Al-Risala · June 2004

Simple living, high thinking

Al-Risala, June 2004, pp. 10–12

By Maulana Wahiduddin Khan

سادگی اور اونچی سوچ دونوں ایک دوسرے سے لازمی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ سادگی ہوگی وہاں اونچی سوچ ہوگی۔ اور جہاں اونچی سوچ ہوگی وہاں سادگی بھی ضرور پائی جائے سادگی کا مطلب ہے، حقیقی ضرورت اور غیر حقیقی ضرورت میں فرق کرنا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ غیر حقیقی ضرورت کو اپنی ضرورت سمجھ لینا اور اسی کے لیے مال خرچ کرنا ایک ایسی بری عادت ہے جو آدمی کے اندر ذہنی ارتقاء (intellectual development) کے عمل کو روک دیتی ہے۔ کے برعکس غیر حقیقی ضرورت کو نظر انداز کرنا اور صرف حقیقی ضرورت پر اپنا مال خرچ کرنا آدمی کو یہ

موقع دیتا ہے کہ وہ ذہنی ترقی کے عمل میں مصروف ہو۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ فضول خرچی اور اعلیٰ انسانیت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ انسانیت کے لیے سادہ زندگی ضروری ہے۔

کسی گھر کو سادگی کے اصول پر چلانا صرف عورت کا کام ہے۔ عورت اگر صرف یہی ایک کام کرے کہ مال کے حسن انتظام کے ذریعہ وہ گھر کے اندر سادگی کلچر کورائج کر دے تو یہ اتنا بڑا کام ہوگا کہ اس ایک کارنامہ کی بنا پر اس کو معمار انسانیت کا لقب دیا جا سکتا ہے۔ سادگی با اصول زندگی کی علامت ہے۔ اسی طرح انتظام مال(money management) منصوبہ بند زندگی کی علامت ۔ جو لوگ ایسا کریں وہ گویا زندگی میں ترجیحات (priorities) کو جانتے انہوں نے بے مقصد زندگی کا طریقہ چھوڑ کر با مقصد زندگی کے طریقہ کو اختیار کیا۔ حیوانی سطح کی زندگی سے اوپر اٹھ کر انسانی سطح کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا میں بھی خدا کا انعام ملتا ہے اور آخرت میں بھی وہ خدا کے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔ الفاظ میں وہ حسنات دنیا کے بھی حصہ دار ہیں اور حسنات آخرت کے بھی حصہ دار۔ زندگی کی عظیم نعمت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چیزیں ہیں جن کو وہ دی گئیں تو اس کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائی دے دی گئی۔ شکر کرنے والا دل اور ذکر کرنے والی زبان اور مصیبتوں پر صبر کرنے والا بدن اور ایسی بیوی جس کے نفس اور اپنے مال میں اس کو کوئی ڈر نہ ہو(عن ابن عباس ان رسول الله ﷺ قال: اربع من أعطيهن فقد اعطى خير الدنيا والآخرة قلب شاكر ولسان ذاكر و بدن على البلاء صابر و زوجة لا تبغيه خوفا في نفسها ولا مالـه)

البيهقى ، بحوالہ مشکوٰة المصابيح، جلد ۲، صفحہ ۷۲۹ (رقم الحدیث ۳۲۷۳) ایسی بیوی جس کے نفس اور اپنے مال میں اس کو کوئی ڈر نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی

بیوی جس کے اوپر آدمی کو پورا اعتماد ہو ۔ یہ اعتماد ہمیشہ دوطرفہ ہوتا ہے۔ جب شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کو آخری حد تک اپنا سمجھ لیں تو اُس وقت دونوں کے درمیان غیریت کا فرق بالکل مٹ جاتا دونوں ایک دوسرے کو اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ جیسے کہ دونوں کے درمیان ”میں اور وہ“ کا فرق مٹ گیا ہو۔ دونوں کی شخصیت ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک زندہ کل بن گئی ہو۔ عورت اور بیوی کے درمیان اپنا پن کا یہی ماحول دونوں کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ جب دونوں کے درمیان اس طرح کا تعلق قائم ہو جائے تو دونوں یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ دنیا میں وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ گویا پوری انسانیت اُن کے ساتھ ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ میرے باہر کا پورا عالم میرے ساتھ زندگی کے سفر میں شریک ہو گیا ہے۔ یہ احساس دونوں کے اندر اتنا زیادہ حوصلہ پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے بعد انہیں کوئی بھی چیز نا ممکن نظر نہیں آتی۔

عورت کسی مرد کے لیے سب کچھ اُس وقت بنتی ہے جب کہ وہ محسوس کرے کہ مرد بھی اُس کے لیے اُس کا سب کچھ بن گیا ہے۔ باہمی اعتماد کا یہ معاملہ بلا شبہ دو طرفہ ہے۔ فطری قوانین کے تحت یہ معاملہ یک طرفہ طور پر قائم نہیں ہو سکتا۔

Printed page