سوچنے کا طریقہ
Al-Risala, June 2004, pp. 19–24
By Maulana Wahiduddin Khan
ماہنامہ الفرقان (لکھنؤ) کے شمارہ اپریل ۲۰۰۴ میں ایک رپورٹ چھپی ہے جس کا عنوان یہ ہے: ’’ادارہ الفرقان کی زندگی کا ایک یادگار دن‘‘۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۲۲۷ فروری ۲۰۰۴ کو ندوہ (لکھنؤ) کے شبلی ہال میں ایک جلسہ ہوا جس میں علماء اور طلباء بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مولانا محمد منظور نعمانی کے درسِ قرآن کی اشاعت کے سلسلہ میں تشکر اور تعارف کے موضوع پر ہوا تھا۔ اس جلسہ کے صدر مولاناسید رابع حسنی ندوی تھے۔ اس روداد کے مرتب مولانا خلیل الرحمن سجاد اس جلسہ کے موقع پر شبلی ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ اس میں مختلف علماء نے تقریریں کیں۔ ان مقررین میں سے ایک ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی تھے۔ وہ دینی تعلیمی کونسل کے جنرل سکریٹری ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک ان کا ذاتی مشاہدہ تھا۔ ان کی تقریر کے اس حصہ کو الفرقان سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی نے، مولانا محمد منظور نعمانی کے طرز کلام کی خصوصیات اور ان کی تقریروں کا جو غیر معمولی اثر سننے والوں پر پڑا کرتا تھا، اس پر روشنی ڈالتے ہوئے ۱۹۵۳ میں بستی کے ایک اجلاس میں، جس میں بڑی تعداد میں غیر مسلم خواص بھی مدعو کیے گئے تھے، توحید کے موضوع پر ان کی ایک تقریر کا ذکر، بطور مثال کیا اور کہا کہ اس تقریر کے سننے والوں میں انٹر کالج میں ہندی کے ایک لکچرر جناب گنیش پرشاد سر یواستوا صاحب بھی تھے۔ تقریر سن کر وہ چلے گئے اور رات بھر روتے رہے۔ دوسرے دن صبح کو ایک مخصوص نشست رکھی گئی تھی اس میں بھی وہ آئے۔ مولانا نعمانی کی ان پر نظر پڑی۔ مولانا نے ان کو اپنے پاس بلا دونوں میں تعارف ہوا اور پھر ہم لوگوں نے دیکھا کہ گنیش پرشاد سر یواستوا اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے، وہ زار و قطار رونے لگے۔ ہم نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ مولانا! کی تقریر آپ نے توحید کے موضوع پر کی ہے۔ اگر اس کا سلسلہ ہندوستان میں شروع ہو جائے
تو کم از کم ہم جیسے لوگ تو اسلام سے بہت قریب آجائیں گے۔ بعد میں بستی میں یہ بھی مشہور ہوا کہ عمر کے آخری حصے میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، واللہ اعلم۔ بہر حال عجیب و غریب اثر رکھا تھا اللہ نے مولانا محمد منظور نعمانی کی تقریر اور تحریر میں۔ ‘‘ (صفحہ ۱۵) مذکورہ واقعہ پچاس سال سے بھی زیادہ پہلے ۱۹۵۳ میں پیش آیا۔ یہ واقعہ ہندوستان میں عظیم دعوتی امکان کو بتا رہا تھا۔ اس اعتبار سے اس میں علماء کے لیے یہ اہم رہنمائی موجود تھی کہ اس ملک میں انہیں کیا کرنا چاہیے۔ اُس وقت ملک میں بڑے بڑے علماء موجود تھے مگر اس پہلو سے کچھ بھی نہ کیا اس کا سبب سوچنے کا ایک غلط طریقہ تھا۔ جیسا کہ اقتباس سے واضح ہے، لوگوں نے اس واقعہ کو صرف مقرر کی شخصی تعریف کے معنی میں لیا۔ وہ یہ سوچ کر خوش ہو گئے کہ ہمارے فلاں عالم عجیب و غریب قسم کی تقریر کرتے ہیں۔ اُن کی تقریر میں سحر انگیز اثر پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں سوچنے کا دوسرا زیادہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ اُس کو دعوتی امکان کے پہلو سے لیا یعنی یہ کہ اس ملک میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو دینِ حق کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر اُس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد ہندوستان کے بڑے بڑے علماء کا ایک جلسہ کسی مرکزی شہر میں اس جلسہ میں یہ بتایا جاتا کہ واقعات کی روشنی میں ضروری ہو گیا ہے کہ ہندوستان میں دینی کام کے لیے ہم اپنے پورے نقشہ کو بدل دیں۔ اب یہاں کام کا نیا منصوبہ بنایا جائے۔ اس جلسہ میں بتایا جاتا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کرو، اس کے بعد ہی دوسروں میں دعوت کا کام کیا جاسکتا ہے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اعلان کریں کہ ہم غلطی پر تھے۔ مسلمانوں کی موجودہ اخلاقی حالت ہی میں یہاں دعوت کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں جن کو ہمیں استعمال کرنا چاہیے۔ اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پہلے مکمل اسلامی نظام قائم کر کے دکھاؤ، اس کے بعد ہی دوسرے لوگ اسلام کی طرف راغب ہوں گے، ایسے لوگوں کی سوچ بھی سرتا سر غلط ہے۔ کہ واقعات بتاتے ہیں کہ ’’مکمل اسلامی نظام‘‘ کے نفاذ سے پہلے ہی خدا کے بندے اسلام کو اپنانے کے لیے تیار ہیں۔ اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس ملک کا اکثریتی طبقہ اسلام کا دشمن بن چکا ہے، وہ
ہمارا حریف ہے، نہ کہ مدعو، ایسے لوگوں کو بھی کھلے طور پر ماننا چاہیے کہ یہ سوچ بالکل غلط تھی۔ کے اکثریتی فرقے کے اندر آج بھی اسلام کے لیے نرم گوشہ موجود ہے جس کو ہم حکمت کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔
اسی طرح ہندوستان میں بہت سے مسلمان ہیں جو آزادی (۱۹۴۷) کے بعد طرح طرح کے ناموں سے جزئی مقاصد کے لیے جماعتیں اور تنظیمیں بنائے ہوئے ہیں۔ ان سب کو کھلے طور پر یہ اعلان کرنا چاہیے کہ ہماری سوچ درست نہ تھی۔ اسلام کا سب سے بڑا کام دعوتی کام ہے۔ دعوتی کام کے روشن امکانات موجود ہوں تو ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر اپنی ساری طاقت دعوت کے محاذ پر لگادی جائے۔
اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ۱۹۴۷ کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کا جان و مال محفوظ نہیں، ان کی دینی اور ملی شناخت کو مٹایا جا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو بھی یہ کھلا اعلان کرنا چاہیے کہ مفروضہ یا غیر مفروضہ خطرہ کے باوجود اس ملک میں اسلام پوری طرح محفوظ ہے اور ہمارے لیے یہ امکان موجود ہے کہ ہم اسلام کے پیغام کو لے کر آگے بڑھیں اور پھر یقینی طور پر یہاں وہ منظر دکھائی دے گا جس کو قرآں میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فاذا الذی بینك و بينه عداوة كانه ولي حميم۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس کے بعد ان میں سے کوئی بھی کام نہ ہو سکا۔ کسی اعلان کرنے والے نے اس قسم کا اعلان نہیں کیا۔ ۱۹۵۳ کے بعد سے اب تک سینکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کے بڑے بڑے جلسے ہوئے۔ ان جلسوں میں پر جوش الفاظ میں یہ کہا گیا کہ اس ملک میں اسلام خطرہ میں مگر کسی بھی جلسہ میں مسلم رہنماؤں نے یہ زیادہ اہم بات نہیں بتائی کہ تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں اسلام پیش قدمی کی پوزیشن میں ہے۔ حتیٰ کہ یہاں کے باشندے اس فارسی شعر کا
همه آہوان صحرا سر خود نهاده بر کف به امید آن که روزے بہ شکار خواہی آمد یہ فرق کیوں ہوا۔ یہ سوچ میں فرق کا نتیجہ تھا۔ اصل یہ ہے کہ سوچنے کے دو طریقے بالکل الگ
ایک ہے، فخر کے جذبہ کے تحت سوچنا اور دوسرا ہے، دعوت کے جذبہ کے تحت سوچنا۔ جذبہ کے تحت سوچنے والوں کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیت کا کمال بتا کر مطمئن ہو جائیں اور اس کو بیان کر کے اپنے آپ کو خوش کرتے رہیں۔ سوچ کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو دعوتی مقصد پر مبنی ہو۔ ایسے لوگ اس قسم کے معاملہ کو دعوتی امکان کے روپ میں لیں گے۔ وہ اس میں اپنے لیے مستقبل کا نقشہ کا ر دریافت کر لیں گے۔ سوچ انہیں یہ بتائے گی کہ جب زیادہ دور رس کام کے مواقع ہوں تو چھوٹے چھوٹے کاموں میں وقت ضائع کرنا نادانی ہے۔ جب اسلام دلوں کو فتح کرنے کی پوزیشن میں ہو تو چھوٹی چھوٹی شکایتوں کو لے کر احتجاجی مہم چلانا صرف دیوانگی ہے۔ جب دین اسلام کے لیے نیا مستقبل پیدا کرنے کا موقع ہو تو شخصی کمال کو لے کر خوش ہونا اس شعر کا مصداق ہے کہ: تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے: دی اسپرچول میسج، فی کاپی 15/- روپے، سالانہ 165/- روپے خط و کتابت کا پتہ ہے:
The Spiritual Message, 302, Koldongri CHS Sahar Road, Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 2834 1654/28346079/2821 8609, Fax: 2823 6323
ماہنامہ جامع نور دہلی کا سوالنامہ برائے جہاد نمبر قرآن و احادیث کی روشنی میں نظریہ جہاد کی وضاحت فرمائیں۔
مختلف ملکوں میں جو تنظیمیں جہاد کے نام پر جدوجہد کر رہی ہیں ان سے جزوی یا کلی طور پر آپ کہاں تک متفق ہیں۔
جہادی جدوجہد کے تحت عام شہریوں کو جو نشانہ بنایا جا رہا ہے کیا یہ عمل اسلامی نظریہ جہاد سے ہم آہنگ ہے۔
کیا جہاد کے نام پر اسلام خودکش حملے کی اجازت دیتا ہے۔
استعماری قوت سے اپنی آزادی یا اپنی تہذیب وثقافت کے تحفظ یا مسلم ممالک کے قدرتی وسائل کو استحصال سے بچانے کے لیے یا باطل قوتوں کی ناانصافیوں اور ظلم و تغلب کے خلاف جو تنظیمیں جہاد کے نام پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ان کے نتائج اب تک کتنے مثبت اور کتنے
جن مقاصد کے حصول و تحفظ کے لیے جہادی تنظیموں نے جو طریقے اپنائے، کیا ان مقاصد کے حصول کے لیے یہی ایک راہ ہے۔ یا دوسرے طریقے بھی اپنائے جاسکتے ہیں۔ حکم جہاد کے نفاذ اور اس کو عملی طور پر شروع کرنے کے لیے کسی امام، خلیفہ یا قائد کے تعین کا اسلامی طریقہ کیا ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔
جہاد کو غلط طور پر پیش کر کے مسلمانوں کے خلاف عالمی پیمانے پر جو سازشیں رچی جارہی ہیں اور ان پر ہر طرح کے ظلم اور نا انصافی کو روا رکھا جا رہا ہے اس کا دفاع کس طرح ممکن ہے۔ مستشرقین اور یورپ کے منصوبہ سازوں نے اسلام کے پاکیزہ نظریہ جہاد کے خلاف امت مسلمہ کے دانشوروں اور نئی نسلوں کو ذہنی طور پر جو متاثر کیا ہے اس کی صفائی کس طرح ہو سکتی ہے۔ اگر کسی جگہ اپنی شرائط کے پیش نظر جہاد صحیح ہو تو اس کے نفاذ کی ذمہ داری عوام پر عائد
ہوتی ہے یا اسلامی مملکتوں کے سربراہوں پر۔ اگر جہاد کے نام پر شروع کی گئی سرگرمیاں صحیح نہ ہوں تو مملکتوں کے سربراہوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
سماجی سطح پر ہندستان میں مدارسِ اسلامیہ کا فکری رجحان کیا رہا ہے۔
اب تک ہندستان کے مدارس میں دہشت گردی کی فکری یا عملی تعلیمات کا کوئی ثبوت نہ ملنے کے باوجود ملکی سطح پر کچھ حلقے سے مدارسِ اسلامیہ پر مسلسل دہشت گردی کے فروغ کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، آخر اس کے اسباب وعوامل کیا ہو سکتے ہیں اور اس ڈھٹائی کے پیچھے ان کے کیا مقاصد پنہاں ہیں۔
مدارسِ اسلامیہ کو اپنے وقار کے تحفظ اور ان سازشوں کے نتائج سے بچنے کے لیے کیا