Al-Risala · June 2004

Religions in the Indic Civilisation

Al-Risala, June 2004, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کانفرنس سنٹر فار دی اسٹڈی آف ڈولپنگ سوسائٹیز، انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار دی ہسٹری آف ریلیجنز اور انڈیا انٹرنیشنل سنٹر کے تعاون سے کی گئی۔ ۲۱ دسمبر کے سشن میں اس کا موضوع تھا: مختلف مذاہب میں خدا کا تصور۔ اس سشن میں صدر اسلامی مرکز کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ پروگرام کے مطابق، انہوں نے گاڈ ان اسلام (God in Islam) کے موضوع پر نصف گھنٹہ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتایا گیا کہ خدا کا تصور اسلام میں کیا ہے۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔ اس کانفرنس میں انڈیا اور باہر کے تقریباً ۵۰۰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ خواہش مند افراد کو انگریزی کتابیں برائے مطالعہ دی گئیں۔

۴ رام کرشنا مشن (نئی دہلی) میں ۲۶ دسمبر ۲۰۰۳ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اُس کا موضوع تھا: انٹر ریلیجس فیلوشپ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور وہاں اسلام کے نقطہ نظر سے مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اُس کی تمام تعلیمات امن اور انسانیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ وحدیث کے دوسرے حوالوں کے علاوہ انہوں نے ایک مسنون دعا سنائی اور اس کا انگریزی ترجمہ بتایا جس کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ وہ دعا یہ ہے: اللهم انت السلام و منك السلام واليك يرجع السلام. حيّنا ربنا بالسلام و ادخلنا دارك دار السلام. تباركت ربنا وتعاليت يا ذا الجلال والاكرام۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔ ۵ ای ٹی وی (.Enadu T. V) کے اسٹوڈیو (Noida) میں ۲۸ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ٹی وی انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ یہ آدھ گھنٹہ کے لیے تھا۔ اُس میں سوال وجواب کی صورت میں ”حج کی حقیقت“ کے موضوع پر اظہار خیال کیا گیا۔ آخر میں ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حج کے سلسلہ میں گورنمنٹ کی سبسڈی میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ تمام مسلم ملکوں میں

حاجیوں کو سفر حج پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ علماء نے اس کو درست مانا ہے۔ اس طرح سبسڈی موجودہ زمانہ میں ایک عُرف بن چکی ہے۔ اس عُرف کے مطابق، انڈیا کی گورنمنٹ اگر حاجیوں کو سبسڈی دیتی ہے تو یہ بھی اُسی طرح درست ہے جس طرح مسلم ملکوں میں سبسڈی درست مزید بتایا گیا کہ ہندوستان کی حکومت غیر مسلم حکومت نہیں ہے وہ ایک قومی حکومت ہے۔ انڈیا کے مسلمان یکساں بنیاد پر اس قومی اور جمہوری حکومت میں شریک ہیں۔ ہندی روزنامہ دینک بھاسکر (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر جیند ر کمار چودھری نے ۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس میں ہندو۔ مسلم تعلقات اور انڈیا اور پاکستان کے تعلق کے حوالہ سے بہت سے موضوعات زیر بحث آئے۔ اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ برصغیر ہند میں پچھلے سو سال کے اندر کوئی بھی صحیح معنوں میں تعمیری لیڈر پیدا نہیں ہوا جو مثبت معنوں میں کوئی گہرا کام کرے۔ آج ہم اسی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ بات ہندو اور مسلمان دونوں کے لیے درست ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ علم کو صرف علم کے روپ میں دیکھنا چاہئے، علم کو ہندو اور مسلمان بنانا درست نہیں۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ ہندو یونیورسٹی اور مسلم یونیورسٹی دونوں سے ہندو اور مسلم کا لفظ نکال دیا جائے اور اِس کو صرف بنارس یونیورسٹی اور علیگڑھ یونیورسٹی کہا جائے۔

بی بی سی لندن (bbc.co.uk) کی طرف سے مسٹر طفیل احمد کے دستخط سے ایک خط مورخہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۳ صدر اسلامی مرکز کے نام ملا۔ اس میں ایک مضمون کی فرمائش کی گئی تھی جس کو وہ بی بی سی لندن کے ویب سائٹ پر شائع کریں گے۔ یہ مضمون انگریزی میں ایک ہزار لفظ میں اُس کا عنوان یہ تھا:

Printed page