Al-Risala · June 2004

عيون الاخبار لابن قتيبة، جزء ا، صفحه ۲۷

Al-Risala, June 2004, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ اُسوۃ محدود معنوں میں نہیں ہے۔ وہ وسیع معنوں میں ہے۔ اُس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ کسی کو مشیر کا درجہ دینا اس کو ایک با عزت درجہ دینا ہے۔ میں عورت کو مشیر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی تعلیم و تربیت اس نہج پر کی جائے کہ وہ معاملات میں مشورہ دینے کے قابل ہو سکے۔ مشورہ لینے میں مشورہ دینے کے قابل بنانا اپنے آپ شامل ہے۔ اعتبار سے دیکھا جائے تو کوئی عورت (یا مرد) اپنے آپ مشیر نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اُس کی تعلیم و تربیت اُس کے مطابق ہو۔

اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کا مذکورہ اُسوہ اپنے اندر ایک مکمل تصور حیات لیے ہوئے ہے۔ اِس کے اندر سماج کا ایک ایسا نقشہ نظر آتا ہے جس میں تعلیم و تربیت کے اعتبار سے ایسی سرگرمیاں جاری ہوں جو عورتوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ سماج کا ایک صحت مند حصہ بن سکیں۔ وہ اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اس قابل ہوں کہ معاملات میں صحیح مشورہ دیں۔ وہ کسی معاملہ میں بحث و تبادلہ (discussion) کے وقت اپنا مفید کردار ادا کر سکیں۔

Printed page