۵۔ بہتر اخلاق کی پہچان
Al-Risala, June 2004, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومنین میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے۔ اور تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے (اکمل المومنین ایماناً احسنهم خلقاً وخيار كم خيار كم لنسانهم)۔ الترندی، بحوالہ مشکوۃ المصابیح، جلد ۲، صفحہ ۳۷۹ (رقم الحدیث ۳۲۶۴)
یہ حدیث بظاہر مرد کے لیے ہے۔ مگر اپنے توسیعی مفہوم کے اعتبار سے وہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے۔ ایک مرد اور ایک عورت جب شادی شدہ زندگی اختیار کر کے ایک ساتھ رہتے ہیں تو بار بار دونوں کے درمیان اختلاف اور شکایت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں غصہ اور نفرت اور انتقام کے جذبات بھڑکتے ہیں۔ یہ موقع دونوں کے لیے امتحان کا موقع ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر دونوں صبر اور تحمل کا طریقہ اختیار کر کے اپنے آپ کو اللہ کی نظر میں زیادہ بہتر مرد اور زیادہ بہتر عورت ثابت کر سکتے ہیں۔ وہ صحیح اسلامی رویہ اختیار کر کے خدا کے یہاں اپنا درجہ بلند کر سکتے ہیں۔ بہتر خاتون کون ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ عورتوں میں سب سے بہتر عورت کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ عورت کہ مرد جب اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے۔ جب کسی کام کے لیے کہے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنے نفس اور اپنے مال میں وہ مرد کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کرے (عن ابی هريرة قال : سئل رسول الله ﷺ اى النساء خير قال : الذى تسره اذا نظر وتطيعه اذا أمر و لا تخالفه فيما يكره في نفسها وماله)۔ مسند احمد، جلد ۲، صفحہ ۲۵۱ یہ حدیث اپنے توسیعی مفہوم کے اعتبار سے عورت اور مرد دونوں کے لیے ہے۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے زندگی کے ساتھی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ہر معاملہ میں ایک دوسرے کے راز داں ہیں۔ زندگی کا کاروبار چلانے کے لیے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔
دوسرے کے لیے ایک گاڑی کے دوپہیے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایسی حالت میں انسانیت کا تقاضا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے سچے رفیق ثابت وہ ایک دوسرے کو خوش رکھنے کا اہتمام کریں۔ وہ ایک دوسرے کی رعایت کرنے والے ہوں۔ وہ غیر موجودگی میں بھی ایک دوسرے کے خیر خواہ بنے رہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے وہ کریں جو رفیق حیات کی حیثیت سے اصولی طور پر انہیں ایک دوسرے کے لیے کرنا چاہیے۔ عورت سرمایۂ حیات عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی ہر چیز سامان ہے۔ اور دنیا کا سب سے اچھا سامان نیک عورت ہے (عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدنيا كلها متاع، وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة) صحیح مسلم، بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح، جلد ۲، صفحہ ۷۹۲ (رقم الحدیث ۳۰۸۳) عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے زندہ متاع یا زندہ سرمایۂ حیات کی حیثیت رکھتے دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شوہر اور بیوی کی صورت میں دونوں کو جو سرمایہ ملتا ہے وہ دوسری تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔
یہ حقیقت اگر دونوں کے دل میں بیٹھ جائے تو عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرنے والے بن جائیں گے۔ دونوں یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ وہ ایک دوسرے کو نظر انداز کرنے کا تحمل نہیں کر سکتے۔ دونوں کا یہ خیال ہو جائے گا کہ انہوں نے اگر ایک دوسرے کی قدر نہ کی تو خود ان کی اپنی زندگی ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ دونوں ایک دوسرے کو اس طرح اپنی ضرورت سمجھیں گے جس کی تلافی کسی اور صورت میں ممکن نہیں۔