Al-Risala · June 2004

جوابات

Al-Risala, June 2004, pp. 24–30

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن اور حدیث میں جہاد کا لفظ اصلاً پر امن جدوجہد کے لیے آیا ہے۔ جہاں تک مسلح جنگ کا تعلق ہے، اس کے لیے قرآن اور حدیث میں قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جہاد کا لفظ اگر کہیں جنگ کے معنی میں استعمال ہوا ہے تو وہ اس لفظ کا ایک تو وسیع مفہوم ہے، نہ کہ اس کا اصل مفہوم۔ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے جہاد (بمعنیٰ قتال) کا عمل جو آج کل مختلف مسلم گروہوں کی طرف سے جاری ہے وہ بلاشبہہ غیر اسلامی ہے۔ یہ سب جہاد کے نام پر فساد کا عمل ہے۔ جہاد (بمعنیٰ قتال) سرتاسر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کے لیے پر امن دعوت ہے نہ کہ

عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانا کسی حال میں جائز نہیں، حتیٰ کہ کسی مسلم حکومت کے تحت ہونے والے جائز جہاد میں بھی نہیں۔ جائز جہاد میں بھی صرف مقاتل پر وار کیا جاسکتا ہے، غیر مقاتل پر وار کرنے کی گنجائش اسلام کے اصولِ جنگ میں نہیں ہے۔

خودکشی یا خودکش حملہ کرنا یقینی طور پر حرام ہے۔ جہاد کا نام دینے سے کوئی حرام کبھی حلال نہیں

موجودہ زمانہ کے نام نہاد مجاہدین مختلف مقامات پر خودکش بمباری (suicide bombing) کر رہے ہیں وہ بلاشبہ حرام ہے۔ خودکشی کسی بھی عذر کی بنا پر اسلام میں جائز نہیں۔ مزید یہ کہ یہ خودکش بمباری عام طور پر غیر مقاتلین (non-combatants) کے اوپر کی جاتی ہے۔ سافٹ ٹارگٹ (soft target) سمجھے جاتے ہیں۔ یہ دوسرا پہلو اس حرمت کو اور بھی زیادہ سنگین بنا اس کے نتیجہ میں اسلام کی جو بدنامی ہو رہی ہے وہ تمام نقصانات میں سب سے زیادہ بڑا

پانچویں سوال میں جن مقاصد کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی بھی مقصد کے لیے غیر حکومتی تنظیموں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مفروضہ دشمن کے خلاف مسلح جہاد چھیڑ دیں۔ ان مقاصد کے نام پر موجودہ زمانہ میں جو مسلح جہاد کیا گیا وہ ایک غیر اسلامی فعل تھا یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کی نصرت حاصل نہ کر سکا۔ اور اس بنا پر وہ اپنے مقصد کے حصول میں مکمل طور پر نا کام رہا۔ چھٹے سوال میں جن مقاصد کا ذکر ہے ان کے حصول کی تدبیر صرف ایک ہے اور وہ پر امن تشدد پر مبنی جدوجہد کے ذریعہ ان مقاصد کا حصول سرے سے ممکن ہی نہیں، جیسا کہ عملاً

ان مقاصد کے لیے موجودہ زمانہ میں جو کوششیں کی گئی ہیں وہ زیادہ تر جہاد یا ٹکراؤ کے اصول پر مگر موجودہ دنیا میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ دوطرفہ ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات کے ساتھ خارجی حالات کا بے لاگ جائزہ لیں۔ خارجی حالات کی رعایت کرنے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہماری کوشش کامیاب ہو سکے۔ موجودہ قسم کی جہادی سرگرمیوں میں یہ خارجی رعایت مفقود ہے۔ جب تک یہ صورت حال باقی رہے گی، ہماری کوششیں ناکامی کے سوا کسی اور انجام تک نہیں پہنچ سکتیں۔

جہاد دراصل ایک پر امن جدوجہد ہے جو گہری منصوبہ بندی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ جہاد کی عملی طور پر دو قسمیں ہو سکتی ہیں۔ ایک ہے، کھوئے ہوئے پر جہاد اور دوسرا ہے، ملے ہوئے پر جہاد۔

مطالعہ کے مطابق، موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کے درمیان جہاد کے نام پر بے شمار ہنگامے جاری مگر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جہاد کے نام پر کی جانے والی یہ تمام سرگرمیاں کھوئے ہوئے جہاد کے ہم معنی تھیں نہ کہ ملے ہوئے پر جہاد کے ہم معنی۔

امیر کا بل کے تعاون سے شاہ ولی اللہ کا جہاد، سلطان ٹیپو کا جہاد، شہیدین کا جہاد، علماء دیوبند کا جہاد، علی برادران کا احیاء خلافت کے نام پر جہاد۔ قیام پاکستان کے لیے جہاد، آر ایس ایس کے خلاف جہاد، بابری مسجد کے لیے جہاد، وغیرہ وغیرہ، سب کے سب کھوئے ہوئے پر جہاد کی صورتیں ہیں۔ لیے یہ تمام جہادی قربانیاں حبط اعمال کا شکار ہوگئیں۔

یہی معاملہ دیگر مقامات پر کیے جانے والے جہاد کا ہے۔ مثلاً فلسطین کا جہاد، بوسنیا کا جہاد، چیچنیا کا جہاد، فلپائن کا جہاد، اراکان کا جہاد، کشمیر کا جہاد وغیرہ، سب کے سب کھوئے ہوئے پر جہاد کے ہم معنی تھا۔ اس لیے امت کو ان کے ذریعہ تباہی کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوا۔ میرے علم کے مطابق، اس پوری مدت میں پوری مسلم دنیا میں جہاد کے نام پر کیا جانے والا کوئی بھی عمل ایسا نہیں جس کو ملے ہوئے پر جہاد کا نام دیا جاسکے۔

اس معاملہ میں اب اصل ضرورت پورے معاملہ پر نظر ثانی (reassessment) کی ہے، نہ یہ کہ اپنی ناکامی کو دوسروں کے خانہ میں ڈال کر مفروضہ دشمنوں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم چلائی زندگی کی ایک سنگین حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کو اپنی غلطی کی قیمت خود بھگتنی پڑتی ہے، ایک کی غلطی کی قیمت کوئی دوسرا شخص کبھی بھگتنے والا نہیں۔ یہ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی الف ب ہے، اور عجیب بات ہے کہ ساری مسلم دنیا کے مسلم رہنماؤں میں غالباً کوئی ایک شخص نہیں جو اس حقیقت کو شعوری طور پر جانتا ہو، خواہ وہ عربی داں مسلمان ہو یا انگریزی داں مسلمان۔ اسلام میں جہاد (بمعنیٰ قتال) کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ برائے دفاع ہے۔ دفاع کے سوا کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے جنگ چھیڑنا اسلام میں جائز نہیں۔ اور دفاع کی یہ جنگ اعلان کی لازمی شرط کے ساتھ صرف ایک قائم شدہ مسلم حکومت ہی کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام

میں گوریلا جنگ، پراکسی جنگ، جارحانہ جنگ، بلا اعلان جنگ سب ناجائز ہیں۔

آٹھویں سوال کے بارے میں کہوں گا کہ اس کے دفاع کی صورت صرف ایک ، اور وہ یہ کہ مسلمان خود اپنی طرف سے ان تمام پرتشدد سرگرمیوں کو یکسر بند کر دیں جو موجودہ زمانہ میں جہاد کے نام پر چل رہی ہیں۔ مذکورہ مسئلہ صرف مسلمانوں کے خود ساختہ جہاد کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس خود ساختہ جہاد کے ختم ہوتے ہی مذکورہ مسئلہ بھی اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اسلام کے پاکیزہ نظریہ جہاد کو داغ دار کرنے والے خود مسلمان ہیں۔ یہ دراصل مسلمان ہیں جنہوں نے اسلامی جہاد کی تصویر کو اپنی غلط روش سے بگاڑا ہے۔ اس مسئلہ کا حل بھی یہی ہے کہ مسلمان اپنی غلط روش کو بند کر دیں۔ اس کے بعد دوسروں کو کسی سازش کا موقع ہی نہ ملے۔ میرے نزدیک موجودہ زمانہ میں کسی بھی مقام پر جہاد بمعنٰی قتال) کی شرائط پوری نہیں ہو رہی ہیں۔ اور اگر بالفرض کسی مقام پر یہ شرائط پوری ہو رہی ہوں تب بھی غیر حکومتی تنظیموں کے لیے جہاد کرنا ہرگز جائز نہیں۔ کسی کے نزدیک اگر مسلم حکومتیں اپنا فرض پورا نہ کر رہی ہوں تب بھی اس عذر کو لے کر کسی کے لیے بطور خود جہاد چھیڑ دینا جائز نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں عام مسلمانوں کے لیے صبر ہے نہ کہ خود سے جنگ چھیڑنا۔

قرآن کے مطابق، جہاد وہ ہے جو فی سبیل اللہ ہو۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمان جو جہاد کر رہے ہیں وہ سب کا سب فی سبیل القوم ہے۔ وہ منفی جذبہ کے تحت کیا جانے والا عمل ہے نہ کہ مثبت جذبہ کے تحت کیا جانے والا عمل۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ جہاد نہیں ہے بلکہ فساد ہے۔ سماجی مسائل کے بارے میں مدارس اسلامیہ کا بظاہر کوئی فکری رول براہ راست طور پر نہیں اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے کہ مدارس اسلامیہ کے سامنے شعوری طور پر سماجی فلاح کا کوئی نقشہ تاہم اس سلسلہ میں بالواسطہ طور پر ان کی خدمات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً فتاویٰ کے مساجد میں خطبات جمعہ، عوامی جلسہ میں خطاب، مختلف تقریبات کے دوران اساتذہ اور طلبہ کا عوام سے انٹرایکشن، شادی بیاہ جیسی رسموں میں شرکت کے دوران وعظ و نصیحت اور رسالوں

کے ذریعہ تعلیم و نصیحت، وغیرہ۔ سماجی اعتبار سے ایک مستقل کام سوشل سروس ہے۔ مگر مدارس میں غالباً سوشل سروس کا کوئی باقاعدہ تصور موجود نہیں۔

یہ صحیح ہے کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم و تربیت نہیں دی جاتی۔ اسی اعتبار سے مدارس پر الزام لگانا غلط ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ صحیح ہے کہ مدارس کے نظام میں عین وہی ذہن بنتا ہے جس کو جہادی ذہن کہا جاتا ہے۔ مدارس کے لوگوں کو امت مسلمہ کے مسائل کے سلسلہ میں پر امن عمل کا کوئی شعور نہیں۔ وہ دور جدید کے اس امکان سے بے خبر ہیں کہ ہر میدان میں حصہ داری(sharing) کے اصول پر کام کیا جانا چاہیے۔ مدارس کے لوگ اب تک شعوری یا غیر شعوری طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ غیر مسلم لوگ کافر ہیں۔ غیر مسلم ممالک دارالکفر یا دارالحرب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور سازش میں مشغول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کی طرف سے اب تک جہاد کے نام پر متشددانہ سرگرمیوں کی کھلی مذمت نہیں کی گئی اور نہ یہ اعلان کیا گیا کہ یہ سرگرمیاں جہاد نہیں بلکہ فساد ہیں۔ ایسی حالت میں مدارس کو اس معاملہ میں مکمل طور پر بے قصور نہیں کہا جاسکتا۔

میرے نزدیک سازش کا تصور محض ایک مفروضہ ہے۔ اسی طرح وقار کے تحفظ کا سوال بھی ایک فرضی سوال ہے۔ اس کا سادہ سا ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۷۳ء کے بعد ہر مدرسہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ اگر مذکورہ مفروضہ درست ہوتا تو مدارس کی یہ ترقیاں ہرگز ممکن نہ ہوتیں۔ اس معاملہ میں مدارس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ سازش کے فرضی وہم سے باہر آ جائیں اور معتدل ذہن کے تحت اپنا

مدارس اسلامی تعلیم کا مرکز ہیں۔ اسلامی تعلیم اپنے آپ میں پرکشش ہے۔ وہ یہ طاقت رکھتی ہے کہ خود اپنے زور پر انسان کو اپنا گرویدہ بنا سکے۔ ایسی حالت میں موجودہ زمانہ میں مدارس کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں وہ اصلاً خود مدارس کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس کمی کا ایک سبب یہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کے لوگ اپنی روایات کے تحت بند ماحول میں رہتے ہیں۔ وہ خارجی دنیا سے

اختلاط نہیں کرتے۔ اس بنا پر ان کا حال یہ ہو گیا ہے کہ وہ نہ آج کی دنیا کو جانتے ہیں اور نہ جدید حالات کے مطابق اپنے ذہن کو تیار کرتے۔ اس علیحدگی پسندی کی بنا پر ان کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حقیقی حل صرف یہ ہے کہ مدارس کے ماحول کو بدلا جائے۔ اور قدیم کے ساتھ جدید کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔

مدارس کو یا امت مسلمہ کو موجودہ زمانہ میں جو مسائل درپیش ہیں ان کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ان کا سبب دراصل اس بنیادی خامی تک جاتا ہے کہ مدارس میں جو سوچ دی جاتی ہے وہ بجائے خود اسی فکری خامی کے نتیجہ میں وہ تمام چیزیں پیدا ہوئی ہیں جن کو مسائل کا نام دیا جاتا ہے۔ مسائل کا لفظ بظاہر خارجی اسباب کی طرف اشارہ کرتا ہے حالانکہ ہمارے مسائل تمام تر داخلی اسباب کا

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ملت کے موضوع پر ہزاروں کتابیں شائع ہوئی عرب دنیا کے امیر شکیب ارسلان کی کتاب لما ذا تأخر المسلمون و تقدم غيرهم اور برصغیر ہند کے مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين जैसी بے شمار کتابیں مختلف زبانوں میں چھپی ہیں۔ ان سب کا مشترک انداز یہ ہے کہ ان میں مسلمانوں کے مسئلہ کا مطالعہ عروج اور زوال کی اصطلاحوں میں کیا گیا ہے۔

مطالعہ کا یہ طریقہ بلا شبہ غیر قرآنی ہے۔ قرآن کے مطابق، عروج اور زوال دونوں اضافی قرآن کے نزدیک دونوں حالتیں ابتلاء کی حالتیں ہیں۔ یہ دونوں ہی کسی قوم کے لیے امتحان (test) کے پرچے ہیں۔ خدا کبھی کسی قوم کو غالب کرتا ہے اور کبھی اُس کو مغلوب کر دیتا ہے۔ صورتوں میں یہ دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ قوم جب کسی حالت میں مبتلا ہوئی تو اِس نے کس قسم کا رسپانس (۷ مارچ ۲۰۰۳)

ہر من روبنگھ (Herman Robongh) ایک برطانی اسکالر ہیں۔ آج کل وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تحت ریسرچ کر رہے ہیں۔ اُن کی ریسرچ کا موضوع مولانا حمید الدین فراہی کا اصول تفسیر ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز سے ملے اور مذکورہ موضوع پر تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مولانا حمید الدین فراہی نے بعض پہلوؤں سے قرآن کی خدمت کی ہے مگر اُن کا یہ کہنا کہ نظم قرآن قرآن فہمی کی اصل کلید ہے، قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ یہ تصور نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہوتا ہے، نہ صحابہ کے اقوال سے اور نہ مفسرین کے اصولِ تفسیر میں وہ ملتا ہے۔ مولانا فراہی کی یہ اجتہادی غلطی ہے کہ اُنہوں نے قرآن فہمی کے سلسلہ میں ایک جزئی پہلو کو کلی اہمیت دے دی۔

دہلی پیس سمٹ (Delhi Peace Summit) کی طرف سے نئی دہلی میں چنمیا مشن کے آڈیٹوریم میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس میں انڈیا کے علاوہ باہر کے ملکوں کے لوگ شریک ہوئے ۔ اُس کا موضوع انٹرفیـتھ ڈائیلاگ تھا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس کے ۸ دسمبر ۲۰۰۳ کے سیشن میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ مختلف مذاہب کے درمیان اختلافات ہیں۔ فارمولا اسلام کی روشنی میں یہ ہے کہ ــــ ایک کی پیروی کرو اور بقیہ کا احترام کرو: Follow one and respect all. اگر بالفرض دو مذہبوں کے درمیان کسی وجہ سے ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جائے تو اُس کو ہمیشہ امن کے دائرہ میں ہونا چاہئے۔ اُس کو کسی بھی حال میں یا کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ نہیں اختیار اس کانفرنس کی کارروائی پوری کی پوری انگریزی زبان میں ہوئی۔ چنمیا مشن آڈیٹوریم (نئی دہلی) میں ۱۸-۲۱ دسمبر کو ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا موضوع

Printed page