Al-Risala · June 2004

۱۸۔ بے سہارا لڑکیوں کی خدمت

Al-Risala, June 2004, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

سراقہ بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ افضل صدقہ کیا ہے۔ تمہاری لڑکی جو (بیوگی یا طلاق کی وجہ سے) تمہاری طرف لوٹادی جائے۔ سوا کوئی اس کے لیے کمانے والا نہ ہو (عن سراقة بن مالك ان النبي ﷺ قال: الا ادلكم على افضل الصدقة ابنتك مردودة اليك ليس لها كاسب غيرك )

سنن ابن ماجہ، بحوالہ مشکوۃ المصابیح، جلد ۳، صفحہ ۱۳۹۳ (رقم الحدیث ۵۰۰۲)

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت طلاق کی وجہ سے یا بیوہ ہو جانے کی وجہ سے اپنے سسرال میں نہیں رہ سکتی اور وہاں سے واپس ہو کر اپنے باپ کے پاس آجاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسی عورت سماج میں بے سہارا بن جاتی ہے۔ لیکن اس کا بے سہارا ہونا اس کے والدین کے لیے اخلاقی خدمت کا ایک اعلیٰ موقع عطا کرتا ہے۔ اگر اس کے والدین ایسی خاتون کو دوبارہ قبول کر لیں، اُس کے لیے نئی زندگی کے مواقع تلاش کریں، اُس کو پھر سے سماج کا ایک باعزت ممبر بنانے کی کوشش کریں، اُس کو از سر نو ایک کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بنائیں تو اُن کا یہ عمل خدا کے یہاں ایک عظیم عمل شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اس عمل کی بنا پر آخرت کی دنیا میں خدا کے عظیم تر انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔

Printed page