۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اسلام کس طرح پر امن تعمیر کا حامی ہے۔ اس تقریر کے بعد پرنس چارلس نے اُن سے سوال کیا کہ صوفی ازم کا اثر مسلم سماج پر کم کیوں ہے اور جہادی اسلام کا اثر زیادہ کیوں۔ اس کے جواب میں بتایا گیا کہ یہ بات صرف جزوی طور پر صحیح ہے۔ صوفی اسلام کا اثر مسلم سماج میں پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔ حال میں بعض سیاسی اور قومی اسباب سے جہاد کے نام پر کچھ سرگرمیاں ہورہی ہیں۔ مگر یہ اسلامی جہاد نہیں ہے۔ یہ صرف قومی لڑائی ہے۔
۱۹ یروشلم میں قائم شدہ الیجا اسکول (The Elijah School for the Study of Wisdom کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کو ایک دعوت in World Religions UNESCO) اس کے ڈائرکٹر الون گوشین گاٹ سین (Alon Goshen-Gottstein) اس میٹنگ کو الیجا اسکول اور فاؤنڈیشن فار تھری کلچرس آف دی میڈیٹرینین (Foundation for Three Cultures of the Mediterranean) نے آرگنائز اندلوسیا کی گورنمنٹ کے انویٹیشن سے اسپین کے شہر اشبیلیہ (Secille) میں یہ کانفرنس ۱۴-۱۷ دسمبر ۲۰۰۳ کو منعقد ہوئی۔ یہ عالمی مذہبی شخصیتوں کا اجتماع
(Meeting of World Religious Leaders) تھا جس کا موضوع عالمی امن اور مذہبی ہم آہنگی تھا۔ مگر بعض وجوہ سے صدر اسلامی مرکز اس میں شرکت نہ کر سکے۔ تاہم موضوع سے متعلق کچھ ضروری میٹریل انہیں بذریعہ ای میل بھیج دیا گیا۔
۲۰ بہار سے موصولہ ایک خط یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ مرکز تعمیر انسانیت اور مانو تا نر مان کیندر کے تحت تعمیری، اصلاحی اور دعوتی کام اور سرگرمیاں برابر جاری ہیں۔ کچھ ماہ قبل سے آپ کی انگریزی کتاب کا فوٹو کاپی کرا کر اور کچھ اردو کتاب چھپوا کر اور اس کا سٹ تیار کر کے لوگوں کے درمیان برائے مطالعہ مفت تقسیم کر رہا ہوں۔ کتابوں کا یہ سیٹ بنا کر پولیتھن بیگ میں پیک کر کے اردو، ہندی اور انگریزی میں خاص و عام لوگوں کے درمیان مفت میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ’’انسان اپنے آپ کو پہچان‘‘ دو ہزار کاپیاں برائے تقسیم یہاں چھپوائی گئی ہیں۔ اردو، ہندی اور انگریزی میں آپ کی کچھ کتابوں کو ہزار دو ہزار کی تعداد میں چھپوا کر اور آپ کے مضامین کو ہینڈ بل اور فولڈر کی صورت میں چھپوا کر لوگوں میں مفت تقسیم کرنے کا سلسلہ اب جاری رہے گا۔ الرسالہ شمارہ ماہ اکتوبر ۲۰۰۲ میں ’’امن کلچر‘‘ میں سے چار صفحہ کا فولڈر اگلے ماہ میں پانچ ہزار چھپوا کر تقسیم کرنے کا ارادہ ہے۔ اس میں امن کیا ہے، قرآن ایک کتاب امن، اسلام ایک مذہب امن ہے اور— امن اور تشدد میں فرق، تک فولڈر میں رہے گا۔ (عظیم الدین ضیفی، گیا) ۲۱ ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ کو سوئڈن کی راجدھانی میں ایک بڑا اجتماع ہوا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز نے دہلی سے خطاب کیا۔ یہ خطاب ٹیلیفون کے ذریعہ ہوا۔ احادیث اور آثار کی روشنی میں اسٹاک ہام میں مقیم مسلمانوں سے آدھ گھنٹہ خطاب کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق لوگوں نے اس خطاب کو بہت پسند کیا۔
۲۲ دہلی میں قائم شدہ اے آر وائی گولڈ (ریڈیو چینل) کے نمائندہ نے دہلی میں ۲۵ اکتوبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ حج کے بارے میں ہندوستانی حکومت جو سبسڈی دیتی ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا
کہ وہ بالکل جائز ہے۔ تمام مسلم ملکوں میں حاجیوں کو اس قسم کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ طرح ہندوستانی حکومت کی سبسڈی بھی جائز ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
۲۳ سہارا سے (ٹی وی چینل) کی ٹیم نے ۱۳ اکتوبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ٹی وی انٹرویو ریکارڈ انٹرویو پر مستر ضمیر ہاشمی تھے۔ سوالات کا تعلق اسلام کے مختلف موضوعات سے تھا۔ کے سماجی فوائد، اسلام میں جہاد کا حکم، وغیرہ۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں تمام سوالات کے جواب دئے گئے۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ اسلام کی تعلیمات کو صرف ثواب وعذاب کی اصطلاح میں بیان کرنا کافی نہیں۔ علماء کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ جدید ذہن کو سمجھیں اور اسلام کی تعلیمات کو ایسے انداز میں بیان کریں جو آج کے انسان کے لیے قابل فہم ہو۔ جس کو سن کر آج کا انسان یہ سمجھے کہ اسلام موجودہ زمانہ سے بھی اتناہی تعلق رکھتا ہے جتنا کہ وہ پچھلے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ۲۴ جوہانسبرگ میں چینل اسلام انٹرنیشنل کے پروگرام کے تحت صدر اسلامی مرکز نے ۱۵ منٹ کی ایک تقریر یکم نومبر ۲۰۰۳ کو انگریزی میں کی۔ تقریر دہلی سے ٹیلی فون پر کی گئی جسے جوہانسبرگ میں ریڈیو پر نشر کیا گیا۔ اس کا موضوع اسلام اور پیس تھا۔
۲۵ انٹر ریلیجس اور انٹرنیشنل فیڈریشن فار ورلڈ پیس (IIFWP) کے زیر انتظام ایک تین روزہ سیمینار ۹ نومبر ۲۰۰۳) ہوا جس کا موضوع ’’لیڈرشپ‘‘ تھا۔ یہ سیمینار گڑگاؤں کے رزورٹ بسٹ ڈسٹرن کورٹ کنٹری کلب میں منعقد کیا گیا۔ اس کا پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔ دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر مختصر اظہار خیال کیا۔ ۲۶ اے آر وائی گولڈ (ریڈیو چینل) دہلی کے تحت مسٹر پرویز ہاشمی نے ۲۰ نومبر ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو دہلی سے ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر دو موضوع سے رویت ہلال اور جہاد۔ رویت ہلال کے بارے میں بتایا گیا کہ قرآن میں فمن شهد منكم الشهر فليصمه کا لفظ آیا ہے۔ اس سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ رصد گاہ کی شہادت شرعی طور پر معتبر ہے۔ اس کو مان لیا جائے تو تمام نزاع اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ جہاد کے بارے
میں بتایا گیا کہ جہادِ اسلام میں صرف دفاع کے لیے ہے اور اس کا حق صرف باقاعدہ حکومت کو موجودہ زمانہ میں جہاد کے نام سے جو غیر حکومتی سرگرمیاں جاری ہیں ان میں سے کوئی بھی شرعی جہاد نہیں۔
۲۷ واردھا میں قائم شدہ انسٹی ٹیوٹ آف گاندھیئن اسٹڈیز کے تحت مختلف مذاہب کا ایک سیمینار یہ پانچ دن (۲۳۔ ۲۷نومبر ۲۰۰۳) تک جاری رہا۔ اس میں ہر مذہب کے لیے ایک دن خاص کیا گیا تھا۔ ۲۶ دسمبر کا دن اسلام کے لیے مخصوص تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اور ۲۶ دسمبر کے اس پروگرام میں تفصیل کے ساتھ اسلام کا تعارف پیش کیا گیا۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا یہ پروگرام ہوا۔ اس کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
۲۸ اہنسائی وی (نئی دہلی) نے ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اہنسا کے نظریہ سے تھا۔ جوابات میں بتایا گیا کہ اہنسایا عدم تشدد فطرت کا ایک اصول ہے۔ اس دنیا میں پر امن طریق کار کے ذریعہ کام بنتے ہیں اور متشددانہ طریق کار کے ذریعہ کام بگڑ جاتے ہیں۔ اسلام میں تشدد کا استعمال صرف ناگزیر دفاع کے لیے جائز ہے۔ دفاع کے سوا کسی اور مقصد کے لیے تشدد ہرگز جائز نہیں۔ اسلام میں اصل اہمیت امن کی ہے۔ ۲۹ اہنسائی وی (نئی دہلی) کی ٹیم ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو مرکز میں آئی۔ اُس نے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع اہنسا (عدم تشدد) تھا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کی تمام تعلیمات عدم تشدد کے اصول پر مبنی ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت تشدد کو پسند نہیں کرتی۔ اس لیے اسلام میں بھی تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ جارحیت کی صورت میں ناگزیر ضرورت کے طور پر دفاعی جنگ جائز ہے۔ جب پر امن طریق کار کا اصول قابلِ عمل ہو تو ہر گز تشدد کا طریقہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ اسلام میں گوریلا وار، پراکسی وار، اعلان کے بغیر وار اور جارحانہ وار یہ سب سراسر ناجائز ہیں۔