Al-Risala · June 2004

سنن ابی داؤد، کتاب الزکاة

Al-Risala, June 2004, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

اس حدیث میں عورت کی جو صفات بتائی گئی ہیں وہ کوئی سادہ صفات نہیں ہیں۔ اس حدیث کو پوری طرح اُس وقت سمجھا جاسکتا ہے جب کہ اُس کو اُس کے ظاہری الفاظ سے اوپر اُٹھ کر دیکھا جب کہ اُس کو زندگی کے زیادہ گہرے پہلوؤں کے ساتھ جوڑ کر سمجھا جائے۔ مرد کے لیے عورت صرف اس کی گھریلو ساتھی نہیں ہے بلکہ وہ اُس کے لیے سب سے بڑے خزانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ کوئی ہو جو سوچنے کے عمل میں اُس کے ساتھ شیئر (share) کرسکے۔ جو پورے معنوں میں اس کا فکری رفیق (intellectual partner) بن جائے ۔ عورت کسی مرد کی اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ اُس کی ایک قابل اعتماد ذہنی رفیق ہے۔ کسی مرد کی بیوی ہی اس کی وہ ساتھی ہے جو اُس کو ہر صبح وشام حاصل رہتی ہے۔

مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی رفیقہ حیات کو اس اعتبار سے تیار کرے۔ تعلیم و تربیت کے ذریعہ وہ عورت کو اس قابل بنائے کہ وہ حقیقی معنوں میں اپنے شوہر کی ذہنی رفیق (intellectual partner) اس قسم کی ذہنی رفاقت کے جو فائدے ہیں انہی میں سے کچھ فائدوں کا ذکر علامتی طور پر مذکورہ حدیث میں کیا گیا ہے۔

Printed page