Al-Risala · June 2004

۱۲۔ رعایت کا معاملہ

Al-Risala, June 2004, pp. 12–14

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ کیوں کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھ اس کے اوپر کے حصہ میں اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو تو تم اس کو توڑ دو گے اور اگر تم اس کو چھوڑ دو تو وہ ویسی ہی رہے پس تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری نصیحت قبول کرو (عن ابی هریرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : استوصوا بالنساء خيراً فان المرأة خلقت من ضلع وانَّ اعوج شيء في الضلع اعلاه فان ذهبت تقيمه كسرته وان تركته لم يزل اعوج

صحيح البخاري، بحواله مشكوة المصابيح، جلد ۲، صفحه ۹۷ (رقم الحدیث ۳۲۳۸)

اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ خاتونِ اول حوا کے طریق تخلیق کے بارے میں نہیں۔ بلکہ وہ عورت کے عام مزاج کو بتاتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پسلی کی ہڈی کسی قدر ٹیڑھی ہوتی ہے۔ کا ٹیڑھا ہونا اس کا نقص نہیں ہے بلکہ یہی اس کی موزونیت ہے۔ پسلی کی ہڈی کو اگر آپریشن کر کے سیدھا کر دیا جائے تو وہ جسم انسانی میں اپنی کارکردگی کو صحیح طور پر ادا نہ کر سکے گی۔ ایک اور روایت میں یہ لفظ ہے کہ المرأۃ کا لضلع (عورت پسلی کی ہڈی کی مانند ہے)۔ تمثیل کی زبان ہے۔ اور یہ تمثیل دراصل عورت کی ایک صفت کو بتانے کے لیے ہے۔ اور وہ یہ کہ عورت نسبتاً جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ مرد کے مقابلہ میں عورت کو کسی قدر جذباتی اس لیے بنایا گیا ہے کہ چیزوں سے اس کو ایک جذباتی تعلق ہو جائے اور اس بنا پر وہ اپنی مخصوص ذمہ داریوں کو بہتر طور پر ادا اسی مخصوص مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ عورت کو اپنے بچہ کے ساتھ انتہائی جذباتی تعلق ہوتا ہے۔ اگر یہ جذباتی تعلق نہ ہو تو عورت اپنے بچہ کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکے۔ فطرت انسانی کا تقاضا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمہاری دنیا کی چیزوں میں سے خوشبو اور عورتیں محبوب بنائی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے (حبب الی من دنیاکم الطيب والنساء وجعلت قرة عيني في الصلوة)

احمد، النسائی، بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح، جلد ۳، صفحہ ۱۴۴۸ (رقم الحدیث ۵۲۶۱) اس حدیث میں ضمیر متکلم کے اسلوب میں دراصل انسانی فطرت کو بتایا گیا ہے۔ اندر فطری طور پر یہ مزاج ہے کہ وہ اپنے زوج (جوڑے) کی طرف خصوصی میلان رکھتا ہے۔ جوڑے کو اپنا تکمیلی حصہ سمجھتا ہے۔ اس کا پورا وجود محسوس کرتا ہے کہ اس جوڑے کے بغیر اس کی ہستی مکمل یہ فطرت کی تخلیق کا ایک حصہ ہے۔ اس کا تعلق ہر انسان سے ہے۔

مرد اور عورت دونوں کو مل کر دنیا میں جو کام کرنا ہے وہ بے حد صبر آزما کام ہے۔ پر مشقت جدوجہد ہے۔ اس پر مشقت جدوجہد کو خوشگوار بنانے کے لیے عورت اور مرد کے اندر ایک

دوسرے کے لیے محبت رکھ دی گئی ہے۔ یہی الفت اور محبت کسی انسانی سماج کو مستحکم سماج بناتی ہے۔ اجتماعی زندگی میں الفت اور محبت کی حقیقت چپکانے والے مادہ (adhesive) کی ہے۔ اگر یہ الفت اور محبت ختم ہو جائے تو خاندان اور سماج دونوں انتشار کا شکار ہو کر رہ جائیں۔ سب سے افضل متاع پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں (اتقوا الله في النساء ليس من متاع الدنيا شیٔ افضل من المرأة الصالحة)

Printed page