19۔ نجات کا ذریعہ
Al-Risala, June 2004, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
عائشہ صدیقہ کی ایک طویل روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ جس شخص کو لڑکیوں کے ذریعہ کچھ آزمائے پھر وہ اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لیے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہوں گی (من ابتلی من البنات بشئ فاحسن اليهن كن له سترا من النار) فتح الباری لابن حجر العسقلانی، جلد ۳، صفحہ ۴۳۴ (رقم الحدیث ۱۴۱۸)
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی سبب سے ایک لڑکی اپنے والدین کے لیے سرمایہ (asset) کے بجائے بوجھ (liability) محسوس ہونے لگتی ہے۔ مگر اسلام کی تعلیم کے مطابق، ایسی لڑکی اپنے ماں باپ کے لیے ایک اور پہلو سے بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ والدین کے لیے آخرت کے زیادہ بڑے انعامات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
تاہم یہ بات اتنی سادہ نہیں۔ یہ دراصل عُسر میں یسر کی ایک صورت ہے۔ والدین اگر ایسی لڑکی کے لیے اچھی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں اور اُس کو زندگی کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل بنائیں تو عین ممکن ہے کہ وہ لڑکی ہو کر اپنے خاندان کے لیے ایک نعمت بن جائے۔ اُس کے ذریعہ سے خاندان میں مثبت طرزِ فکر پروان چڑھے۔ اُس کے ذریعہ سے گھر میں تعمیری ماحول پیدا ہو۔
لڑکی اپنے خاندان کی ایک صحت مند ممبر بن کر خاندان کی ترقی کا ذریعہ ہے۔
اس قسم کا کام ابتدائی طور پر اگر چہ اخروی انعام کے جذبہ کے تحت شروع کیا جاتا ہے مگر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ خود دنیا کی تعمیر کا بہترین ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے خاندان کے لیے مفید ہوتا ہے، دین کے اعتبار سے بھی اور دنیا کے اعتبار سے بھی۔