سنن ابی داؤد، کتاب الادب
Al-Risala, June 2004, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
عام مزاج یہ ہے کہ اگر کسی باپ کے یہاں کئی لڑکیاں ہوں اور کوئی لڑکا نہ ہو تو وہ لڑکیوں کو بے قدر کر دیتا ہے۔ اس حدیث میں اسی ذہن کی تردید کی گئی ہے۔ کسی باپ کے یہاں لڑکا پیدا ہو یا لڑکی، دونوں حالتوں میں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دے۔ وہ اُن کو ایسی تربیت دے جو اُن کے لیے زندگی گذارنے میں مددگار بنے۔
باپ کا رجحان اکثر اپنی اولاد کے لیے یہ ہوتا ہے کہ وہ اُن کے لیے زندگی کی راحتیں فراہم وہ کما کر اُنہیں زیادہ سے زیادہ مال دے سکے۔ مگر یہ نظریہ درست نہیں۔ اولاد کے لیے باپ کا سب سے بہتر عطیہ مال نہیں ہے بلکہ تعلیم ہے۔ باپ کا کمایا ہوا مال اولاد کے لیے بلا محنت کی کمائی (easy money) کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا مال اکثر آدمی کو خراب کر دیتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی اپنی اولاد کو تعلیم دے۔ اور اس طرح انہیں اس قابل بنائے کہ وہ خود محنت کر کے زیادہ بہتر طور پر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔