۹۔ زندگی کی مددگار
Al-Risala, June 2004, pp. 7–10
By Maulana Wahiduddin Khan
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع
کرتے ہیں ان کے لیے وعید ہے تو بعض صحابہ نے کہا کہ اگر ہم یہ جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو لیتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل چیز خدا کی یاد کرنے والی زبان ہے۔ اور خدا کا شکر کرنے والا دل ہے۔ اور مومن بیوی ہے جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرے (عن ثوبان قال لما نزلت (والذین یکنزون الذہب والفضة) کنا مع النبي ﷺ فی بعض اسفاره فقال بعض اصحابه نزلت فی الذهب والفضة لو علمنا ای المال خیر فنتخذه. فقال افضله لسان ذاکر و قلب شاکر و زوجة مؤمنة تعنيه علی ایمانه۔
احمد ، الترمذی ، ابن ماجہ، بحوالہ مشکوۃ المصابیح ، جلد ۲، صفحہ ۱۰۴۷ (رقم الحدیث ۲۷۷۷) مادی دولت صرف دنیا کی عارضی زندگی میں کچھ راحت دے سکتی ہے۔ مگر ذکر اور شکر اور ایمان کی دولت وہ دولت ہے جو آخرت کی ابدی زندگی میں زیادہ بڑی راحت کا ذریعہ بنے گی۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا کو یاد کرے، اس کا ذہن خدا کی سوچ میں لگا رہے۔ شکر یہ ہے کہ آدمی خدا کی نعمتوں کا گہرا احساس ہو جائے۔ وہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ خدا کے انعامات کا اعتراف کرنے ایمان سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ خدا کی شعوری دریافت کے نتیجہ میں آدمی کے اندر جو عقیدہ بنتا ہے اُسی کا نام ایمان ہے۔
کسی مرد کے لیے عورت ان پہلوؤں سے سب سے بڑی مددگار ہے۔ مرد اور عورت اپنی روزانہ کی زندگی میں جب ایک دوسرے سے فکری تبادلہ (intellectual exchange) کرتے ہیں تو دونوں کو اس سے یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ خدا کی یاد کا گہرا روحانی تجربہ کرتے ہیں۔ وہ خدا کے عطیات کا تذکرہ کر کے ایک دوسرے کے اندر شکر کے جذبات کو بڑھاتے ہیں۔ وہ خدا کی ذات وصفات میں باہمی غور وفکر کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں دونوں کی معرفت (realization) میں اضافہ ہوتا ہے۔ قابل اعتماد ساتھی ابو امامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے تقویٰ کے بعد سب سے بہتر چیز جو ایک مومن پاتا ہے وہ نیک بیوی ہے۔ اگر وہ اس کو کوئی حکم دے تو
وہ اس کی اطاعت کرے ۔ اور اگر وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کردے اور اگر وہ اس پر قسم کھا لے تو وہ اس کو پورا کرے اور اگر وہ اس سے غائب ہو تو وہ اپنے نفس اور اُس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے (عن ابی امامة عن النبی ﷺ انه يقول : ما استفاد المؤمن بعد تقوى الله خيراً له من زوجة صالحة ان امرها اطاعته و ان نظر اليها سرّته و ان أقسم عليه ابرّته و ان غاب عنها نصحته فى نفسها و ماله ) ۔
ابن ماجه ، بحواله مشکوة المصابیح ، جلد ۲ ، صفحه ۹۳۰ (رقم الحدیث ۳۰۹۵) یہ بات اپنے وسیع تر مفہوم میں عورت اور مرد دونوں کے اوپر منطبق ہوتی ہے۔ دوسرے کے لیے بہترین جوڑا اُسی وقت بن سکتے ہیں جب کہ دونوں اپنے اندر مذکورہ صفات پیدا
مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے تکملہ (complement) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے وجود کو مکمل کرتا ہے ۔ عورت کے بغیر مرد کی زندگی نامکمل ہے اور اسی طرح مرد کے بغیر عورت کی زندگی نامکمل ہے۔
عورت اور مرد دونوں اپنی زندگی کا یہ فریضہ صرف اس طرح ادا نہیں کر سکتے کہ وہ نکاح کر کے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں منسلک ہو جائیں ۔ اس کے ساتھ اُنہیں ایک اور کام کرنا اس اعتبار سے وہ اپنے شعور کو بیدار کریں۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دونوں اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کریں۔ دونوں کے لیے اُن کا گھر ایسا مدرسہ بن جائے جس میں شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے ٹیچر بھی ہوں اور اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اسٹوڈنٹ بھی۔ اس دوسرے پہلو سے دونوں کے درمیان رشتہ کی مضبوطی ان کی ازدواجی زندگی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ حدیث کے یہ الفاظ بے حد اہم ہیں کہ وہ اس کے مال میں خیر خواہی کرے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہترین عورت وہ ہے جو گھر کی آمدنی کو صحیح طور پر خرچ کرے ۔ مال (money management) میں پوری طرح اپنے شوہر کی مددگار ہو۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مال دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے قیام کا ذریعہ ہے (النساء ۵) مال کا بہترین استعمال یہ ہے کہ اس کو حقیقی ضرورت کی مد میں خرچ کیا جائے۔ مال کے معاملہ میں فضول خرچی کرنا اتنا برا کام ہے کہ جو مرد اور عورت ایسا کریں ان کو قرآن میں شیطان کا بھائی اور بہن بتایا گیا ہے (الاسراء ۲۷)
مال کے معاملہ میں فضول خرچی کا تعلق عورتوں سے بہت زیادہ ہے۔ قرآن کے مطابق، عورت اپنے مزاج کے اعتبار سے تزئین اور نمائش جیسی چیزوں کو بہت زیادہ پسند کرتی ہے (الزخرف ۱۸) اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھروں میں تقریبات اور فرنیچر اور کپڑے اور دوسری مدوں میں مال کا جو غیر ضروری خرچ ہوتا ہے وہ زیادہ تر عورتوں کے ذوق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مال کا صحیح خرچ اور اس کا غلط خرچ دونوں کا انحصار زیادہ تر عورت کے اوپر ہوتا ہے۔
اس بات کو مثبت انداز میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی گھر کی کامیابی کا راز سادگی کلچر میں ہے، اور سادگی کلچر کا معاملہ تمام تر عورت کے اوپر منحصر ہوتا ہے۔ سادگی بظاہر ایک معمولی چیز ہے مگر عملی اعتبار سے دیکھیے تو وہ زندگی کی اہم ترین قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ جہاں سادگی ہوگی وہاں ہر دوسری چیز اپنے آپ موجود ہوگی۔ کسی نے بہتر زندگی کا فارمولا درست طور پر ان الفاظ میں پیش کیا سادہ زندگی اور اونچی سوچ: