صحیح مسلم، کتاب الرضاع
Al-Risala, June 2004, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کی تقسیم کا عام اصول یہ ہے کہ کسی ایک عورت یا کسی ایک مرد کو ساری خوبیاں نہیں دی بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو ایک خوبی زیادہ ملتی ہے تو دوسری خوبی میں اُس کے ساتھ کمی کر دی مثال کے طور پر ایک عورت کو اگر ظاہری جسمانی خصوصیات میں زیادہ حصہ ملا ہو تو داخلی خصوصیات میں وہ اُس نسبت سے کم ہوگی۔ اسی طرح اگر ایک عورت داخلی سیرت میں زیادہ بڑھی ہوئی ہو تو ظاہری صفات کے اعتبار سے وہ نسبتاً کم ہوگی۔ یہ فطرت کا ایک عام اصول ہے جس میں بہت کم استثناء پایا جاتا ہے۔
مذکورہ حدیثِ رسول میں اسی فطری حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کسی مرد کی بیوی اگر ایسی ہو جو ظاہری صورت کے اعتبار سے زیادہ پرکشش نہ ہو تو اُس کو بد دل ہونے کی ضرورت نہیں۔ فطرت کے قانون پر اعتماد کرتے ہوئے اُس کے اندر یہ یقین ہونا چاہیے کہ اُس کی بیوی سیرت کے اعتبار سے یقینی طور پر زیادہ بہتر ہوگی۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حقیقی زندگی میں صورت کے مقابلہ میں سیرت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔