Al-Risala · June 2004

۱۔ عورت نصف انسانیت

Al-Risala, June 2004, pp. 2–3

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ صدیقہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کا ایک سوال کیا گیا تھا۔ اس مسئلہ کا جواب دیتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا: عورتیں بلاشبہ مرد کا شقیقہ ہیں (انما النساء شقائق الرجال) ابوداؤد، کتاب الطہارة، الترمذی، کتاب الطہارة، مسند احمد ۲۵۶/۶۔

شقیق یا شقیقہ عربی زبان میں، کسی چیز کے درمیان سے پھٹے ہوئے دو برابر برابر حصے کو کہتے اسی سے درشقیقہ بولا جاتا ہے۔ یعنی وہ درد جو سر کے آدھے حصہ میں ہو۔ او پر کی روایت میں اسی مفہوم میں عورت کو مرد کا شقیقہ کہا گیا ہے۔ یہ عورت کی حیثیت کی نہایت صحیح تعبیر ہے۔ مطابق ، عورت اور مرد دونوں ایک کُل کے دو برابر برابر اجزاء ہیں۔ اس کُل کا آدھا عورت ہے اور اُس کا آدھا مرد ۔ اس اعتبار سے یہ بات عین درست ہوگی کہ عورت کو نصف انسانیت کا لقب دیا جائے۔ اخلاق کا معیار عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو۔ اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے اچھا ہوں۔ جب تمہارا ساتھی انتقال کر جائے تو تم اُس کے لیے دعا کرو (خير كم خير كم لأهله و أنا خيركم

لأہلی و اذا مات صاحبکم فدعوه ) الترمذی، الدارمی، بحوالہ مشکوٰة المصابیح، جلد ۲، صفحہ ۷۹ (رقم الحدیث ۳۲۵۲)

گھر کی زندگی میں شوہر اور بیوی مستقل طور پر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بار بار ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی ہے۔ غصہ اور نفرت کے جذبات جاگتے ہیں۔ ایسی حالت میں حُسنِ اخلاق کا سب سے بڑا آزمائشی مقام اُس کا اپنا گھر ہے۔ جو مرد اپنے گھر کے اندر بہتر سلوک کا ثبوت دے وہ اخلاقی امتحان میں کامیاب ہو گیا۔ اسی طرح جو عورت اپنے گھر کے اندر حُسنِ سلوک پر قائم رہے اس نے آزمائش میں کامیابی حاصل کی۔ ایسے عورت یا مرد باہر کی زندگی میں بھی کامیاب

گھر کی زندگی میں جب ایک ساتھی کو موت آجائے اور دوسرا ساتھی زندہ رہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ زندہ کے دل میں وفات یافتہ کے بارہ میں غم اور ماتم کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایسے حادثہ کے موقع پر اپنے جذبات کا رخ دعا کی طرف کر دیا جائے۔ جو کچھ دنیا میں کھویا گیا ہے اُس کو آخرت میں پانے کی کوشش کی جائے۔

Printed page